ذوالحجہ ۱۴۲۷ھ جنوری۲۰۰۷ء, جلد 69, شمارہ 12
حج میں پیش آنے والی مشکلات اور ان کا تدارک
حج میں پیش آنے والی مشکلات!
اور ان کا تدارک


الحمدللہ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ!
سعودی حکومت اور وزارتِ حج کی طرف سے ”سعودی عرب میں حجاج کو پیش آنے والی مشکلات اور ان کا تدارک“ کے سلسلہ میں منعقد ہونے والی ایک کانفرنس کی مناسبت سے لکھے گئے پیشِ نظر مضمون کو قارئینِ بینات کے افادہ کے لئے پیش کیاجارہاہے۔
جس کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ پاکستان کی وزارت ِحج، حجاج کی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے اپنے ذرائع سے سعودی حکومت سے حجاج کی مشکلات کے ازالہ کی اپنی سی کوشش کرے اور جتنا ہوسکے وہ حجاج کوراحت وآرام پہنچانے میں اپنا بھر پور کردار اداکرے۔(مدیر)
حج ارکانِ اسلام میں سے اہم ترین رکن اور فرائضِ اسلام میں سے ایک فرض ہے۔ حج کی ادائیگی کے لئے چونکہ سال کے مخصوص دنوں اور ایک مخصوص مقام کو منتخب کیا گیا ہے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو اپنے اپنے ملکوں،علاقوں اور وطن سے دوردراز کا سفر کرکے مخصوص دنوں اور مخصوص مقام پر پہنچنا ہوتا ہے‘ اس لئے اس میں تکالیف و مشکلات کا پیش آنا ایک فطری امر ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں اعلانِ حج کے ساتھ حج میں پیش آنے والی انہی مشکلات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے:
”وَ اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجّ یَأتُوْکَ رِجَالاً وَّ عَلٰی کُلِّ ضَامِرٍ یَأتِیْنَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ۔“ (الحج:۲۷)
ترجمہ: ”اور لوگوں میں حج کا اعلان کردو‘ لوگ تمہارے پاس چلے آویں گے پیادہ بھی اور دُبلی اونٹنیوں پر بھی‘ جو کہ دوردراز راستوں سے پہنچی ہوں گی۔“
بلاشبہ اس ارشاد الٰہی میں ”دُبلی اونٹنیوں“ اور ”دور دراز راستوں“ کے الفاظ سے حج کی مشکلات کی طرف واضح اشارہ موجود ہے۔ بہر حال حج ارکانِ اسلام میں سے پانچواں رکن ہے اور یہ زندگی میں ایک ہی بار فرض ہوتا ہے‘ اس لئے عموماً حجاج کرام اس کے مسائل و احکام سے ناآشنا اور ناواقف ہوتے ہیں‘ پھر اس پر مستزاد یہ کہ اس کے مسائل و احکام بہرحال مشکل بھی ہیں‘ جبکہ عام طور پر … الاَّ ما شاء اللہ… لوگوں کو زندگی میں ایک آدھ بار ہی اس کی سعادت میسر آتی ہے‘ اس لئے اس کے مسائل کا استحضار ان کے لئے جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔
اس کے علاوہ بہت سے حجاج کرام کے لئے زندگی میں سفر کا بھی یہ پہلا ہی موقع ہوتا ہے‘ اس لئے وہ دُہری مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں‘ اوپر سے جب ان کو نامانوس حالات‘ مشکلات اور مسائل کا سامنا ہو تو اکثر و بیشتر حضرات اس صورتِ حال سے گھبرا جاتے ہیں‘ جس کے نتیجے میں یا تو ان کی حج جیسی عظیم عبادت ضائع ہوجاتی ہے‘ یا پھر کم از کم ناقص و ناتمام رہ جاتی ہے۔ چنانچہ کچھ لاعلم اور کج فہم لوگ ان حالات سے گھبرا کر اس بابرکت سفر کو اپنی زندگی کی غلطی اور اس عبادت کو ․․․․․نعوذباللہ!․․․․ جرم سمجھنے لگتے ہیں‘ یہی وجہ ہے کہ ایسے ہی بعض حضرات کو یہ کہتے سنا گیا ہے کہ ہم نے یہ کام کرکے شاید غلطی کی ہے۔ لہٰذا حجاج کرام جب کثیر مصارف اٹھا کر دوردراز کا سفر کرکے اس فریضہ کی ادائیگی کے لئے آتے ہیں تو دنیا بھر کی مسلم حکومتوں اور علمائے کرام کے علاوہ سعودی حکومت اور وزارتِ حج کا بطور خاص یہ فرض بنتا ہے کہ وہ ان کی ہدایت و راہ نمائی اور بیش از بیش راحت و سہولت کا انتظام کریں‘ اگرچہ سعودی حکومت حجاج کی خدمت میں کوئی کمی اور کسر نہیں اٹھا رکھتی‘ تاہم عام طور پر حجاج کرام کو جو مشکلات پیش آتی ہیں اور جن سے وہ پریشان ہوجاتے ہیں‘ان کاازالہ از حد ضروری ہے، ان میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:
۱:… مسلم حکومتوں‘ علمائے کرام اور مسلم کمیونٹیز کا فرض ہے کہ وہ اپنے علاقہ اور ملک کے حجاج کی تربیت کریں‘ ان کو حج جیسی عظیم عبادت کی اہمیت و عظمت سے روشناس کرائیں‘ حج کے مسائل و احکام کی تعلیم پر مبنی تربیت کا اہتمام کریں اور یہ بتلائیں کہ یہ عشق و محبت کا سفر ہے‘ اس میں اگر کچھ مشکلات درپیش ہوں‘ تو وہ ان سے دلبرداشتہ نہ ہوں‘ بلکہ انہیں محبوب کی ملاقات میں پیش آنے والی مشکلات کی مانندخوش دلی سے برداشت کریں اور اس سفر میں عفو و درگزر سے کام لیں۔
۲:… ہر‘ ہر علاقہ کے مسلم اسکالر‘ علمائے کرام اور اربابِ فتویٰ کی خدمات حاصل کرکے وہاں کی مقامی آبادی کی زبان اور فقہ کے مطابق احکام و مسائل سے انہیں روشناس کرایا جائے اور ان کی فقہ کے مطابق احکام ِحج پر مشتمل عام فہم اور آسان انداز کے رسائل ا ور کتب انہیں مہیا کی جائیں۔
اسی طرح حکومت سعودیہ کا بھی فرض ہے کہ وہ ہر حاجی کو اس کی اپنی فقہ کی کتب و رسائل پر عمل کرنے کی آزادی مہیا کرے‘ جدہ ایئرپورٹ پر حجاج کو فقہ حنبلی ، شیخ بن باز اور شیخ عثیمین کے فتاویٰ اور اجتہادات پر مبنی رسائل مہیا کرنے کی بجائے انہیں ایسے رسائل اور کتب مہیا کی جائیں‘ جن میں چاروں فقہاء کی فقہ کے مطابق مسائل حج بیان کئے گئے ہوں‘ اس لئے کہ شیخ بن باز اور شیخ عثیمین کی علمی جلالت کے اعتراف کے باوجود بہرحال ان کا اجتہاد اور فقہ و فتویٰ امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کی فقہ و فتویٰ اور اجتہاد کا مقابلہ نہیں کر سکتا ۔
۳:… حجاج کرام کی راہ نمائی کے لئے دعوت و ارشاد کے مراکز میں فقہ حنفی‘ فقہ مالکی‘ فقہ شافعی اور فقہ حنبلی کو برابر کی نمائندگی ملنی چاہئے، تاکہ جو لوگ جس فقہ سے تعلق رکھتے ہوں‘ وہ اپنے اپنے ذوق کے مطابق اپنی فقہ کے نمائندوں سے مسائل پوچھ سکیں‘ اس لئے کہ چاروں فقہاء کی فقہ بہرحال حق و ثواب ہے‘ اور ان کا اختلاف اصولی نہیں‘ فروعی ہے۔ لہٰذا حجاج کو اس ذہنی الجھن سے نجات دلائی جائے اور انہیں مسلکی تشویش میں مبتلا نہ کیا جائے‘ کیونکہ بہت سے حضرات اپنی کم استعداد کی بنا پر اس فروعی اختلاف سے پریشان ہوکر سرے سے دین و ایمان سے ہی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں‘ چنانچہ بہت سے حضرات کو یہ کہتے سنا گیا ہے کہ آخر اصلی دین کون سا ہے؟
۴:… حجاج کرام کو حرمین میں رہائشی مکانات کے معاملہ میں بھی بہت مشکلات پیش آتی ہیں‘ مثلاً حرم سے دوردراز اونچائی پر واقع مکانات کو جب وزارتِ حج کی جانب سے کرایہ پر چڑھانے کا اجازت نامہ اور تصریح مل جاتی ہے تو ضعیف‘ بوڑھوں‘ مریضوں اور خواتین کو وہاں آنے جانے میں شدید تنگی ہوتی ہے‘ اسی آمدورفت میں بہت سے حجاج راہ بھٹک جاتے ہیں تو کئی مریض ہوجاتے ہیں اور کئی ایک حرم کی برکات سے محروم رہتے ہیں۔
۵:… حرم کے قریب جتنا نئی عمارتیں بن رہی ہیں‘ ان میں ایشین ٹوائلٹ ختم کرکے انگلش باتھ روم اور کموڈ نصب کئے جارہے ہیں‘ بلاشبہ معذوروں کے لئے یہ بہت مفید ہیں‘ مگر زیادہ تر حجاج اس کے طریقہ استعمال سے قاصر وناواقف ہوتے ہیں‘ چنانچہ کچھ لوگ ان پر پاؤں رکھ کر فراغت حاصل کرنے کی صورت میں توازن برقرار نہ رکھتے ہوئے گر کر زخمی ہو جاتے ہیں،جب کہ اس انداز سے کموڈ ناپاک ہوجاتے ہیں‘ جس کی وجہ سے انہیں بعد میں استعمال کرنے والوں کے کپڑے اور جسم ناپاک ہوجاتے ہیں‘ یوں وہ پاکی و ناپاکی کے شک میں مبتلا ہوکر عبادت کی لذت سے محروم ہوجاتے ہیں‘ اس لئے ہر باتھ روم میں کموڈ اور ایشین ڈبلیو سی دونوں نصب کئے جائیں۔
۶:… جدید عمارتوں میں کچن اور مطبخ پر پابندی عائد کرکے غریب اور متوسط حجاج کی مشکلات میں اضافہ کردیا گیا ہے‘ کیونکہ ہر حاجی نہ تو ہوٹل کا کھانا کھاسکتا ہے اور نہ ہی اس کے مصارف کا متحمل ہوسکتا ہے‘ اسی طرح آزاد حج ٹور آپریٹر کسی سرکاری منظور شدہ کچن سے کھانا مہیا تو کرلیتے ہیں‘ مگراس پر اُٹھنے والے مصارف کا سارا بوجھ حاجی کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ چنانچہ بہت سے سفید پوش حاجی نہ تو ان مصارف کے متحمل ہوتے ہیں اور نہ ہی اس کا اظہار کرسکتے ہیں جس کی وجہ سے بعض اوقات ان پر سفری اخراجات میں تنگی کی نوبت آجاتی ہے۔
۷:… منیٰ‘ عرفات میں مطوفین ومعلمین کی جانب سے مہیا کئے جانے والے خیموں میں حجاب و پردے کا اہتمام نہیں ہوتا‘ اسی طرح حجاج کی تہذیب و ثقافت کا بھی خیال نہیں رکھا جاتا‘ مثلاً: اکیلے اور مجرد حجاج کو خیموں میں ایسی فیملیوں کے ساتھ رکھ دیا جاتا ہے‘ جو باحجاب و باپردہ ہوتی ہیں‘ چنانچہ اس صورتِ حال کے پیشِ نظر بہت سی باپردہ خواتین اپنی حوائجِ ضروریہ میں تنگی محسوس کرتی ہیں اور وہ نیند و آرام سے بھی محروم رہتی ہیں‘ لہٰذا مطوفین ومعلمین کو اس کا پابند کیا جائے کہ وہ اس کا خیال رکھیں‘ اس لئے مناسب اور ضروری ہوگا کہ تہذیب و ثقافت کے اعتبار سے قریب ترین لوگوں کو ہی ایک ساتھ خیموں میں رکھا جائے۔
۸:… منیٰ اور عرفات میں خواتین کے وضوخانوں کو باپردہ کیا جائے‘ کیونکہ احرام یا برقعہ کی حالت میں ان کا وضو کرنا نہایت مشکل ہوتا ہے‘ جبکہ بعض علاقوں کے مرد حضرات سرِ عام استنجاء اور طہارت حاصل کرنے میں بھی عار محسوس نہیں کرتے، جو کسی اعتبار سے بھی قابلِ برداشت نہیں۔
۹:… منیٰ میں وضوخانوں اور باتھ روم کی تعداد بڑھائی جائے‘ اس لئے کہ موجودہ وضو خانے اور باتھ روم ناکافی ہیں جس کی وجہ سے لمبی لمبی لائنیں لگانی پڑتی ہیں اور بعض اوقات حجاج کرام با جماعت نمازسے بھی محروم ہوجاتے ہیں، کیونکہ موجودہ باتھ روم اوسطاََ سو حجاج پر ایک کے تناسب سے بنائے گئے ہیں۔
۱۰:… جمرات کے اردگرد کے کھلے میدان‘ طریق ِمشاط اور عام راستوں پر حجاج کو نہ بیٹھنے دیا جائے‘ کیونکہ زیادہ تر اموات اور حادثات اس کی وجہ سے ہی ہوتے ہیں۔
۱۱:… حرم سے منٰی آنے جانے والے تمام راستوں کو چوبیس گھنٹے کھلا رکھا جائے تاکہ طواف و سعی کے لئے آنے جانے والے حجاج بآسانی اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکیں‘ کیونکہ یہ دیکھا گیا ہے کہ حرم سے منیٰ آنے جانے والے حضرات اکثر و بیشتر کئی کئی گھنٹوں تک سڑکوں پر اور گاڑیوں میں پھنسے رہتے ہیں‘ جس کی وجہ سے معذور و کمزور حضرات شدید ذہنی اور اعصابی تناؤ کا شکار ہوجاتے ہیں‘ اسی طرح وہ حضرات جو کسی وجہ سے پیدل نہیں چل سکتے‘ وہ بھی بے بسی کا شکار نظر آتے ہیں۔ لہٰذا مناسب ہوگا کہ اس کے لئے شٹل سروس چلائی جائے اور منیٰ میں چھوٹی گاڑیوں کا داخلہ مکمل طور پر بند کردیا جائے۔
۱۲:… جو مقامی حضرات منیٰ میں مبیت اور رات گزارنے کو واجب جانتے ہیں‘ ان کے لئے منیٰ میں رات گزارنے اور مبیت کا الگ انتظام کیا جائے‘ ان کو سڑکوں پر پارکنگ کرنے اور خیمہ زن ہونے سے روکا جائے اور ٹریفک کو رواں رکھنے کے لئے سڑکوں کو خالی رکھا جائے۔
۱۳:…دس ذوالحجہ کے اعمال و ارکان یعنی رمی،قربانی، اور حلق میں عدمِ ترتیب کے سلسلہ میں ”افعل ولا حرج“․․․․․ترتیب کی پرواہ نہ کیجئے،کوئی حرج نہیں․․․․․․ کے فتویٰ کو احناف اور دوسرے فقہاء کے متعلقین کے بجائے صرف امام احمد بن حنبل کے متعلقین کی حد تک خاص کیا جائے۔ بصورت دیگر جن حضرات کے نزدیک ترتیب واجب ہے‘ اورترتیب کی خلاف ورزی پر ان کے ذمہ دم ہو جاتا ہے‘ اور وہ اس فتویٰ کی رو سے دم نہیں دیں گے تو ان کا حج ناقص رہ جائے گا اور عدم ادائیگی دم کی صورت میں ان کو اپنے حج کے ناقص رہ جانے کا شدید احساس ہوگااور وہ اس پر حکومت سعودیہ کو شدید کوسنے دیں گے۔
۱۴:… حجاج کرام کے لئے سعودی حکومت کی جانب سے مترجم قرآن کریم کے تحفہ کی شکل میں غیرمقلدین کی مطبوعہ تفسیر کی ترویج بند کی جائے‘ یا کم از کم چاروں فقہ کے تراجم و تفاسیر شائع کرکے ہر شخص کو اس کی اپنی فقہ کی آئینہ دار تفسیر و ترجمہ قرآن کے انتخاب کی سہولت مہیا کی جائے۔ اگر ایسا ممکن نہیں ہے تو ایک ایسا ترجمہ یا تفسیر مرتب کی جائے جس میں کسی خاص مکتبہ فکر کی ترجمانی یا اس کی طرف جھکاؤ نہ ہو‘ جبکہ موجودہ صورت ِحال میں سعودی حکومت پر فرقہ واریت اور تنگ نظری کے الزامات لگنے کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔
۱۵:… ہر دو سال بعد حکومت سعودیہ کی جانب سے ایسی کانفرنسوں اور اجتماعات کا اہتمام کیا جائے‘ جس سے حجاج کرام کی مشکلات اور نئے نئے پیش آمدہ مسائل کا حل تلاش کیا جائے اور دنیا بھر کے اصحاب رائے ارباب ِعلم اور فقہ و فتاویٰ کے اکابرین کو جمع کرکے نت نئی صورت حال کا جائزہ لے کر اس کے حل کے لئے متفقہ لائحہ عمل طے کیا جائے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو انتشار سے بچانے کے لئے وہاں کے مسلم اسکالر اور علمأ کو بھی اعتماد میں لیا جائے۔
۱۶:… منیٰ‘ مکہ مکرمہ میں داخل ہوچکا ہے یا نہیں؟ اس کا سرکاری اعلان کیا جائے ،تاکہ جن لوگوں کا مکہ مکرمہ اور منیٰ کا مجموعی قیام پندرہ دن کا ہو‘ اور وہ فقہ حنفی سے تعلق رکھتے ہوں‘ وہ اپنے آپ کو مقیم سمجھ کر پوری نماز ادا کرسکیں۔
۱۷:… مسجد حرام یا مسجد نبوی کے تمام مدرسین کو اس کا پابند کیا جائے کہ وہ چاروں ائمہ: امام مالک، امام ابوحنیفہ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل میں سے کسی کی ذات‘ ان کی فقہ اور فقہی اجتہادات پر کیچڑ نہ اچھالیں۔ اگر کوئی مدرس اس سے باز نہ آئے‘ تو اس کو اس مسند سے فی الفور ہٹا دیا جائے۔ الغرض ان کو رواداری کی تلقین کی جائے اور شدت سے اس پر عمل کرایا جائے‘ کیونکہ سننے بلکہ مشاہدہ میں آیاہے کہ بعض تنگ نظر مدرسین‘ امام الائمہ حضرت امام ابو حنیفہ کے خلاف غیرمحتاط زبان استعمال کرتے ہوئے انتہائی نازیبا کلمات کہتے ہیں‘ جس کی وجہ سے حنفی حجاج کرام ان سے الجھتے ہیں اور حرمین کی فضا مکدر آلودہ اور خراب ہوجاتی ہے۔
۱۸:… جدہ سے مکہ مکرمہ یا مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ اور مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ حجاج کو لے جانے والے بس ڈرائیور حضرات عموماََراستوں سے ناواقف ہوتے ہیں،جس کی وجہ سے ایک تو وقت ضائع ہوتا ہے، دوسرے ضعیف و کمزوراورمریض حجاج پریشان ہوتے ہیں،تیسرے یہ کہ وہ حجاج کی نمازوں کا خیال نہیں کرتے اور بلاوجہ جمع بین الصلوٰتین کی آڑ میں ان کی نمازیں قضا کرادیتے ہیں‘ ان کو اس کا پابند کیا جائے کہ وہ حجاج کی نمازوں کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنائیں،اور ان کے لئے راستوں سے واقف کار راہنماء اورمرشدوں کا بھی انتظام کیا جائے۔
۱۹:… جب سے مطوفین ومعلمین کو بذریعہ نیلامی مکتب نمبر الاٹ کئے جانے کا نظم طے ہوا ہے‘ اس وقت سے مطوفین و معلمین نے اضافی سہولتوں کے نام سے اضافی اخراجات کا مطالبہ شروع کردیا ہے‘ اور عملاً ایسا ہورہا ہے‘ چنانچہ شنید ہے بلکہ مشاہدہ ہے کہ ایک‘ ایک حاجی سے سات سو سے پندرہ سو ریال تک مزید طلب کرکے حجاج کو زیربار کیا جاتاہے ،اس سے حجاج کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوجاتاہے۔
۲۰:… ایسے حجاج کرام جو اضافی اخراجات برداشت نہیں کرسکتے‘ انہیں بہت دور منیٰ سے باہر اور مزدلفہ کی حدود میں ٹھہرایا جاتا ہے‘ اس پر بھی ان سے کم از کم دوسو ریال مزید طلب کیے جاتے ہیں،چنانچہ ان کا روزانہ رمی کے لئے جمرات تک آنا جانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے‘ خصوصاً کمزور‘ معذور اور خواتین کو بہت ہی پریشانی ہوتی ہے۔ بلاشبہ ایسے حجاج کا اس لئے کوئی پُرسان حال نہیں ہوتا کہ وہ سات سو سے پندرہ سو ریال تک کے اضافی اخراجات نہیں دے سکتے،بہر حال اس کابھی کوئی معقول و مناسب حل تلاش کیا جائے۔
۲۱:․․․․سب سے آخری بات یہ ہے کہ حج ایک مقدس فریضہ اور اسلام کا رکنِ ا عظم ہے،اس کو تجارت کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ہمارے خیال میں حجاج کی موجودہ مشکلات میں اضافہ کاایک سبب یہ سوچ بھی ہے کہ معلّمین، مطوفین اور سعودی وزارت ِحج نے ا س کو زرِمبادلہ اور تجارت کا ذریعہ تصور کرلیا ہے ،جب کہ اس سے قبل سعودی حکومت حج کو خالص عبادت کے نقطہ نگاہ سے دیکھتی تھی اور حجاج سے کسی قسم کی مالی منفعت کے بجائے ان پر خرچ کرنے اور ان کو راحت پہنچانے کو اپنی سعادت سمجھتی تھی۔
غالباََاسی کی برکت تھی کہ اس دوران سعودی حکومت مالی اعتبار سے مضبوط و مستحکم تھی، مگر افسوس! کہ جب سے وزارت حج اور معلمین و مطوفین کی فکر و سوچ کا زاویہ بدلا ہے، اس وقت سے سعودی حکومت مالی مشکلات کا شکار ہے‘ نہ صرف یہی بلکہ وہ روز بروز قرضوں کے بوجھ تلے دبتی جارہی ہے ۔ خلاصہ یہ کہ حجاج کی بیسیوں مشکلات میں سے چند ایک کی نشان دہی اور ان کے ازالہ کے لئے مختصرسی تجاویز پیش کی گئی ہیں‘ اگر ان کا حل تلاش کرلیا جائے تو انشاء اللہ! حجاج کو مزید سہولت ہوجائے گی اور ان کے لئے فریضہ حج کی ادائیگی آسان ہوجائے گی۔
و صلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ سیدنا محمد و آلہ و اصحابہ اجمعین