موسیقی کے آلات کو توڑنے کا حکم دیا گیا ہے:
نبی کریمﷺکا اِرشاد ہے:”إِنَّ اللهَ بَعَثَنِي رَحْمَةً وَهُدًى لِلْعَالَمِينَ، وَأَمَرَنِي أَنْ أَمْحَقَ الْمَزَامِيرَ وَالْكَّنَارَاتِ، يَعْنِي الْبَرَابِطَ وَالْمَعَازِفَ، وَالْأَوْثَانَ الَّتِي كَانَتْ تُعْبَدُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ“اللہ تعالیٰ نے مجھے تمام جہانوں ک لئے رحمت و ہدایت بنا کر بھیجا ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ میں بانسریوں اور گانے بجانے کے سامان اور ان بتوں کو ختم کردوں جو زمانہ جاہلیت میں پوجے جاتے تھے۔(مسند احمد:22218)
ایک روایت میں ہے نبی کریمﷺکا اِرشاد ہے:”أُمِرْتُ بِهَدمِ الطَّبلِ وَالْمِزْمَارِ“ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ ڈھول اور بانسری کو مٹا دوں۔(کنز العمال:40639)
گھنٹیاں اور باجے شیطان کا ساز ہے:
حضرت ابوہریرہ ﷛نبی کریمﷺکا یہ اِرشاد نقل فرماتے ہیں:”الْجَرَسُ مَزَامِيرُ الشَّيْطَانِ“گھنٹی شیطان کا ساز ہے۔(مسند احمد:8850)
گانے باجے والوں کے ساتھ رحمت کے فرشتے نہیں ہوتے:
نبی کریمﷺکااِرشادہے:”لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رِفْقَةً فِيهَا كَلْبٌ أَوْ جَرَسٌ“ فرشتے اس جماعت کے ہم راہ نہیں ہوتے جس میں کتا یا گھنٹی ہو۔(ابوداؤد:2555)
ایک روایت میں ہے ،حضرت ام سلمہ ﷝سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے کچھ اونٹ دیکھے ان میں سے بعض( کے گلے) میں گھنٹی تھی۔ جب آپﷺ نے اس کی آواز سنی توپوچھا:”مَا هَذَا؟“یہ کیا ہے؟ایک آدمی نے عرض کیا: ”الْجُلْجُلُ“ یہ جلجل ہے۔آپ نے پوچھا جلجل کیا ہے؟اس نے کہا: گھنٹی۔آپﷺ نے فرمایا:”فَاذْهَبْ