باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: جو پیسہ آپ کے ماموں نے آپ کی اجازت کے بغیر مشترکہ کاروبار میں لگایا یہ قطعاً جائز نہیں تھا، اُن کو اس کا بالکل حق نہیں تھا کہ وہ آپ کے مفاد کے خلاف اسے استعمال کریں؛ لہٰذا وہ اس پورے پیسہ کے ضامن ہیں؛ لیکن وہ پیسہ جس کاروبار میں لگایا گیا ہے اس کے نفع میں آپ شرعاً حصہ دار نہیں ہیں۔
عن عمرو بن یثربي رضي اللّٰہ عنہ قال: شہدت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم في حجۃ الوداع بمنیٰ، فسمعتہ یقول: لا یحل لامرئٍ من مال أخیہ شيء إلا ما طابت بہ نفسہ۔ (سنن الدار قطني ۳؍۲۲ رقم: ۲۸۶۰)
فلا یجوز لأحدہما أن یتصرف في نصیب الأجر إلا بإذنہ، وکل واحد منہما في نصیب صاحبہ کالأجنبي۔ (قدوري مع الشرح الثمیري / کتاب الشرکۃ ۲؍۲۴۶)
لأن المضمونات تملک بأداء الضمان مستندًا إلی وقت الغصب عندنا۔ (الہدایۃ / کتاب الغصب ۳؍۳۷۵) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۷؍۷؍۱۴۲۲ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اللہ عنہ
کیا ایک شریک پورے مشترکہ مکان کو فروخت کرسکتا ہے؟
سوال(۳۹):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ایک مکان غیر منقسمہ جس میں تین حصہ دار شریک ہیں، کیا ایک حصہ دار پورے مکان کا سودا کرسکتا ہے یا نہیں؟ وضاحت فرمائیں، نوازش ہوگی۔
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:مشترکہ مکان کی باقاعدہ تقسیم سے قبل اُس مکان کے کسی بھی حصہ دار کو شرعاً یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ دیگر شرکاء کی رضامندی کے بغیر صرف اپنا حصہ کسی دوسرے شخص کے ہاتھ فروخت کرے، دوسرے شرکاء کے حصص فروخت کرنا تو دور کی بات ہے۔