کے پاس زمین وغیرہ ہے، صرف کرایہ کے مکان میں رہتے ہیں، وہ امام صاحب بینک سے قرض لے کر زمین خریدنا چاہتے ہیں؛ تاکہ اپنا مکان بناسکیں، بینک سے قرض لے کر زمین خریدنا کیسا ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: مذکورہ امام صاحب کے لئے بینک سے سود پر قرض لینا جائز نہیں ہے۔
قال اللّٰہ تعالیٰ: {اَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا} [البقرۃ، جزء آیت: ۲۷۵]
عن جابر بن عبد اللّٰہ رضي اللّٰہ عنہ قال: لعن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم آکل الربوا ومؤکلہ وکاتبہ وشاہدیہ، وقال: ہم سواء۔ (صحیح مسلم ۲؍۷۲ رقم: ۱۵۹۸، سنن الترمذي ۱؍۲۲۹ رقم: ۱۲۰۶، مشکاۃ المصابیح، البیوع / باب الربا ۲۴۴، مرقاۃ المفاتیح ۶؍۴۳ رقم: ۲۸۰۷ دار الکتب العلمیۃ بیروت) فقط واﷲ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۷؍۱۱؍۱۴۲۷ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اﷲ عنہ
حکومتی ٹیکس سے بچنے کیلئے بینک سے سودی قرض لے کر مکان بنانا؟
سوال(۹۳):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: حضرت میں نے مکان بنانے کی نیت کی ہے، لوگوں سے مشورہ کیا تو لوگوں نے کہا کہ اگر آپ بینک سے لون نہیں لیںگے، تو حکومت آپ سے دریافت کرے گی کہ آپ کے پاس بیس لاکھ روپئے اتنے کہاں سے آئے ہیں؟ میں ایک تاجر ہوں میرا کنبہ بڑا ہے، ہم سات بھائی ہیں، سب ساتھ مل کر کام کرتے ہیں؛ اس لئے بڑے مکان کی ضرورت ہے، اور اس سے کچھ زائد رقم بھی لگ سکتی ہے، تو کیا میں مکان کے لئے لون لے سکتا ہوں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: مکان کی تعمیر کے لئے سودی قرض لینا جائز نہیں ہے؛