نہ ہو، جو اﷲ کا پاگل بنتا ہے وہ دوسروں کو بھی پاگل بناتا ہے، لیکن دنیاوی پاگل نہیں جن کی عقل غائب ہوتی ہے، اﷲ تعالیٰ کے عاشقین کی عقل ایسی سلامت رہتی ہے کہ ان کی برکت سے بے وقوف بھی عقل مند ہوجاتا ہے۔
تو اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ قرآنِ پاک میں نے نازل کیا ہے اور اس کی حفاظت بھی میرے ذمہ ہے۔ علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر روح المعانی میں لکھتے ہیں کہ تو ریت، زبور اور انجیل کی حفاظت اﷲ نے اپنے ذمہ نہیں لی اُس وقت کے علماء کے ذمہ ڈالی، لیکن نسلاً بعدنسلٍ ان کی اولاد نے قلیل مال کے عوض اس کو بیچنا شروع کردیا، لیکن قرآنِ پاک کو کوئی بیچ نہیں سکتا، قرآن پاک قیامت تک رہے گا۔
اللہ تعالیٰ کے سرکاری بندے
علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی عجیب تفسیر کی کہ اگر ایک بڑا لحیم شحیم شیخ نماز پڑھا رہا ہے اور کہیں غلط پڑھ دیا تو دس سال کا حافظ بچہ اسے لقمہ دے دے گا۔ اختر تفسیر روح المعانی کی عبارت پیش کرتا ہے فَاِنَّ الشَّیْخَ الْمُہِیْبَ لَوْ غَیَّرَ نُقْطَۃً فِی الْقُرْاٰنِ اگر شیخ مہیب قرآن میں ایک نقطہ بدل دے لَیَرُدُّ عَلَیْہِ الصِّبْیَانُایک حافظِ قرآن بچہ اس کو رد کر دے گا۔ تو سرکاری طور پر اﷲ نے اعلان فرمایا کہ قرآنِ پاک کی حفاظت میری سرکاری ذمہ داری ہے۔ جو لوگ مدرسہ کھولتے ہیں وہ اﷲ تعالیٰ کے سرکاری بندے ہیں، سرکار کی ذمہ داری کے لیے منتخب اور قبول ہورہے ہیں، جو ماں باپ اپنے بچوں کو حافظ بنارہے ہیں یہ بھی اﷲ تعالیٰ کی سرکاری ذمہ داری کے لیے قبول ہوگئے۔
اﷲ تعالیٰ جو یہ فرمارہے ہیں وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَہم اس کی حفاظت کریں گے، تو اﷲ اس کی حفاظت کیسے کریں گے؟ آسمانوں میں لے جا کر محفوظ کریں گے یا فرشتوں میں محفوظ کریں گے؟ علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیںوَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ اَیْ فِیْ قُلُوْبِ اَوْلِیَائِہٖ؎ اپنے عاشقوں کے، اولیاء کے دلوں میں قرآنِ پاک کو محفوظ فرمائیں گے۔ آپ بتائیے! پوری دنیا کے سائنس دان جمع ہوجائیں، ساری دنیا کے ڈاکٹر اکٹھے ہوجائیں اور تمام آلات اور مشینیں لائیں اور اس حافظ قرآن کے دل میں تیس پارے تلاش کریں، دل کو چیر کے دیکھیں، دماغ میں دیکھیں، جگر میں دیکھیں کہ دِکھاؤ قرآن کس عضو میں ہے، کہیں بھی نہیں ملے گا۔یہ
------------------------------