جنہیں رات دن فکر ملّت کی تھی
بڑی فکر اصلاحِ امّت کی تھی
وہ مولائے اشرف علی شاہ ِ دیں
دکھاتے رہے عمر بھر راہِ دیں
ان ہی کا یہ نسخہ ہے اصلاح کا
خدا سے فقط ہے وہ الحَاح کا
ہے نسخہ بہت سہل و آسان سا
کرے نفسِ بد کو جو بے جان سا
وضو کرکے دو رکعتیں تم پڑھو
نیت اس میں توبہ کی کرکے پڑھو
دعا کے لیے ہاتھ کو پھر اٹھا
خدا سے تو رو کر کرے التجا
الٰہی گناہ گار بندہ ہوں میں
سراپا بُرا اور گندہ ہوں میں
بہت سخت مجرم کمینہ ہوں میں
گناہوں کا گویا خزینہ ہوں میں
نہ قوّت گناہوں سے بچنے کی ہے
نہ ہمت عمل نیک کرنے کی ہے
ترا ہو ارادہ اگر اے کریم
تو ہو پاک پل میں یہ بندہ لئیم
تو ہی غیب سے کوئی سامان کر
گناہوں سے بچنے کو آسان کر