سے بچنے کے سبب سے،البتہ ان کے طرز اور ہیئت سے پہچان سکتے ہو، کیوں کہ فقر اور فاقے سے چہرے اور بدن میں ایک گونہ اضمحلال ضرور آجاتا ہے،اور یوں وہ لوگوں سے لپٹ کر مانگتے نہیں پھرتے جس سے ان کو کوئی حاجت مند سمجھے،یعنی مانگتے ہی نہیں، کیوں کہ اکثر جو لوگ مانگتے ہیں وہ لپٹ کر ہی مانگتے ہیں۔ (ترجمہ و تفسیراز بیان القرآن)
لفظ اُحْصِرُوْا بتارہا ہے کہ یہ کشتگانِ محبت ہیں۔ منجانب اللہ ان کے اوپر دین کی محبت کا ایسا حال غالب کردیا گیا ہے کہ اسی میں گھرے ہوئے ہیں۔ بس ہر وقت دین ہی کا مشغلہ محبوب ہے اور اسی غلبۂ حال کے سبب کسبِ معاش کی بھی طاقت نہیں رکھتے۔ حضرت عارف رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ؎
غیرِ آں زنجیر زلفِ دلبرم
گرد و صد زنجیر آری بردرم
بجز اس محبوبِ حقیقی کی زنجیرِ محبت کے اگر دو سو زنجیر تُو لائے گا تو میں توڑ دوں گا۔
ما اگر قلاش وگر دیوانہ ایم
مست آں ساقی و آں پیمانہ ایم
ہم اگر قلاش اور دیوانے ہیں تو ہمیں اس کی پروا ہی کیا، کیوں کہ ہم مست اس ساقیٔ ازل کے اور اس پیمانۂازل کے ہیں۔
یعنی اَلَسۡتُ بِرَبِّکُمۡ کی آواز مجھے ہر وقت اپنی طرف جذب کررہی ہے۔
آزمودم عقلِ دور اندیش را
بعد ازیں دیوانہ سازم خویش را
میں عقلِ دور اندیش کو بہت آزماچکا ہوں، اس کے بعد میں نے اب اپنے کو دیوانہ بنالیا۔
عاشقم من برفنِ دیوانگی
سیرم از فرہنگ و از فرزانگی
میں دیوانگی کے فن پر عاشق ہوں اور عقل کی باتوں سے سیر ہوچکا ہوں۔