امام ابویوسف ﷫کے نزدیک نماز فاسد نہ ہوگی، جبکہ حضرات طرفین﷮فرماتے ہیں کہ فاسد ہوجائے گی ۔اور یہی راجح ہے ۔(عُمدۃ الفقہ:246 ،247)(الدر المختار :1/620 ،621)
اپنے اِمام کے علاوہ کسی اور کو لُقمہ دینا
نماز پڑھنے والے کا اپنے اِمام کے علاوہ کسی اور کو لُقمہ دینا بشرطیکہ تلاوت کی غرض سے نہ ہو ،نماز کو فاسد کردیتا ہے ، خواہ وہ دوسرا شخص لُقمہ قبول کرے یا نہیں ، اِسی طرح وہ دوسرا شخص نماز میں ہو یا نہیں ،ہر صورت میں نماز فاسد ہوجاتی ہے ، اِس لئے کہ یہ نماز کے دوران دوسرے کو تعلیم دینا ہے جو کلام کے حکم میں ہے۔ اِسی طرح نماز کے دوران کسی ایسے شخص سے لُقمہ قبول کرنا جو نما زمیں نہیں ، یا اِس کے ساتھ نماز میں شریک نہیں ہے ، یہ بھی نماز کو فاسد کردیتا ہے، اِس لئے کہ یہ نماز کے دوران دوسرے سے تعلّم یعنی سیکھنا ہے جو کلام کے حکم میں ہے ۔
البتہ مقتدی کا اپنے اِمام کو لُقمہ دینا اور اِمام کا لُقمہ قبول کرلینا ،خواہ بقدرِ واجب قراءت کی جاچکی ہو یا نہیں ، اِمام کسی دوسری آیت کی طرف منتقل ہوچکا ہو یا نہیں ، اِسی طرح ایک مرتبہ ہو یا کئی مرتبہ ، ہر صورت میں نماز فاسد نہیں ہوتی ، کیونکہ یہ تعلیم و تعلّم (سیکھنا سکھانا)اِصلاحِ صلوۃ کی غرض سے ہے جس کا جواز نصوص سے ثابت ہے ، لہٰذا نماز فاسد نہیں ہوگی ۔(الدر المختار مع ردّ المحتار :1/622)