ہوتو دیکھا جائےگا کہ 45 ڈگری کے اندر اندر اِنحراف ہوا ہو تو نمازفاسد نہ ہوگی ، اور 45 ڈگری یا اس سے زیادہ اِنحراف کی صورت میں نماز فاسد ہوجائے گی۔(معارف السّنن:3/379)(ردّ المحتار : 1/430)
نماز کے دوران قہقہہ مار کر ہنسنا
رکوع و سجدے والی نماز کے دوران کسی بالغ شخص کا اِس قدر آواز کے ساتھ ہنسنا کہ جس کو دوسرے لوگ سن سکیں یا صرف اِسی قدر ہو کہ اُس کو خود سنا جاسکے ، یہ نماز کو فاسد کردیتا ہے، خواہ جان بوجھ کر ہنسا جائے یا بھولے سے، اِسی طرح نماز میں خواہ جاگتے ہوئے ہنسا جائے یا سوتے ہوئے ، ہرصورت میں نماز فاسد ہوجاتی ہے۔سجدہ تلاوت یا نمازِ جنازہ کے دوران قہقہہ مارکر ہنسنے سے وضو نہیں ٹوٹتا ، لیکن نماز ٹوٹ جاتی ہے۔(عالمگیری : 1/12)(الدر المختار : 1/144، 145)
ہنسنے کی صورتیں اور احکام :
ہنسنے کی تین صورتیں ذکر کی گئی ہیں : (1)قہقہہ۔ (2)ضحک۔ (3)تبسّم۔
”قہقہہ“ اس قدر زور سے ہنسنے کو کہا جاتا ہے کہ قریب میں موجود لوگ اُس آواز کو سن سکیں۔ اِس سے نماز فاسد ہوجاتی ہے ، اور اگر وہ نماز رکوع اور سجدے والی ہو، یعنی نمازِ جنازہ نہ ہو تو وضو بھی ٹوٹ جاتا ہے ۔
”ضحک “ اُس ہنسنے کو کہتے ہیں جس کی آواز خود سنی جائے ، قریب میں موجود اُس کو نہ سن سکیں ۔اِس سے نماز ٹوٹ جاتی ہے ، وضو نہیں ٹوٹتا۔
”تبسّم“ صرف مُسکرانے کو کہاجاتا ہے جس کی آواز نہیں ہوتی ۔ اِس سے نماز اور وضو دونوں نہیں ٹوٹتے، البتہ نماز مکروہ ہوجاتی ہے۔(عالمگیری : 1/12)(الدر المختار : 1/145)