پوشیدہ طریقے سے اُونٹ گائے کی قربانی کرنا؟
سوال(۱۱۱):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: قربانی کے دنوں میں ہمارے یہاں سرکاری طور سے بھینس اور بھینسا کے لئے آرڈر ہے جو کھلم کھلاّ ہوتی ہے، اِس میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے، اَب اِس درمیان کوئی شخص پوشیدہ طریقے پر دوسرے جانوروں مثلاً اُونٹ اور گائے کی قربانی کردے تو قربانی درست ہوئی یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: بھینس وغیرہ کے علاوہ اُونٹ اور گائے کی بھی قربانی درست ہوتی ہے، اِس لئے اگر کوئی شخص اِن جانوروں کی قربانی کرے تو اُس کی قربانی صحیح ہوجائے گی؛ تاہم اپنی عزتِ نفس کو بچانا بھی ضروری ہے؛ لہٰذا قانون کی خلاف ورزی میں جب کہ نقصان کا اندیشہ ہے تو ایسا کام نہیں کرنا چاہئے۔ (مستفاد: فتاویٰ احیاء العلوم ۱؍۲۵۰)
قال اللّٰہ تعالیٰ: {وَاِذْ قَالَ مُوْسیٰ لِقَوْمِہٖ اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تَذْبَحُوْا بَقَرَۃً} [البقرۃ، جزء آیت: ۶۷]
وقال تعالیٰ: {وَمِنَ الْاِبِلِ اثْنَیْنِ وَمِنَ الْبَقَرِ اثْنَیْنِ} [الأنعام، جزء آیت: ۱۴۴]
عن ابن عباس رضي اللّٰہ عنہما قال: کنا مع رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم في سفر، فحضر الأضحیٰ، فاشترکنا في البقرۃ سبعۃً، وفي البعیر عشرۃً۔
وعن جابر رضي اللّٰہ عنہ قال: نحرنا مع رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بالحدیبیۃ البدنۃ عن سبعۃ والبقرۃ عن سبعۃٍ۔
عن علي رضي اللّٰہ عنہ قال: البقرۃ عن سبعۃ … الخ۔ (سنن الترمذي / باب ما جاء في الاشتراک في الأضحیۃ ۱؍۲۷۶، صحیح البخاري / باب الأضحیۃ للمسافر والنساء ۲؍۸۳۲، وکذا في إعلاء السنن، کتاب الأضاحي / بابٌ: أن البدنۃ عن سبعۃ ۱۷؍۲۰۵ إدارۃ القرآن کراچی)
عن جابر بن عبد اللّٰہ رضي اللّٰہ عنہ یقول: نحر رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ