انعاماتِ الٰہیہ کی بارش
انعاماتِ الٰہیہ کی بارش!


الحمدللہ و سلام علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ:
یوں تو اللہ تعالیٰ نے تمام انسانیت کو بے شمار انعامات سے نوازا ہے‘ مگر امت مسلمہ کو بطور خاص سب سے زیادہ انعاماتِ الٰہیہ کا مورد بنایا‘ بلکہ یوں کہئے! کہ اس اُمت پر انعامات کی بارش فرمائی ہے‘ مثلاً:
۱:… اس امت کو اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں سے اعلیٰ‘ اجمل‘ اکمل‘ افضل‘ اشرف اور برتر نبی حضرت محمد مصطفیا عطا فرمایا‘ جن کو تمام انبیاء کی امامت‘ قیادت ‘سیادت اور ختم نبوت کے اعلیٰ ترین اعزاز سے سرفراز فرمایا گیا‘ آپ اہی قیامت کے دن یا ربِّ امتی‘ یا ربِّ امتی! پکارتے ہوں گے‘ آپ اہی کو سب سے پہلے شفاعت کی اجازت ملے گی‘ آپ اہی کی شفاعت سے حساب و کتاب شروع ہوگا‘ آپ ا کی شفاعت سے امت مسلمہ جنت میں جائے گی‘ آپ اہی کو لوائے حمد عطا ہوگا اور آپ اہی کو حوض کوثر سے نوازا جائے گا۔
۲:… اس امت کو تمام آسمانی کتابوں سے اعلیٰ و افضل کتاب قرآن کریم عطا فرمائی گئی‘ جس کو تمام آسمانی کتابوں اور شریعتوں کے لئے ناسخ قرار دیا گیا‘ اسے قیامت تک باقی رہنے کا اعزاز بخشا گیا‘ جس کو فنا اور نسخ سے محفوظ فرمایا گیا‘ سب سے بڑھ کر یہ کہ اسے کلام اللہ کے شرف و اعزاز سے مشرف فرمایا گیا‘ جس کی حفاظت و صیانت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ کی جانب سے لیا گیا‘ جس کو کسی قسم کی تحریف و تبدیلی سے محفوظ فرما دیا گیا‘ جس کی تلاوت کو ذاتِ باری تعالیٰ سے ہم کلامی قرار دیا گیا‘ جس کی تلاوت کے ایک ایک حرف پر دس سے سات سو نیکیوں تک کا وعدہ فرمایا گیا‘ اور یہ اعزاز بخشا گیا کہ قرآن مجید جس کے بارہ میں شفاعت کرے گا‘ اس کی شفاعت رد نہیں کی جائے گی‘ اس کو یاد کرکے اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام جاننے والے کو سب سے اونچا مقام عطا کیا جائے گا‘ حافظ قرآن کے والدین کی تاج پوشی کا وعدہ فرمایا گیا اور حافظِ قرآن کے لئے ایسے دس آدمیوں کے حق میں شفاعت قبول کرنے کا وعدہ فرمایا گیا‘ جن کے لئے جہنم واجب ہوچکی ہوگی۔
۳:… اس امت کو ایسا قبلہ عطا فرمایا گیا‘ جس کو روئے زمین پر سب سے پہلے نمودار ہونے کا شرف حاصل ہوا‘ جس کو لوگوں کی ہدایت و برکت کا اعزاز حاصل ہوا‘ جس کی بقا سے عالم دنیا کی بقا اور جس کی تخریب سے کائنات کی تخریب کو وابستہ فرمایا گیا‘ جس کو بیت اللہ سے تعبیر فرمایا گیا‘ جس کی چوکھٹ کو رب العالمین کی چوکھٹ سے تعبیر کیا گیا‘ جس میں نصب حجر اسود کو گناہ گاروں کے گناہ چوسنے کی صلاحیت دی گئی‘ جس کی ایک نماز اور ایک نیکی کو دوسری جگہوں کی نسبت ایک لاکھ کے برابر قرار دیا گیا‘ اور جس کو ایسی محبوبیت عطا فرمائی گئی کہ دنیا کے کونے کونے سے لوگ کشاں کشاں اس کی طرف چلے آتے ہیں‘ مگر اس کی محبوبیت میں کمی نہیں آتی۔
۴:… اس امت کو حج جیسی عظیم عبادت سے نوازا گیا‘ جس کے قدم قدم پر حاجی کے لئے انعامات کی بارش اور ملائکہ کے استقبال کی خوشخبری دی گئی‘ حجاج کو ضیوف الرحمن اور الٰہی مہمان کے اعزاز سے نوازا گیا‘ اور فرمایا گیا کہ: جس نے آداب و شرائط کے ساتھ حج کرلیا‘ اس کو تمام گناہوں سے ایسا پاک و صاف کردیا جائے گا‘ جیسے آج ہی وہ اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو‘ نیز اس امت کو حج کے علاوہ عام دنوں میں عمرے کی عبادت سے بھی سرفراز فرمایا گیا‘ اور اُسے حج اصغر قرار دیا گیا۔
۵:… اس امت کے لئے پوری زمین کو مسجد اور نماز پڑھنے کی جگہ قرار دیا گیا اور اس امت کے لئے مٹی کو پاک کرنے یعنی تیمم کا ذریعہ بنایا گیا۔
۶:… اس امت پر سب سے بڑا انعام یہ کیا گیا کہ اس کے عمل کے دورانیہ کو کم اور اجرو ثواب کو زیادہ کردیا گیا۔
۷:… اسی طرح اس امت کو یہ اعزاز عطا فرمایا گیا کہ جنت میں جانے والوں میں سب سے زیادہ اس کی تعداد ہوگی‘ چنانچہ فرمایا گیا: جنت کی ایک سو بیس صفوں میں سے اَسّی صفیں امت محمدیہ کی ہوں گی۔
۸:… اس امت کو سب سے بڑا امتیاز و اختصاص یہ عطا کیا گیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسے جلیل القدر نبی کو قربِ قیامت میں نازل فرماکر شریعتِ محمدیہ کی تعلیم و ترویج کے لئے منتخب فرمایا گیا‘ اور باوجود نبی ہونے کے انہیں اس امت کے شانہ بشانہ عیسائیت و یہودیت کے قلع قمع کے لئے نامزد فرمایا گیا اور پوری دنیا میں اسلام کا پھریرا لہرانے کا کام ان کے سپرد کیا گیا۔
۹:… اس امت کو رمضان المبارک جیسا بابرکت مہینہ عطا فرمایا گیا‘ جس میں فرائض کا ثواب ستر گنا اور نوافل کا ثواب فرائض کے برابر قرار دیا گیا‘ جسے نزول قرآن کے شرف سے مشرف فرمایا گیا‘ جس کا ایک ایک لمحہ کبریت احمر قرار دیا گیا‘ جس میں جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جانے اور جہنم کے بند کردیئے جانے کا مژدہ سنایا گیا‘ جس میں سرکش شیاطین کے قید کردیئے جانے کی خوشخبری سنائی گئی‘ جس کے لئے سارا سال جنت سجائے جانے کی نوید سنائی گئی‘ اور اُسے یہ اعزاز دیا گیا کہ بارگاہ الٰہی میں اس کی شفاعت رد نہیں کی جائے گی۔
۱۰:… اس امت کو روزہ جیسی عظیم نعمت سے سرفراز فرمایا گیا‘ جس کی جزا اور بدلہ خود اللہ تعالیٰ نے اپنے دست قدرت سے اور اپنی شان کے شایان عطا فرمانے کا وعدہ فرمایا‘ جس کی برکت سے روزہ دار کے منہ کی بو کو اللہ تعالیٰ کے ہاں مشک و عنبر سے زیادہ محبوب قرار دیا گیا‘ جس کو گناہوں سے بچاؤ کے لئے ڈھال قرار دیا گیا‘ اور جس کی برکت سے روزہ دار کو دو خوشیوں کا وعدہ دیا گیا: ایک افطار کے وقت اور ایک اللہ سے ملاقات کے وقت اور روزہ داروں کے جنت میں داخلہ کے لئے ایک مستقل دروازہ ”باب ریّان“ کے نام سے متعین کیا گیا۔
۱۱:… اس امت کو شب قدر یعنی لیلة القدر جیسی عظیم اور بابرکت رات دی گئی‘ جس کی ایک رات کی عبادت کو دوسرے دنوں کی ہزار مہینوں کی عبادت سے افضل قرار دیا گیا‘ جس میں ایمان و ثواب حاصل کرنے کی غرض سے عبادت پر اگلے پچھلے گناہوں کی معافی کا مژدہ سنایا گیا‘ جس کی برکتوں سے محروم کو تمام خیروں سے محروم اور اس کی برکتوں سے بہرہ ور کو تمام برکتوں کا حامل قرار دیا گیا۔
۱۲:… اس امت کو اعتکاف کی دولت عطا فرمائی گئی‘ جس میں بندے کو اپنے رب کی چوکھٹ سے چمٹ کر مانگنے کی راہ دکھائی گئی‘ اور جب تک گناہ معاف نہ ہوں‘ اس وقت تک اس در کو نہ چھوڑنے کا سلیقہ سکھایا گیا‘ اور ایک دن کے اعتکاف پر معتکف اور جہنم کے درمیان ایسی تین خندقیں حائل ہونے کی خوشخبری دی گئی‘ جن میں سے ہر ایک کی چوڑائی زمین و آسمان سے زیادہ ہے۔
غرض اس امت پر اللہ تعالیٰ کے کس کس انعام کا ذکر کیا جائے؟ اور کس کس پر کیسے شکر ادا کیا جائے؟ بلاشبہ ان انعامات کا شمار و احصاء اور شکر و تشکر انسانی قوت و طاقت سے باہر ہے‘ تاہم جتنا ہوسکے مسلمانوں کو اللہ کا شکر بجالانا چاہئے‘ اور اس کے شکر کی ایک ہی صورت ہے کہ اس ذات بابرکات نے ہمیں جن اعمال‘ افعال‘ عبادات‘ احکام اور اوامر کا حکم دیا ہے‘ ان پر جی جان سے جت جانا چاہئے‘ اور جن سے روکا ہے ان سے رک جانا چاہئے‘ اگر اس میں پھر بھی کچھ کمی کوتاہی رہ جائے … اور یقیناً رہ جائے گی… تو انشاء اللہ! اللہ تعالیٰ اس کمی کوتاہی کو معاف فرمادیں گے۔
اس وقت چونکہ رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ ہم پر سایہ فگن ہے‘ اور اس میں روزہ‘ تراویح‘ قرآن کریم کی تلاوت‘ لیلة القدر اور اعتکاف جیسی عظیم عبادتوں کا اجتماع ہے‘ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ رمضان المبارک کی عظمت‘ قدر و منزلت روزہ کی فضیلت و برکت اور روزہ دار پر انعامات الٰہیہ کی بارش سے متعلق چند مختصر سی معروضات پیش کردی جائیں‘ تاکہ مسلمان ان مقدس ساعات سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور اپنی عاقبت سنوار کر میدانِ حشر میں سرخرو ہوسکیں‘ چنانچہ قرآن کریم میں ہے:
”یا ایھاالذین آمنوا کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون۔“ (البقرہ:۱۸۳)
ترجمہ: ”اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے‘ تاکہ تم تقویٰ حاصل کرسکو۔“
لغت میں ”صوم“ کے معنی رُکنے کے آتے ہیں اور اصطلاح شریعت میں کھانے‘ پینے اور میاں بیوی کے تعلق سے احتراز کو روزہ کہتے ہیں‘ لیکن علماء فرماتے ہیں کہ روزہ تین قسم کا ہوتا ہے: ایک عوام کا‘ دوسرا خواص کا ‘اور تیسراخاص الخاص کا۔
عوام کا روزہ تو یہ ہے کہ: پیٹ‘ شرم گاہ اور دوسرے اعضاء کو شہوات سے روکا جائے‘ خواص کا روزہ یہ ہے کہ :کان ‘ آنکھ‘ زبان‘ ہاتھ‘ پاؤں اور تمام اعضاء کو گناہوں سے روکا جائے اور خاص الخاص کا روزہ یہ ہے کہ :دل کو بُرے کاموں کے قصد و ارادہ اور ماسوا اللہ سے روکا جائے۔
بہرحال جس آدمی سے جیسا بن پڑے‘ روزہ کا اہتمام کرے‘ تاہم جس طرح ہم دنیاوی معاملات میں مزید سے مزید اور بہتر سے بہتر کی تلاش کی کوشش و سعی کرتے ہیں اور کسی ایک درجہ و مقام پر قناعت نہیں کرتے‘ بلکہ مزید آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں‘ ٹھیک اسی طرح روزہ کی عبادت کی ادائیگی میں بھی بہتر سے بہتر کی کوشش کی جائے۔ انشاء اللہ! اللہ تعالیٰ کسی کی کوشش و سعی کو ضائع نہیں فرمائیں گے‘ اس لئے ذیل میں روزے اور رمضان کے فضائل و آداب سے متعلق چند احادیث ِ مبارکہ درج کی جاتی ہیں‘ مثلاً:
۱:… ”قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم للصائم فرحتان‘ فرحةعند فطرہ وفرحة عند لقاء ربہ“ (صحیح مسلم:ج:۱،ص:۳۶۳)
ترجمہ:” روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں: ایک روزہ افطار کرتے وقت اور دوسری جب روزہ دار اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گا۔“
روزہ دار کی دو خوشیوں میں پہلی خوشی کا مفہوم تو واضح ہے کہ روزہ دار‘ دن بھر کی بھوک پیاس کی تکلیف برداشت کرکے جب شام کو افطار کرتا ہے تو اس کو ادائیگی فرض کی خوشی کے علاوہ کھانے پینے کی لذت کی بھی خوشی ہوتی ہے‘ لیکن اس کے علاوہ ایک یہ مفہوم بھی ہے کہ روزہ دار افطار کے وقت جو جائز دعا مانگے وہ قبول ہوتی ہے‘ اس میں قبولیتِ دعا یا حصولِ مقصد کی خوشی بھی مراد ہے۔ رہی یہ بات کہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے وقت اس کو کون سی خوشی نصیب ہوگی؟ تو سب جانتے ہیں کہ اس دن اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ چونکہ دنیا میں میرے بندے نے خالص میرے لئے اور میری رضا کے لئے روزہ رکھا تھا‘ تو آج میں خود اس کا بدلہ دے کر اس کو راضی کردوں گا‘ بتلایا جائے اس موقع پر روزہ دار کو کس قدر خوشی ہوگی؟
چنانچہ امام وکیع jفرماتے تھے کہ ارشاد الٰہی:
”کلوا واشر بوا ہنیئاً بما اسلفتم فی الایام الخالیہ۔“(الحاقہ:۲۴)
ترجمہ:… ”کھاؤ اور پیو رچ کر‘ بدلا اس کا جو آگے بھیج چکے ہو تم پہلے دنوں میں۔“
سے رمضان اور روزوں کے دن مراد ہیں کہ ان دنوں میں چونکہ روزہ داروں نے اللہ کے حکم کی تعمیل میں کھانا‘ پینا چھوڑ ا تھا‘ اس لئے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کو مخاطب کرکے فرمائیں گے کہ آج جنت میں خوب رچتا پچتا کھاؤ‘ پیو‘ کیونکہ تم نے گزشتہ دنوں میں رمضان اور روزے کے احترام اور میرے حکم کی تعمیل میں کھانا پینا چھوڑا تھا۔
۲:… ”عن ابی ہریرة رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”اعطیت امتی خمس خصال فی رمضان‘ لم تعطہن امة قبلہم: خلوف فم الصائم اطیب عند اللہ من ریح المسک‘ و تستغفرلہم االحیتان حتی یفطروا ویزین اللہ عزوجل کل یوم جنتہ‘ ثم یقول یوشک عبادی الصالحون ان یلقوا عنہم المؤمنة ویصیروا الیک وتصفد فیہ‘ مردة الشیاطین فلا یخلصوا فیہ‘ الی ما کانو یخلصون الیہ فی غیرہ‘ ویغفرلہم فی آخر لیلة‘ قیل یا رسول اللہ! اہی لیلة القدر؟ قال: لا‘ ولکن العامل انما یوفی اجرہ اذا قضیٰ عملہ۔“ (ترغیب ج:۲‘ ص:۵۵‘۵۶)
ترجمہ: ”حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ آنحضرت انے فرمایا کہ میری امت کو رمضان شریف کے بارہ میں پانچ چیزیں مخصوص طور پر دی گئی ہیں جو پہلی امتوں کو نہیں ملی ہیں۔
۱:… وہ یہ کہ ان کے منہ کی بدبو اللہ کے نزدیک مشک سے زیادہ پسندیدہ ہے۔
۲:… یہ کہ ان کے لئے دریا کی مچھلیاں تک دعا کرتی ہیں اور افطار کے وقت تک دعا کرتی رہتی ہیں۔
۳:… جنت ہر روز ان کے لئے آراستہ کی جاتی ہے‘ پھر حق تعالیٰ شانہ فرماتے ہیں کہ قریب ہے کہ میرے نیک بندے (دنیا) کی مشقتیں اپنے اوپر سے پھینک کر تیری طرف آویں۔
۴:… اس میں سرکش شیاطین قید کردیئے جاتے ہیں کہ وہ رمضان میں ان برائیوں کی طرف نہیں پہنچ سکتے جن کی طرف غیر رمضان میں پہنچ سکتے ہیں۔
۵:… رمضان کی آخری رات میں روزہ داروں کے لئے مغفرت کی جاتی ہے‘ صحابہ کرام eنے عرض کیا کہ: یہ شبِ مغفرت‘ شبِ قدر ہے؟ فرمایا: نہیں‘ بلکہ دستور یہ ہے کہ مزدور کو کام ختم ہونے کے وقت مزدوری دی جاتی ہے۔
۳:… ”عن ابی ہریرة رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”ثلاثة لاترد دعوتہم: الصائم حتی یفطر‘ والامام العادل ودعوة المظلوم… (ترغیب ج:۲‘ص:۶۳)
ترجمہ: ”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ انے فرمایا: تین آدمیوں کی دعا رد نہیں ہوتی‘ ایک روزہ دار کی افطار کے وقت‘ دوسرے عادل بادشاہ کی‘ تیسرے مظلوم کی…“
۴:… ”عن ابی سعید الخدریرضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”ان للہ تبارک و تعالیٰ عتقاء فی کل یوم ولیلة یعنی فی رمضان‘ وان لکل مسلم فی کل یوم ولیلة دعوة مستجابة۔“
(ترغیب‘ ج:۲‘ ص:۶۳)
ترجمہ: ”حضرت ابو سعید خدری  آنحضرت اکا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ رمضان المبارک کی ہر شب و روز اللہ کے یہاں سے (جہنم کے) قیدی چھوڑے جاتے ہیں اور ہر مسلمان کے لئے شب و روز میں ایک دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔“
اور اب سب سے آخر میں حضرت سلمان فارسیسے منقول آنحضرت ا کا طویل اور جامع ارشاد ملاحظہ ہو:
”حضرت سلمان فارسی سے روایت ہے کہ شعبان کی آخری تاریخ میں آنحضرت انے ہم لوگوں کو وعظ فرمایا کہ تمہارے اوپر ایک مہینہ آرہا ہے جو بہت بڑا مہینہ ہے‘ بہت مبارک مہینہ ہے‘ اس میں ا یک رات ہے‘ (شب قدر) جو ہزار مہینوں سے بڑھ کر ہے‘ اللہ تعالیٰ نے اس کے روزے کو فرض فرمایا اور اس کی رات کے قیام کو یعنی تراویح کو ثواب کی چیز بنایا ہے‘ جو شخص اس مہینہ میں کسی نیکی کے ساتھ اللہ کا قرب حاصل کرے‘ ایسا ہے جیسا کہ غیر رمضان میں ستر فرض ادا کرے‘ یہ مہینہ صبر کا ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے‘ اور یہ مہینہ لوگوں کے ساتھ غم خواری کرنے کا ہے‘ اس مہینہ میں مومن کا رزق بڑھادیا جاتا ہے‘ جو شخص کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرائے اس کے لئے گناہوں کے معاف ہونے اور آگ سے خلاصی کا سبب ہوگا اور روزہ دار کی مانند اس کو ثواب ہوگا‘ مگر اس روزہ دار کے ثواب سے کچھ کم نہیں کیا جائے گا‘ صحابہ کرام نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں سے ہر شخص تو اتنی وسعت نہیں رکھتا کہ وہ روزہ افطار کرائے‘ تو آپ انے فرمایا کہ (پیٹ بھر کھلانے پر موقوف نہیں)یہ ثواب تو اللہ جل شانہ کھجور سے کوئی افطار کرادے یا ایک گھونٹ پانی پلادے ‘ یا ایک گھونٹ لسی پلادے‘ اس پر بھی مرحمت فرمادیتے ہیں‘ یہ ایسا مہینہ ہے کہ اس کا اول حصہ اللہ کی رحمت ہے‘ درمیانی حصہ مغفرت ہے‘ اور آخری حصہ آگ سے آزادی ہے‘ جو شخص اس مہینہ میں ہلکا کردے اپنے غلام(خادم) کے بوجھ کو حق تعالیٰ شانہ اس کی مغفرت فرمادیتے ہیں‘ اور آگ سے آزادی فرمادیتے ہیں اور چار چیزوں کی اس میں کثرت رکھا کرو‘ جن میں سے دو چیزیں اللہ کی رضا کے واسطے اور دو چیزیں‘ ایسی ہیں کہ جن سے تمہیں چارہ کار نہیں‘ پہلی دو چیزیں جن سے تم اپنے رب کو راضی کرو‘ وہ کلمہ طیبہ اور استغفار کی کثرت ہے اور دوسری دو چیزیں یہ ہیں کہ جنت کی طلب کرو اور آگ سے پناہ مانگو‘ جو شخص کسی روزہ دار کو پانی پلائے حق تعالیٰ شانہ قیامت کے دن میرے حوض کوثر سے اس کو ایسا پانی پلائیں گے‘ جس کے بعد جنت میں داخل ہونے تک اس کو پیاس نہیں لگے گی۔“ (ترغیب‘ ج:۲‘ص:۵۷)
اللہ تعالیٰ ہم سب کو رمضان اور روزہ کی ان برکتوں سے سرفراز ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
بلاشبہ اگر آدمی قصد و تہیہ کرلے تو بڑے سے بڑا کام بھی اس کے لئے آسان ہوجاتا ہے‘ جبکہ یہ تو کوئی مشکل بھی نہیں‘ معمولی سی محنت سے اتنا بڑا اجر حاصل کیا جاسکتا ہے۔
الغرض رمضان کا کوئی لمحہ ضائع نہیں ہونا چاہئے اور روزوں کو اس اہتمام سے ادا کیا جائے جس اہتمام کی آنحضرت انے تعلیم دی ہے‘ تو انشاء اللہ! ایک رمضان کی قدر دانی پر ہی مغفرت الٰہی کا پروانہ مل جائے گا۔