فحش ناول ،کامکس، اخبارات وجرائم پڑھنا
مسئلہ(۱۶۹): آج کل بہت سے نوجوان فحش ناول، کامکس، اخبار ورسائل اورماہنامہ جرائم وغیرہ پڑھتے ہیں، جن میں جرائم پیشہ افراد کے حالات و واقعات، طریقہائے جرم، فحش اورگندے اشعار، فحاشی اور عریانیت کو عام کرنے والے مواد، اور بعض ایسے جملے اور ڈائیلاگ ہوتے ہیں، جن سے اسلامی اخلاق سوزی اور ایمان کشی لازم آتی ہے، انہیں پڑھنا اور شائع کرنا شرعاً ناجائز وحرام ہے۔ (۱)
اظہارِ مسرت یا ہنگامی صورت میں تالیاں ،سیٹیاں بجانا اور چیخنا چلانا
مسئلہ(۱۷۰): کسی جلسے جلوس،دینی یا دنیوی پروگرام ،فنکشن ومیٹنگ، کانفرنس و سیمینار میںکسی اچھی اوردل لبھاتی بات پر،یا کھیل کود یا کسی اورہنگامی صورت میں اظہارِمسرت کیلئے تالیاں اور سیٹیاں بجاکرداد وتحسین دینااورچیخنا چلانا شرعاًممنوع اور مکرو ہِ تحریمی ہے ،اولاً: اس وجہ سے کہ یہ لہو لعب کی صورت ہے ، اور ثانیاً:اس وجہ سے کہ کفارِ یورپ وغیرہ کی مشابہت ہے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادہے :’’جوشخص کسی قوم کی مشابہت پیداکرے گا وہ اسی قوم میں سے ہوگا‘‘۔(۲)
------------------------------
= ما في ’’ بدائع الصنائع ‘‘ : الوسیلۃ إلی الحرام حرام ۔ (۶/۴۸۸ ، کتاب الاستحسان)
الحجۃ علی ما قلنا :
(۱) ما في ’’ القرآن الکریم ‘‘ : قولہ تعالی : {ومن الناس من یشتري لہو الحدیث لیضل عن سبیل اللہ بغیر علم} ۔ [سورۃ لقمٰن :۶] وقولہ تعالی : {إن الذین یحبون أن تشیع الفاحشۃ في الذین اٰمنوا لہم عذاب ألیم} ۔ (سورۃ النور :۱۹)
ما في ’’ المعجم الأوسط للطبراني ‘‘ : عن عمر بن الخطاب قال : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’ کل لہو یکرہ إلا ملاعبۃ الرجل امرأتہ ، ومشیہ بین الہدفین ، وتعلیمہ فرسہ ‘‘ ۔ (۵/ ۲۳۶ ، رقم الحدیث : ۶۱۸۳)
ما في ’’ الشامیۃ ‘‘ : کل لہو المسلم حرام ۔ (۹/ ۵۶۶ ، الحظر والإباحۃ ، باب الاستبراء وغیرہ)
ما في ’’ الہدایۃ ‘‘ : لأن الأصل أن سبب الحرام حرام ۔ (۴/۴۶۶ ، کتاب الکراہیۃ ، بدائع الصنائع :۶/ ۴۸۸ ، کتاب الاستحسان ، المقاصد الشرعیۃ :ص/۴۶ ، اعلام الموقعین :۳/ ۱۷۵، الأشباہ لإبن نجیم : ۱/۱۱۳)
الحجۃ علی ما قلنا :
(۲) ما في ’’ القرآن الکریم ‘‘ : قولہ تعالی : {وما کان صلوتہم عند البیت إلا مکاء وتصدیۃ} ۔ =