اور کوشش کو رائیگاں نہیں کرتے۔پس اگر ہمّت سے کام لیکر عورت کے فتنہ سے بچنے کی کوشش کی جائے گی تو اللہ تعالیٰ ضرور مدد فرمائیں گے ۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ﴾اور جن لوگوں نےہماری خاطر کوشش کی ہے،ہم اُنہیں ضرور بالضرور اپنے راستوں پر پہنچائیں گے اور یقیناً اللہ نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔(آسان ترجمہ قرآن)
(3)حصولِ علم:
دین کا علم وہ روشنی ہے جو اِنسان کو اچھے بُرے کی تمیز سکھاتا ہے ،اُسے فائدہ اور نقصان کا شعور دیتا ہے،جس سے جاہل یکسر محروم رہتا ہے،یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں بڑی وضاحت و صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ جاننے اور نہ جاننے والے برابر نہیں ہوسکتے ۔
عورتوں کے فتنہ سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ اُس کے فتنہ سے آگاہی ہو،اس فتنہ کے مُضر اور مُہلک ہونے کاشعور ہو،عورت کے اچھے اور بُرے پہلوؤں کا اچھی طرح علم ہو تاکہ انسان بُرائی سے بچتے ہوئے اچھائیوں سے جائز حدود میں رہتے ہوئے فائدہ حاصل کرسکے،ظاہر ہے کہ ایک ایسا شخص جسے اِس کا اِدراک اور احساس ہی نہ ہوگا تو وہ کیسے اور کیونکر بچے گا ۔
پھر علم اپنے اندر عمل کی جاذبیت اور خشیت کی تاثیر رکھتا ہے ،چنانچہ یہی وجہ ہے کہ علم کی برکت سے عمل کی توفیق ملتی ہے،کیونکہ بد عملی اور بے عملی کے بُرے نتائج سے آگاہی ہوتی ہے، جس کی وجہ سے انسان محبّت اور عظمت کی وجہ سے نہ بھی سہی ،خوف ہی کی وجہ سے گناہوں اور جہالت والے کاموں سے بچ جاتا ہے ،جو یقیناً بڑا فائدہ ہے۔