ترجمہ وتشریح:میں مست ہوں اور میرا وجود ہی مئے عشقِ حقیقی سے ہے ؎
عشق خود در جانِ ما کاریدہ اند
نافِ ما بر مہر خود ببریدہ اند
مثنوی میں مولانا فرماتے ہیں کہ حق تعالیٰ نے اپنا عشق ہماری جان میں رکھ کر ہم کو دنیا میں بھیجا ہے اور ہمارا وجود ہم کو اپنی محبت کے شرط پر بخشا ہے پس معترض سے کہہ دو کہ جب ہمارے اصل خمیر ہی میں عشق کی چنگاری رکھی ہوئی ہے تو ہم مولائے حقیقی کے عشق سے بخوفِ ملامت و اعتراض کس طرح دستبردار ہوسکتے ہیں۔
انتباہ: جہاں جہاں اشعار میں عشق کا لفظ اہل اﷲ استعمال کرتے ہیں وہاں مراد حق تعالیٰ کا عشق ہے کیوں کہ عورتوں اور حسین لڑکوں سے عشق تو در حقیقت فسق اور دونوں جہاں میں عذاب و رسوائی ہے۔ مجازی حسینوں کے عاشقوں کو ایک پل کو چین حاصل نہیں، ان کی دوزخ دنیا ہی سے شروع ہوجاتی ہے ۔ ہر وقت دل جلتا رہتا ہے اور حسنِ فانی کے زوال کے بعد ندامت کے سوا کچھ حاصل نہیں۔
حکایت
ایک آدمی ایک لڑکے پر عاشق ہوا، جب اس کے داڑھی مونچھ نکل آئی تو دیکھ کر منہ پھیر لیتااور یہ شعر پڑھتا ؎
گیا حسن ِ خوباں دل خواہ کا
ہمیشہ رہے نام اﷲ کا
حضرت رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ؎
کود کے از حسن شد مولائے خلق
بعد پیری شد خرف رسوائے خلق
ترجمہ: جو حسین لڑکا مخلوق میں سردار بنا پھرتا ہے جب بوڑھا ہوتا ہے تو وہی مخلوق میں رسوا پھرتا ہے ؎