نجاستِ غلیظہ وخفیفہ کو پاک کرنے کا طریقہ
مسئلہ(۲۴): اگر کپڑے پر ایسی نجاست لگ جائے جو سوکھنے اور خشک ہونے کے بعد نظر آئے اور کپڑے کو بالٹی میں بھگو کر نکال لیا جائے اور اس کو نچوڑ لیا جائے اور نجاست زائل ہوجائے تو وہ پاک ہوگا اور اگر کپڑے پر ایسی نجاست لگ جائے جو خشک ہونے کے بعد نظر نہ آئے تو اس کو محض بالٹی میںبھگو کر نکال لینے سے وہ پاک نہیں ہوگا، بلکہ اس کی پاکی کے لیے اس کو تین مرتبہ دھونا اور ہر بار نچوڑنا ضروری ہے۔(۱)
------------------------------
=ما في ’’البحر الرائق‘‘: یطھر البدن والثوب بالماء وھذا بالإجماع و أراد بہ الماء المطلق فتحصل الطھارۃ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کان الثوب في إجانۃ وأورد الماء علیہ أو کان الماء فیھا وأورد الثوب المنجس علیہ عندنا فھو طاھر في محل نجس إذا الفضل سواء تغیر أولا۔
(۱/۳۸۴ ،۳۸۶)
ما في ’’ الفتاوی الہندیۃ ‘‘: وإذا غمس الرجل یدہ في السمن النجس أو أصاب ثوبہ ثم غسل الید أو الثوب بالماء یطھر۔ (۱/۴۲ ، الفصل السابع)
ما في ’’ترتیب اللآلي في سلک الأمالي‘‘: بقاعدۃ فقھیۃ: ’’ إذا زال المانع عاد الممنوع ‘‘ ۔
(۱/۲۸۰) (اغلاط العوام :ص۴۰)
الحجۃ علی ما قلنا
(۱) ما في ’’ القرآن الکریم ‘‘: {وثیابک فطہر}۔ (سورۃ المدثر:۴)
ما في ’’المبسوط للسرخسي‘‘: ولو غسل ثوب نجس في إجانۃ بماء نظیف ثم في أخری فقد طہر الثوب وہذا استحسان ۔ ثم المرئیۃ لا بد من إزالۃ العین بالغسل وبقاء الأثر بعد زوال العین لا یضر وغیر المرئیۃ فإنہا تغسل ثلاثاً ۔ (۱/۲۲۲)=