ما في ’’ الشامیۃ ‘‘ : ویکرہ القزع ، وہو أن یحلق البعض ویترک البعض قطعاً مقدار ثلاثۃ أصابع ۔
(۹/۵۸۴ ، الحظروالإباحۃ ، باب الاستبراء وغیرہ ، فصل في البیع)
(۳) ما في ’’ سنن أبي داود ‘‘ :قو لہ علیہ السلام : ’’ من تشبہ بقوم فہو منہم ‘‘ ۔
(ص/۵۵۹ ، کتاب اللباس ، باب لباس الشہرۃ)
مردوں کے لیے کریم پاؤڈر کا استعمال
مسئلہ(۱۵۴): بعض لڑکے ایسے کریم وپاؤڈراستعمال کرتے ہیں جن کا مقصد زینت ہواکرتا ہے ،یہ شرعاً ناجائز ہے ۔(۱)
فصل في الأکل والشرب
کھانے پینے سے متعلق
میز کرسی پر کھانا
مسئلہ(۱۵۵): اگر میز کرسی پر کھانا کھا نے میں کفار وفساق، یا متکبرین کے ساتھ تشبہ کی نیت ہو تومیز کرسی پر کھانا ناجائز ہے ،اگر تشبہ کی نیت نہ ہو تب بھی خلاف ِسنت ہے، اس لئے اس سے احتراز لازم ہے ، لیکن آج کل ہوٹلوں میں نیچے بیٹھ کر کھانے کا انتظام نہیں ہوتا، یاایسے مقامات جہاں اس میں ابتلاء عام ہوتو میز کرسی پر کھانے کی گنجائش ہے ۔(۲)
مالک کی اجازت کے بغیردرخت کے پھل کھانا
مسئلہ(۱۵۶): بعضے طلباء اطراف واکناف میںموجود کھیتوں کے درختوں سے، ان کے مالکوں کی اجازت کے بغیر پھلوں کو توڑ کر کھالیتے ہیں، یا بسا اوقات توڑتے نہیں، بلکہ گرے ہوئے پھلوں کو اٹھا کر کھالیتے ہیں، یالے آتے ہیں ،تینوں صورتیں شرعاً جائز نہیں ہیں۔(۳)
------------------------------
الحجۃ علی ما قلنا :
(۱) ما في ’’ صحیح البخاري ‘‘ : عن ابن عباس رضي اللہ عنہما قال : ’’ لعن رسول اللہ ﷺ المتشبھین من الرجال بالنساء ، والمتشبہات من النساء بالرجال ‘‘ ۔