خدمات جامعہ کے تسلسل کی ایک کڑی
خدمات جامعہ کے تسلسل کی ایک کڑی

الحمد للہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی !
گزشتہ سال اکتوبر میں کشمیر اور شمالی علاقہ جات میں پاکستان کی تاریخ کا شدید ترین زلزلہ آیا، جس سے ہزاروں افراد متاثر ہوئے، چشم زدن میں شہروں کے شہر اور بستیوں کی بستیاں ملبہ کا ڈھیر بن گئیں‘ جیتے جاگتے اور ہنستے بستے گھرانے اپنے ہی راحت کدوں میں دب کر پیوند خاک ہوگئے‘ زندہ بچ جانے والوں میں سے ہزاروں ایسے تھے جو اپنے قیمتی اعضا سے محروم ہوگئے اور کتنے ایسے تھے جو ملبے تلے دبے چیختے‘ چلاتے‘ روتے، بلبلاتے اور مدد کو پکارتے پکارتے عالم آخرت کو سدھار گئے، جو زندہ سلامت بچ گئے ‘ ان میں سے کتنے اپنے پیاروں کی جدائی اور اس جانکاہ حادثہ کی وجہ سے اپنے ہوش وحواس سے محروم ہوگئے‘ کتنے ماں باپ اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے پیاروں اور دل کے ٹکڑوں کو موت کے منہ میں جاتا دیکھ کربے بس تھے۔ کتنی معصوم کلیاں اور معصوم وعفت مآب بیٹیاں اپنے والدین اور سرپرستوں سے محروم ہوگئیں، کتنے مرد وخواتین اپنے رفیق ِحیات وجیون ساتھی سے محروم ہوگئے۔ غرض قیامت کا سماں تھا اور ہرایک اپنی جان بچانے کی فکرمیں تھا‘ بلاشبہ اس نازک ومشکل گھڑی میں کون ایسا ہوگا جو اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کو نہ جاتا ؟ چنانچہ پاکستان بھر کے نہیں‘ دنیا بھر کے لوگوں نے انسانیت کے ناتے اس سانحہ پر متأثرین کی دامے ،درمے، قدمے، سخنے بھر پور مدد کی، اورامدادی کا رروائیاں شروع ہوگئیں۔
اس موقع پر جہاں دنیا بھر کی غیر مسلم این جی اوز نے اپنے مخصوص مقاصد کی تکمیل کی خاطر ان علاقوں کا رخ کیا‘ وہاں مسلم برادری‘ خصوصاً دین دار مسلمانوں‘ اہلِ ثروت، اربابِ مدارس، دینی طلبہ اور علمأ نے اپنے بھائیوں کی مدد کے لئے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، یہی وجہ ہے کہ غیر ملکی تنظیموں اور میڈیا نے اس کا برملا اعتراف کیا کہ پاکستان کی دینی تنظیموں ‘ دین دار طبقہ، علمأ اور اربابِ مدارس نے اس موقع پر بے مثال قربانی اور خدمت وتعاون کے جذبہ کا ثبوت دیا، لیکن افسوس ! کہ اسلام دشمن اور علمأ مخالف طبقہ نے ایسے نازک موقع پر بھی نہ صرف یہ کہ دینی طبقہ کو اپنے مسلمان بھائیوں کی خدمت سے باز رکھنے کی ناپاک کوشش کی، بلکہ اس کے مقابلہ میں غیر مسلم این جی اوز کی حوصلہ افزائی کی، مگر بایں ہمہ یہ حضرات اپنے ایمانی جذبہ کے پیش نظر خدمت وخیرخواہی میں مصروف رہے۔ صدر پاکستان جناب جنرل پرویز مشرف کے بقول:” بلاشبہ پاکستان کے دینی مدارس ملک کی سب سے بڑی این جی اوز ہیں، جو دس لاکھ مسلمان بچوں کو روزانہ رہائش وخوراک مہیا کرتے ہیں“ صرف یہی نہیں ،بلکہ ان کی علمی وعملی تربیت کرکے معاشرہ کا اچھا شہری بنانے کی سعی میں مصروف ہیں‘ انہی دینی مدارس یا بقول صدر صاحب! این جی اوز میں سے جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن ایک موقر نام ہے، جو نہ صرف اسلامی تعلیمات کی یونیورسٹی اور انسان سازی کا عالمی ادارہ ہے ،بلکہ درحقیقت ایک تحریک کا نام ہے‘ جس کی دینی ‘ علمی‘ اصلاحی‘اور تبلیغی خدمات کے علاوہ، سماجی ورفاہی خدمات کی بھی دنیا معترف ہے‘ چنانچہ اس موقع پربھی جامعہ علوم اسلامیہ کے فضلاء‘ طلبہ‘ اور جواں عزم وجواں ہمت اساتذہ نے بے مثال خدمات انجام دیں ،اور اپنے متاثرہ بھائیوں کی خدمت میں براہ راست پہنچ کر ان کی ہرطرح کی مدد کی‘ امدادی کیمپ لگائے‘ نقد‘ غذائی اجناس‘ لباس وخوراک کے علاوہ ان کی آباد کاری کی ہر ممکن کوشش کی‘ دور دراز متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا‘ اپنے بھائیوں کے دکھ درد میں شریک ہوئے، اور جذبہ نصح وخیرخواہی کی مثالی تاریخ رقم کی، اس سلسلہ کی کسی قدر تفصیلات مولانا صلاح الدین (فاضل جامعہ علوم اسلامیہ ومتعلم درجہ تخصص فی الفقہ الاسلامی سال دوم) کے قلم سے اسی شمارہ میں الگ ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔
جامعہ علوم اسلامیہ کی خدمات کے اسی تسلسل کی ایک کڑی یہ بھی ہے کہ جامعہ کے مدیر اور سراپا شفقت حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر‘جامعہ کے جواں عزم وجواں ہمت اساتذہ‘ فضلاء اور جامعہ سے منسلک اہلِ خیر حضرات نے طے کیا کہ ان متاثرہ علاقوں کے لٹے پٹے خاندانوں‘ بے یار ومدد گار خواتین وحضرات کی عزت وعصمت کے تحفظ کی خاطر ان کی بھر پور سرپرستی کی جائے، اور انہیں نکاح جیسے پاکیزہ رشتہ میں منسلک کرنے اور ان کے نکاح کے مصارف واخراجات کا انتظام کیا جائے ،تاکہ جس طرح انہوں نے جانکاہ حادثہ اور اجتماعی درد والم کا سامنا کیا، ٹھیک اسی طرح انہیں ایک اجتماعی خوشی سے بھی سرشار کیا جائے‘ جب مدیرِ جامعہ کی سرپرستی میں جامعہ کے اساتذہ نے متاثرہ علاقوں کے جامعہ کے فضلاء کو اس طرف متوجہ کیا، توانہوں نے مقامی طور پر اس طرف توجہ کی‘ تو ایسے ڈیڑھ سو جوڑوں کی فہرست تیار ہوگئی جو جامعہ کی سرپرستی کے منتظر تھے ‘ چنانچہ جامعہ کی طرف سے اس کا نظم طے ہوا، حسبِ ضرورت سامان اور جہیز تیارکیا گیا، اور مقررہ تاریخ: ۴/ جون ۲۰۰۶ء بروز اتوار‘ صوبہ سرحد‘ بمقام بٹل‘ جامعہ کے مدیر‘ نائب مدیراور معزز اساتذہ اس پر وقار تقریب کی سرپرستی کے لئے اپنے ستم رسیدہ بھائیوں کی دل داری کو پہنچے اور مدیرِ جامعہ نے اجتماعی طورپر ان جوڑوں کا نکاح پڑھایا ،اس موقع پر مدیر جامعہ حضرت مولا نا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندرمدظلہ نے رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے والوں‘ ان کے سرپرستوں اور تقریب کے شرکاء سے جو قیمتی نصائح فرما ئیں، وہ درج ذیل ہیں:
”اللہ تعالیٰ نے کائنات کو بسانے کے لئے انسانِ اول(حضرت آدم) اور پھر ان سے حضرت حوا کو پیدا فرمایا اور قیامت تک نسلِ انسانی کو باقی رکھنے کے لئے انسان کو مرد وعورت (دوجنسوں) میں تقسیم کرکے آسمانی تعلیمات کے نور سے منور ازدواجی نظام عطا فرمایا‘ جو نسلِ انسانی کو پاکیزہ طریقہ سے قیامت تک باقی رکھنے اور پھیلانے کا ذریعہ ہے‘ یہ اسلام ہی کے انصاف کا ثمرہ ہے جو عورت کو نسلِ انسانی کی عمارت کے لئے مرد کے برابر دوسرا ستون تسلیم کرتاہے‘ نسلِ انسانی کی عمارت مرد وعورت کے دو ستونوں پر قائم ہے‘ اسلام نے چودہ سو سال پہلے بتایا کہ عورت‘ مرد کا جزو ہے۔
آج مرد وعورت کی مساوات کے دعویدار‘ نسوانی حقوق کے علمبردار اپنی تاریخ کا ذرا جائزہ تو لیں‘ ان کی پارلیمنٹ میں باقاعدہ یہ بحث چلی کہ عورت ہے کیا؟ بڑی مشکل سے کچھ عرصہ قبل یہ لوگ عورت کو انسان تسلیم کرنے پر آمادہ ہوئے اور یہ مان لیا کہ عورت بھی انسان ہے۔
اسلام میں عورت کو ایک باعزت مقام حاصل ہے اوراسلام نے نکاح کی صورت میں انسانی خواہش کو جائز طریقہ سے پورا کرنے کا ایک راستہ بتادیااور فرمایا :
”فمن ابتغی وراء ذلک فاولئک ہم العادون“ ۔(المعارج :۳۱)
یعنی نکاح کے علاوہ جنسی خواہش کو پورا کرنے کے جتنے بھی راستے ہیں‘ وہ سب بربادی اور فساد کے راستے ہیں۔نکاح کی برکت سے خیر کے بے شمار دروازے کھلتے ہیں‘ یہی وجہ ہے کہ آج ہم سب کی نسل محفوظ ہے اورہمیں فلاں بن فلاں کا خطاب دیا جاتاہے‘ حدیث شریف میں ہے:
”ما من ولد بار ینظر الی والدیہ نظرة رحمة الا کتب اللہ لہ بکل نظرة حجة مبرورة۔ قالوا وان نظر کل یوم مائة مرة؟ قال نعم! اللہ اکبر واطیب“۔ (مشکوٰة:۴۲۱)
ترجمہ:․․․” ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے والا جو بھی اپنے ماں باپ میں سے کسی کو محبت واحترام کی نظر سے دیکھتا ہے‘ اللہ تعالیٰ اس کی ہرنظر کے بدلے ایک مقبول (نفلی) حج کا ثواب عطا فرماتا ہے‘ صحابہ کرام  نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگرچہ وہ دن بھر میں سو مرتبہ دیکھے‘ حضور ا نے فرمایا: ہاں! اللہ بہت بڑا اور پاکیزہ ہے( یعنی تمہارے گمان میں جو بات ہے کہ ہرنظر کے بدلے ایک مقبول نفلی حج کا ثواب کیونکر دیا جاتاہے‘ تو یہ اجر وانعام اللہ تعالیٰ کی شان اور اس کی وسعتِ رحمت کی نسبت کچھ بعید نہیں‘ وہ اگر چاہے تو اس سے بڑا اجر عطا کرسکتاہے)“۔
اسلام کی بنیادی تعلیمات میں صلہ رحمی کا درس موجود ہے‘ ابتدائے اسلام میں جب مسلمانوں کی ایک جماعت ہجرت کرکے حبشہ پہنچی تو مشرکینِ مکہ کا ایک وفد حبشہ کے بادشاہ کے دربار میں پہنچا اور بادشاہ کو مسلمانوں کے خلاف اکساناچاہا‘ تاکہ وہ مسلمانوں کو ان کے ساتھ واپس مکہ بھیج دے‘ بادشاہ نے مسلمانوں کو دربار میں حاضر ہونے کا حکم دیا‘ جب مسلمانوں کی جماعت دربار میں حاضر ہوئی تو حضرت جعفر  نے دربار میں بادشاہ کے سامنے اسلام کا نقشہ پیش کیا اور کہا : اے بادشاہ! ہم سب جاہل اور نادان تھے‘ بتوں کو پوجتے اور مردار کھاتے تھے‘ قسم وقسم کی برائیوں میں مبتلا تھے‘ قرابتوں کو قطع کرتے ‘ پڑوسیوں کے ساتھ بدسلوکی کرتے تھے‘ اسی حالت میں تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر اپنا فضل فرمایا‘ ہم میں سے اپنا ایک پیغمبر بھیجا ‘جس کے حسب ونسب ‘صدق وامانت اور پاکدامنی وعفت کولوگ خوب پہچانتے ہیں‘ اس نے ہم کو اللہ کی طرف بلایا کہ ہم اس کو مانیں اور ایک جانیں‘ صرف اسی کی عبادت اور بندگی کریں اور جن بتوں اور پتھروں کی ہم اور ہمارے آباء واجداد پرستش کرتے تھے‘ ان سب کویک لخت چھوڑدیں‘ سچائی ‘ امانت‘ صلہ رحمی اور پڑوسیوں سے حسن سلوک کریں‘ اور پھر سورہ مریم کی ابتدائی آیات پڑھ کر سنائیں جس سے بادشاہ اوراس کے درباریوں کے آنسو نکل آئے اور روتے روتے بادشاہ کی داڑھی تر ہوگئی۔
اسلام میں صلہ رحمی بہت بڑی چیز ہے ۔ ہرانسان چاہتاہے کہ میں صلہ رحمی کروں اور معاشرہ میں اچھا بنوں۔خلاصہ یہ کہ اسلام میں‘ رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کا حکم ہے اور یہ سب رشتہ داریاں نکاح کی برکت سے ہیں ‘ جبکہ غیر مسلم پریشان ہیں اور ان کی زندگی جانوروں کی زندگی سے بھی بدتر ہے‘ ان کا پورا ماحول کھو کھلا ہوچکا ہے۔
ہمارے ہاں ایک صحافی بیرون ملک ناروے سے وطن واپس پہنچا تو ایئرپورٹ پر استقبال کے لئے آنے والے اس کے رشتہ داروں نے اسے کہا کہ: تم جنت چھوڑکر جہنم میں آگئے۔ اس نے جواب میں کہا کہ: نہیں‘ بلکہ میں جہنم چھوڑ کر جنت میں آگیا ہوں اور پھروہاں کے حالات بتائے کہ وہاں شادی کا نظام نہیں ‘ وہاں ماں‘ بہن اور بیٹی کی کوئی تمیز نہیں‘ کوئی مصیبت میں مبتلا ہوجائے تو بیمار پرسی کے لئے کوئی نہیں ہوتا‘ اور یہاں اگر کسی کے سر میں درد ہوجائے تو سب رشتہ دار پہنچ جاتے ہیں‘ رشتہ داری کی اس نعمت کا ادراک کیسے ہوگا؟یاد رکھئے! اسلام عفت کا راستہ متعین کرتاہے اور سب کو عفیف دیکھنا چاہتاہے۔ حدیث شریف میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”یا معشر الشباب!من استطاع منکم الباء ة فلیتزوج‘ فانہ اغض للبصر واحصن للفرج‘ ومن لم یستطع فعلیہ بالصوم‘ فان لہ وجاء․ متفق علیہ“۔ (مشکوٰة:۲۶۷)
ترجمہ:․․․” تم میں سے جو نکاح کے لوازمات یعنی بیوی بچوں کا نفقہ اور مہر ادا کرنے کی استطاعت رکھتا ہو تو اسے چاہئے کہ وہ نکاح کرے‘ کیونکہ نکاح کرنا نظر کو جھکاتاہے اور شرمگاہ کو محفوظ رکھتاہے‘ اور جو شخص استطاعت نہ رکھتاہو‘ اسے چاہئے کہ وہ روزہ رکھے‘ کیونکہ روزہ رکھنا شہوت کو روکنے کا ذریعہ ہے“۔
ہم اپنے میڈیا پر ننگی تصویریں شائع کرتے ہیں‘ اس سے معاشرے میں جرائم بڑھتے ہیں اور عورتیں گھروں سے بھاگ جاتی ہیں‘ میں اپنے نوجوانوں سے کہتا ہوں کہ گناہوں سے بچو اور اپنے آپ کو عفیف رکھو۔ آپ ا کی خدمت اقدس میں ایک نوجوان آیا اور درخواست کی کہ مجھے گناہ ”زنا“کی اجازت دیدیں۔ صحابہ کرام نے اس کی بات سن کر ناراضی کا اظہار کیا‘ حضور ا نے سائل سے فرمایا: قریب ہو جاؤ اور پھر فرمایا:”ہل تحب لامک“ کیا تو چاہتاہے کہ کوئی تیری ماں کے ساتھ زنا کرے؟نوجوان نے کہا کہ: میں آپ پر قربان ہوجاؤں‘ میں یہ ہرگز نہیں چاہتا‘ آپ ا نے فرمایا: اسی طرح اور لوگ بھی نہیں چاہتے کہ ان کی ماؤں کے ساتھ زنا کیا جائے‘ پھرآپ ا نے فرمایا :”ہل تحب لبنتک“ کیا تو پسند کرتاہے کہ کوئی تیری بیٹی کے ساتھ زنا کرے؟اس نے عرض کیا: میں آپ پر قربان ہوجاؤں‘ میں یہ نہیں چاہتا‘ فرمایا: اسی طرح اور لوگ بھی نہیں چاہتے کہ ان کی بیٹیوں کے ساتھ زنا کیا جائے۔ غرضیکہ اسی طرح اس کی تمام محرمات کا نام لے کر اس سے پوچھا تو اس کا ضمیر جاگ اٹھا‘ پھر آپ ا نے اس کے لئے دعا فرمائی۔اسی طرح ایک حدیث شریف میں ہے:
”مروا اولادکم بالصلاة وہم ابناء سبع سنین‘ واضربوہم علیہا وہم ابناء عشر سنین ‘وفرقوا بینہم فی المضاجع“۔ رواہ ابوداؤد“۔ (مشکوٰة:۵۸)
ترجمہ:․․․”جب تمہارے بچے سات سال کے ہوجائیں تو انہیں نماز پڑھنے کا حکم دو اور جب وہ دس برس کے ہوجائیں تو نماز چھوڑ نے پر انہیں مارو‘ نیز ان کے بستر علیحدہ کردو“۔
جب گھر کے بچوں کے لئے یہ حکم ہے کہ ان کے بستر علیحدہ کردو تو مخلوط نظامِ تعلیم کے لئے کیا حکم ہوگا؟ اس لئے اسلام نے پردے کا حکم دیا۔ یہ پردہ کا حکم‘ سخت حکم نہیں‘ بلکہ اس کے ذریعہ ایک شریف اور عفیف عورت کی عصمت اور پاکدامنی کو برقرار رکھنا مقصود ہے۔ ہماری جامعہ کے استاذ مولانا فضل محمد صاحب نے ایک واقعہ سنایا کہ: حالیہ زلزلے میں این جی اوز کی ٹیم ایک دیہاتی علاقے میں گئی‘ اس ٹیم میں ایک عورت بھی تھی‘ وہ کسی شریف عورت کے گھر چلی گئی اور اس سے کہا کہ: تمہارا شوہرتم پر ظلم کرتاہے اورتمہیں اس چار دیواری سے باہر جانے نہیں دیتا‘تمہاری مثال تو اس جانور جیسی ہے جو آپ کے قریب بندھا ہوا ہے‘ اس شریف عورت نے جواب دیا کہ: عورتیں وہ ہوتی ہیں جو گھر کی چار دیواری میں رہتی ہیں اور تمہاری طرح بے پردہ باہر گھومنے والی عورت نہیں‘ بلکہ گدھی ہوتی ہے۔
تو شریف عورت کایہ کام نہیں کہ وہ بازاروں اورسڑکوں پرمٹر گشت کرتی پھرے‘ بلکہ وہ باعزت طریقہ سے گھر میں رہے۔
مجھے ایک واقعہ یاد آیا کہ ملک شام میں ایک سیاسی عورت تھی‘ جیسے ہمارے ہاں سیاسی عورتیں ہوتی ہیں‘ اتفاق سے وہ ایک شیخ کے مرید پر فریفتہ ہوگئی اور مرید کی وجہ سے اس کے شیخ کے پاس جانے لگی ‘ اس عورت پر شیخ کی باتوں کا بڑا اثر ہوا اور آخر کار اس عورت نے پردہ شروع کردیا‘ جب اس کی سہیلیوں کو معلوم ہوا تووہ اس کے پاس گئیں اوراسے سمجھانے لگیں کہ یہ تونے کیا شروع کررکھا ہے؟ اس عورت نے کہا کہ: جب میں آپ کے ساتھ تھی تو اندھی تھی‘ آج اللہ تعالیٰ نے مجھے آنکھیں دی ہیں‘ کیا تم چاہتی ہوکہ میں دوبارہ اندھی بن جاؤں؟
میرے عزیزو! ہمیں اچھے اعمال بجالانے چاہئیں اور برے اعمال سے بچنا چاہئے۔ حدیث میں آتاہے کہ ہم جو بھی عمل کرتے ہیں‘ ہر اچھے اور برے عمل کی ایک شکل ہوتی ہے۔ مجھے یاد ہے‘ کہ میں طالبعلم تھا اور ایک دفعہ حضرت مولانا احمد علی لاہوری کا خطاب سن رہا تھا‘ انہوں نے ایک واقعہ سنایا کہ:
ایک دفعہ میں جارہاتھا‘ راستے میں ایک مجذوب الحال شخص فٹ پاتھ پر پڑا ہوا تھا اور سامنے گٹر لائن گزررہی تھی‘ اس نے مجھے آواز دی کہ: احمد علی!(ولی را ولی می شناسد) یہاں سے جو لوگ گزررہے ہیں‘ کسی کی شکل کتے کی ہے‘ کسی کی شکل گدھے کی اور کسی کی بیل کی ہے۔
اس صاحبِ کشف بزرگ کے کشف کی حقیقت یہ ہے کہ مختلف بداعمالیوں اور گناہوں کی سزا کے طور پر گناہ گاروں کی شکلیں قیامت میں مختلف حیوانوں کی شکلوں میں بدل جائیں گی‘ یہ اس طرف اشارہ تھا اور وہ بزرگ کہہ رہے تھے کہ لوگوں کے اعمال انسانوں والے نہیں‘ بلکہ وہ حیوانی زندگی کا رخ اختیار کرچکے ہیں‘ اس لئے عزیز بھائیو! ہمارے لئے اللہ کے احکامات وفرائض موجود ہیں‘ ہرآدمی تقویٰ وپرہیزگاری اختیار کرے‘ اپنی حفاظت کرے اور ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی کا جذبہ رکھے‘ حدیث شریف میں ہے :
”تری المؤمنین فی تراحمہم وتوادہم وتعاطفہم کمثل الجسد اذا اشتکی عضو تداعی لہ سائر الجسد بالسہر والحمیٰ متفق علیہ“۔ (مشکوٰة:۴۲۲)
ترجمہ:․․․”تم مؤمنوں کو‘ آپس میں ایک دوسرے سے رحم کا معاملہ کرنے‘ ایک دوسرے کے ساتھ محبت وتعلق رکھنے اور ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی ومعاونت کا سلوک کرنے میں ایسا پاؤ گے جیساکہ بدن کا حال ہے کہ جب بدن کا کوئی عضو دکھتا ہے تو بدن کے باقی اعضاء اس ایک عضو کی وجہ سے ایک دوسرے کو پکارتے ہیں‘ بیداری اور بخار کی تکلیف میں سارا جسم شریک ہوتا ہے“۔
آج آپ لوگوں پر جو آزمائش آئی ہے‘ سب لوگوں نے اس کو دور کرنے میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا‘ لیکن ہمیں چاہئے کہ خوب توبہ استغفار کریں‘ اللہ تعالیٰ کے ارشاد:
”وماکان اللہ لیعذبہم وانت فیہم‘ وما کان اللہ معذبہم وہم یستغفرون“۔(الانفال:۳۳)
سے معلوم ہوتا ہے کہ عذابِ الٰہی اور مجرم انسانوں کے درمیان دو چیزیں حائل ہیں‘ ایک آپ ا کا زمین پر وجودِ مسعودہے‘ جوکہ اب دوسرے جہان میں منتقل ہوچکا ہے اور دوسری چیزتوبہ و استغفار ہے‘ اس لئے ہم سب اگر کثرت سے اجتماعی طور پر توبہ واستغفار کریں تو انشاء اللہ ہماری سیئات معاف ہوں گی اور مشکل کی اس گھڑی میں بھی ہم بآسانی سرخرو ہوسکیں گے۔
اس لئے آپ کی فلاح کا راستہ یہ ہے کہ آئندہ زندگی کو شریعت کے مطابق گزارنے کا عزم کریں‘ آپ نے قریب سے مشاہدہ کیا کہ دنیاوی زندگی کتنی بے ثبات ہے‘ چند لمحے پہلے کے زندہ لوگ میتوں کی صورت میں ملبوں کا حصہ‘ پتھروں اورچٹانوں کی قطع وبرید کا شکار ہوکر لاپتا ہوگئے یا اپنی ہی پوست میں گوشت وہڈیوں کا چورا بن کر رہ گئے۔
آخر میں ایک ضروری بات گوش گزار کرکے گفتگو ختم کرتاہوں‘ میرے بھائیو! دنیا میں عظیم فتنے رونما ہوئے‘ ہرفتنے کا توڑ ہوتا رہاہے‘ مگرآج فتنہ پروروں نے فتنہ گری کا ایک نیا روپ دھار رکھا ہے‘ جس کا نام وعنوان بظاہر بہت دلکش ودلفریب ہے‘ مگر یہ شکر میں ملا ہوا زہر ہے‘ جس کی حقیقت سے آگاہ ہونا از حد ضروری ہے‘ آج کل فتنہ پرداز اپنی کاوشوں کو قرآن فہمی کا نام دے کر لوگوں کو دھوکا دینے اور ان کے ایمان کو برباد کرنے کی کوشش کررہے ہیں‘ اور یہ کہہ کر سادہ لوح مسلمانوں کو علمأ کرام سے برگشتہ کرتے ہیں کہ مولویوں نے اسلام کا ٹھیکا نہیں لیا‘ بلکہ خود قرآن وحدیث پڑھو اور سمجھو۔
میں کہتاہوں! اگر آج کوئی کہے کہ ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت نہیں اور خود اپنی بیماری کے لئے دوائی تجویز کرکے علاج شروع کردو‘ تو سب اس کو پاگل اور مجنون کہیں گے۔ اس لئے قرآن وحدیث سمجھنے کے لئے علمأ کی ضرورت ہے‘ حدیث شریف میں ہے: رسول اللہ ا نے فرمایا کہ:
”ان اللہ لایقبض العلم انتزاعاً ینتزعہ من العباد‘ ولکن یقبض العلم بقبض العلماء‘ حتی اذا لم یبق عالماً‘ اتخذ الناس رؤساً جہالاً‘ فسئلوا فافتوا بغیر علم فضلوا واضلوا‘ متفق علیہ“۔ (مشکوٰة:۳۳)
ترجمہ:․․․” اللہ تعالیٰ علم کو (آخری زمانہ میں) اس طرح نہیں اٹھا لے گا کہ لوگوں کے دل ودماغ سے اسے نکال لے‘ بلکہ علم کو اس طرح اٹھائے گا کہ علمأ کو اس دنیا سے اٹھالے گا‘ یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو پیشوا بنا لیں گے‘ ان سے مسئلے پوچھے جائیں گے اور وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے‘ لہذا وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسرے لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے“۔
--------------------------
اس موقع پر ہمارے ملک کی نامور مذہبی‘ دینی وسیاسی شخصیت‘ قائد حزب اختلاف اور جمعیت علمأ اسلام کے امیر حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب مدظلہ نے مغرب اورمغرب سے مرعوب افراد واشخاص کے بھیانک کردار کو خوبصورت انداز میں پردہ اٹھایا اور جامعہ علوم اسلامیہ سے اپنے تعلق ‘ اس کے مرتبہ ومقام اور اس کی خدمات کا جس خوبصورت انداز میں تذکرہ کیا‘ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اسے بھی قارئین بینات کی خدمت میں پیش کر دیا جائے‘ چنانچہ جامعہ کے فاضل ومتخصص مولوی صلاح الدین نے اس تقریر کو نقل کر کے کاغذ پر منتقل کیا ‘جو لفظ بہ لفظ پیش خدمت ہے:
”حضرت گرامی قدر ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر صاحب‘ برادرعزیزمولانا سید سلیمان بنوری خلف الرشید محدث العصر علامہ محمد یوسف بنوری‘ حضرات علمائے کرام‘ زعمائے ملت اور میرے بزرگو اور بھائیو!
میری زندگی میں یہ پہلی تقریب ہے جس میں ڈیڑھ سو نوجوان جوڑوں کی اجتماعی شادی ہو رہی ہے‘ رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے والے یہ تمام نوجوان اور بچیاں وہ ہیں جو زلزلہ سے متاثرہوئے ہیں‘ میں ان تمام خوش قسمت جوڑوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتاہوں‘ اللہ تعالیٰ ان کے اس عقد کو خیر وبرکت‘ دونوں خاندانوں کے درمیان محبت والفت ‘اور اولاد صالح کا ذریعہ بنائے۔
علمائے کرام نے نکاح کی افادیت‘حیثیت اور اس کے فلسفے پر تفصیل سے گفتگو کی ہے۔ انسانی معاشرتی زندگی میں نکاح کا ایک بنیادی اور اساسی کردار ہے‘ جو کرہٴ ارض پر پھیلی ہوئی انسانیت کو ایک خاندان اور ایک پرائمری یونٹ فراہم کرتاہے۔ نکاح حیا‘ عفت اور پاکدامنی کا راستہ ہے‘ جو انسان کو بے حیائی ‘حرام کاری‘ زنا اور آوارہ گردی سے روکتاہے۔
آپ حضرات کے علم میں ہے کہ صوبہ سرحد اور آزاد کشمیر کا وسیع وعریض اور خوبصورت خطہ زلزلہ کی بنا پر تباہ وبرباد ہوگیا‘ ہنستے بستے آباد خاندان اور بستیاں اجڑ گئیں‘ لاکھوں لوگ متاثر ہوئے‘ جس کے نتیجہ میں خواہ وہ بین الاقوامی سطح پر ہو یا ملکی ‘ اجتماعی یا انفرادی‘ ہرسطح پر انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کیا گیا‘ یعنی متاثرین کی آباد کاری کے لئے انہیں فوری امدادمہیاکی گئی‘ پھر عارضی آباد کاری کی گئی اور اب ان کی مستقل آباد کاری کی کوششیں جاری ہیں۔
آج کی اس تقریب کا انعقاد جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کے فضلاء‘ متعلقین اورمخیرین نے جامعہ کے توسط سے کیا ہے ‘ ․․․․․․․․․․․ اللہ تعالیٰ ان سب کی کاوشوں کو قبول فرمائے‘ آمین․
عزیزانِ محترم! جب بات آتی ہے جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کی‘ جس سے یقیناً ہم سب کو روحانی اور قلبی تعلق ہے‘ تو ماضی کی سنہری تاریخ یاد آجاتی ہے کہ اس جامعہ نے ہر تحریک ‘ ہر میدان اور امت مسلمہ کی صلاح وفلاح کے ہرموقع پر صف اول کا کردار ادا کیا‘ میں نے حضرت مفتی صاحب (مفتی محمود ) اور حضرت بنوری کے باہمی تعلق واعتماد کو ایسا دیکھا جیسا دوبھائیوں میں تعلق واعتماد ہوتاہے‘ یہ تعلق کا روباری اور دنیاوی معاملات کا نہیں تھا‘ بلکہ ایک دوسرے کے علم وفضل اور اخلاص کا اعتراف تھا‘ جس کی بنا پر ان حضرات کے کئی بیرونی اسفاربھی ساتھ ہوئے‘حضرت بنوری جب ہمارے گھرقاسم العلوم ملتان میں تشریف لاتے تو ہم ان کی خدمت بھی کرتے اور ان کی موجودگی میں بچکانہ شرارتیں بھی کرتے‘ اور حضرت مفتی صاحب کا سفر آخرت بھی گلشن بنوری جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن ہی سے شروع ہوا‘ ظاہر ہے کہ اس قسم کا تعلق جب دل ودماغ میں رچ بس جائے تو اس کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ اللہ تعالیٰ جامعہ کو اسی طرح سرسبز‘شاداب وسربلندرکھے اور تشنگانِ علوم کے لئے اس چشمہ فیض کو جاری وساری رکھے۔
یہ ادارہ بچوں کی تعلیم وتربیت کی طرح ان کی زندگی کی اصلاح اور سماجی ورفاہی خدمات پر نہ صرف یہ کہ نظر رکھتاہے ‘ بلکہ اس کے لئے عملی کوششیں بھی کرتاہے ‘ جس کا ایک مظہر آج کی یہ تقریب ہے‘ اور آپ اس کے گواہ ہیں کہ اس عظیم سانحے میں جہاں انسانیت بہت زیادہ متاثر ہوئی ‘ان مصیبت کے لمحات میں جس‘ جس نے بھی تعاون کا ہاتھ بڑھایا‘ ان سب کے لئے ہمارے دل میں قدر وشکرکے جذبات ہیں ‘ خاص کر مذہبی لوگوں اور ان کی رفاہی تنظیموں نے انسانیت کی خدمت اور بحالی کے اس موقع پرجس نمایاں انداز سے حصہ لیا‘ آنے والا وقت نہ اسے فراموش کرسکتاہے اور نہ ہی اس کو نظر انداز کرسکتاہے۔ لیکن مذہبی طبقے کی یہ رفاہی خدمات اور متاثرین کے لئے اس طبقہ کا اس طرح مدد کے لئے میدان میں آنا مغربی دنیا کو گوارا نہ ہوا‘ چنانچہ اس نے اس موقع پر بھی اپنے تاریخی جھوٹ کا تسلسل جاری رکھا کہ یہ لوگ دہشت گرد ‘ قدامت پسند اور انسانیت دشمن ہیں‘ لیکن انہی کی این جی اوز نے مذہبی طبقہ کی رفاہی خدمات کا برملا اعتراف کرتے ہوئے ان کے اس تاریخی جھوٹ کا بھانڈا چوراہے میں پھوڑدیا۔
اس لئے ہم کہتے ہیں کہ وسعت نظری کا دعویٰ کرنے والو! یہاں بھی نظر رکھو‘ اور ہمیں بتلاؤ!علمائے کرام اور مدارس کا طبقہ تنگ نظر ہے یا مغربی طبقہ؟ آج جو لوگ انتہاء پسندی کا بہانہ بناکر مذہبی طبقہ کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں‘ درحقیقت وہ خود انتہاء پسند اور ان کے اقدامات انتہاء پسندانہ ہیں‘ ایسے لوگوں کو ہمارا مخلصانہ مشورہ ہے کہ وہ اپنی اس بری روِش سے باز آجائیں‘ انتہاء پسندی کے نام پر انتہاء پسندی کی تاریخی غلطی نہ کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ انتہاء پسند‘ علمائے کرام‘ طلبائے کرام‘ مدارس اور ان کی تنظیمیں نہیں‘ بلکہ مغرب زدہ لوگوں کا علمأ کے خلاف رویہ دراصل انتہاء پسندانہ اور دہشت گردی کا مظہر ہے۔ افسوس یہ ہے کہ یہ سنگین جرم چوری چھپے نہیں بلکہ سرعام میڈیا کے ذریعہ کیا جارہاہے‘ ستم بالائے ستم یہ کہ ہمارا میڈیا صیہونی طرز کی میڈیائی خدمات کو اپنا کمال تصور کرتے ہوئے سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ بناکر پیش کررہاہے‘ ہم اپنے میڈیا اور ذرائع ابلاغ کو بھی دعوتِ انصاف اور خداترسی کا خیر خواہانہ مشورہ دیتے ہیں۔
آج عالمی دنیا‘ دہشت گردی کے خاتمہ کے نام پر جن کارروائیوں میں مصروف ہے‘ دیکھاجائے تویہ کارروائیاں بذاتِ خود دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہیں‘ ہم پوچھنا چاہیں گے کہ جنہیں آپ دہشت گرد کہتے ہیں‘ ہمیں دلائل سے مطمئن کیجئے! کہ کیا وہ واقعی دہشت گرد ہیں؟اسلام آپ سے زیادہ دہشت گردی کے خلاف ہے‘ اسلام دہشت گردی اور انتہاء پسندی دونوں کی حوصلہ شکنی کرتاہے‘ قرآن کریم امت مسلمہ کو معتدل امت کہتے ہوئے فرماتاہے :
”وکذلک جعلناکم امة وسطا لتکونوا شہداء علی الناس“ (البقرة:۱۴۲)
ترجمہ:․․․”اور اسی طرح کیا ہم نے تم کو امتِ معتدل تاکہ ہو تم گواہ لوگوں پر“۔
شہداء‘ شاہد کی جمع ہے اور شاہد اس کو کہتے ہیں جو جس طرح دیکھے‘ اسی طرح زبان سے ادا کرے‘ ہمارا ایمان ہے کہ ہم کسی غیر واقعاتی پروگرام اور غیر منصفانہ اقدام پر یقین نہیں رکھتے۔ اسی طرح کسی اور سے اس قسم کے معاملات کو سرزد ہوتے دیکھ کر ان کی ہم نوائی اختیار کرنے کوبھی ہم جرم عظیم اوراس پر خاموش رہنے کو اپنی ایمانی کمزوری تصور کرتے ہیں۔
بہرحال ہم جابر حکمرانوں کے سامنے اپنے ان ایمانی جذبات کا مظاہرہ کرنے کو جہاد جیسا کار خیر تصور کرتے ہیں‘ خواہ دنیا ہمیں کسی بھی نام سے یاد کرے‘ انشاء اللہ! اسلامی تاریخ کا سیاہ باب مرتب کرنے والوں میں ہم کبھی شمار نہیں ہوں گے ۔وما علینا الا البلاغ المبین“
-------------------------
ہم اس موقع پر جہاں اجتماعی نکاح کی سعادت حاصل کرنے والے جوڑوں‘ ان کے متعلقین کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتے ہیں‘ وہاں جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے اس زندہ جاوید کارنامہ پر اس کے مدیر‘ نائب مدیر‘ اساتذہ‘ فضلاء‘ کارکنان‘ معاونین ‘ متعلقین اور اس تقریب میں کسی بھی انداز میں تعاون کرنے والے حضرات کو اس عظیم سماجی خدمت پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔
اسی مناسبت سے یہ بھی عرض کرنا چاہیں گے کہ اہل ِعلم‘ علمأ‘ مدارس‘ مکاتب‘ ان کے اساتذہ و طلبہ اور ان سے منسلک دین دار اہل خیر اور اربابِ ثروت ،مغرب اور ان کی آلہ کار لابیوں کو اسی وجہ سے ایک آنکھ نہیں بھاتے کہ بحمد اللہ! وہ جس شعبہ میں بھی کام کرتے ہیں‘ دوسرے ان کے نقش پاڈھونڈتے رہ جاتے ہیں‘ بلکہ دیکھا جائے تو ان کی مساعی اور خدمات اس قدر ہمہ گیر ہوتی ہیں کہ ان کے ہوتے ہوئے کسی طرف نگاہ ہی نہیں اٹھتی، اور یہ دنیا کا ضابطہ ہے کہ: ”الناس اعداء لما جہلوا“ یعنی لوگ جس سے لاعلم ہوں، اسی کے دشمن ہوا کرتے ہیں ۔
اس لئے ارباب اقتدار کو چاہئے کہ وہ دنیا بھر کی این جی اوز اور پاکستان کی رفاہی تنظیموں کے مقابلہ میں اس کا اعتراف کریں کہ اس موقع پر علمأ اور ارباب ِمدارس نے واقعی بے مثال خدمات انجام دی ہیں، علمأ دشمنی کی لکیر پیٹنے والوں کو زمینی حقائق کاا عتراف کرتے ہوئے اپنی رَوِش سے باز آجاناچاہئے۔
وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ سیدنا محمد وآلہ وصحبہ اجمعین․
اشاعت ۲۰۰۶ ماہنامہ بینات, رجب المرجب۱۴۲۷ھ اگست۲۰۰۶ء, جلد 69, شمارہ