مسجد میں داڑھی یا سر میں کنگھی کرنا
مسئلہ(۵۳): اگر کوئی شخص مسجد میں بیٹھ کر داڑھی یا سر میں کنگھا کرتاہے، جس کی وجہ سے داڑھی کے بال مسجد میں گرتے ہیں ،اور مصلیوں کو تکلیف ہوتی ہے، تو یہ آدا بِ مسجد میںمخل اور دیگر مصلیانِ مسجد کیلئے باعثِ اذیت ہونے کی وجہ سے مکروہِ تحریمی ہوگا، کیوںکہ ہمیں بیت اللہ کو تمام ظاہری وباطنی نجاستوں سے پاک وصاف کرنے کا حکم دیا گیا ہے (۱) ، اورتمام مسجدیں بیت اللہ کے متعلق اس حکم میں داخل ہیں ۔(۲)
------------------------------
= أقبح وأشنع بأن یضل شيء خارج المسجد ثم ینشدہ في المسجد لأجل اجتماع الناس فیہ ، والثانیۃ : أن یضل في المسجد نفسہ فینشدہ فیہ ، وہذا یجوز إذا کان من غیر لغط وشغب ۔
(۳/۳۱۳ ، باب ما جاء في کراہیۃ البیع والشراء وانشاد الضالۃ والشعر في المسجد)
ما في ’’ حاشیۃ الطحطاوي علی الدر المختار ‘‘ : قال العلامۃ الطحطاوي : قولہ : (والمجامع) أي مجامع الناس کالمساجد والأسواق والشوارع إلا أنہ ینادي علی أبواب المساجد لا فیہا ۔
(۲/۵۰۱ ، بحوالہ احسن الفتاوی : ۶/۷۷۴) (فتاویٰ مفتی محمود : ۱/۴۵۹، فتاویٰ محمودیہ:۱۵/۲۱۲)
ما في ’’ مجمع الأنہر ‘‘ : (وفي المجامع) أي مجامع الناس کأبواب المساجد والأسواق ، فإنہ أقرب إلی وصول الخبر اہـ ۔ (۲/۵۲۵ ، کتاب اللقطۃ)
الحجۃ علی ما قلنا :
(۱) ما في ’’ القرآن الکریم ‘‘ : قولہ تعالی : {أن طہرا بیتي للطآئفین والعاکفین والرکع السجود} ۔ (سورۃ البقرۃ :۱۲۵)
ما في ’’ القرآن الکریم ‘‘ : قولہ تعالی : {وطہر بیتي للطائفین والقائمین والرکع السجود} ۔
(سورۃ الحج :۲۶)
ما في ’’ التفسیر الکبیر للرازي ‘‘ : وأما قولہ : {أن طہرا بیتي} فیجب أن یراد بہ التطہیر من کل أمر لا یلیق بالبیت ۔ (۱/۴۶)
ما في ’’ حلبي کبیر ‘‘ : ولأن تنزیہ المسجد من القذر واجب ۔ (ص/۶۱۲)
ما في ’’ قواعد الفقہ ‘‘ : ’’ الأمر للوجوب ‘‘ ۔ (ص/۶۲)
(۲) ما في ’’ معارف القرآن شفیعي ‘‘ : لفظ ’’ بیتي ‘‘ میں اس طرف اشارہ ہے کہ یہ حکم تمام مساجد کے لئے عام ہے، کیوں کہ ساری مساجد بیوت اللہ ہیں، جس طرح بیت اللہ کا تمام ظاہری و باطنی نجاست سے پاک رکھنا ضروری ہے اسی طرح سے تمام مساجد کو بھی پاک رکھنا واجب ہے۔ (۱/۳۲۳)
ما في ’’ الجامع لأحکام القرآن للقرطبي ‘‘ : وأما قولہ : {طہر بیتي} دخل فیہ بالمعنی جمیع =