لہٰذا یہ آیت تکبر و عجب کا علاج ہے، کوئی نیک عمل ہو جائے تو اکڑو مت ،بلکہ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا کہو،جو شخص کہہ دے گا رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ کبر سے پاک ہو جائے گا۔ جب اللہ تعالیٰ سے گڑگڑا رہا ہے تو اب اس میں تکبر کہاں رہا؟ جس میں بڑائی ہوتی ہے وہ کہاں گڑ گڑانا جانتا ہے؟ وہ تو اکڑنا جانتا ہے، ادھر اُدھر اپنی ڈینگیں ہانکتا ہے، لوگوں سے کہتا پھرتا ہے کہ آج تو ماشاء اللہ! بہت سویرے آنکھ کھل گئی۔ نوافل کے بعد رونے کی بھی توفیق ہوئی، میری آنکھیں نہیں دیکھتے ہو کیسی لال لال سی ہو رہی ہیں۔
حضرت حکیم الامت فرماتے ہیں کہ ایک ڈبل حاجی کے پاس ایک آدمی مہمان ہوا۔ اس حاجی نے دو حج کیے تھے۔ اس نے اپنے نوکر سے کہا کہ ارے فلانے! میرے مہمان کو اس صراحی سے پانی پلاؤ جو میں نے دوسرے حج میں مدینہ شریف سے خریدی تھی۔ حضرت فرماتے ہیں کہ اس ظالم نے ایک جملہ میں دونوں حج ضایع کر دیے۔ ہزاروں روپیہ کا خرچہ، آنے جانے کی محنتیں، طواف اور سعی، منیٰ اور عرفات کا ثواب، سب ضایع ہو گئے، کیوں کہ اپنے عمل کا اظہار کر دیا۔
بس اب دعا کیجیے کہ اللہ تعالیٰ عجب و کبر سے ، ریا سے اور جملہ ر ذائل سے ہمارے قلوب کو پاک فرمادے اور اپنی مرضیات پر عمل کی توفیق عطا فرمائے،آمین۔
حدیث نمبر۳۴
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ الْعَافِیَۃَ وَدَوَامَ الْعَافِیَۃِ وَالشُّکْرَ عَلَی الْعَافِیَۃِ؎
------------------------------