ابنہ الصغیر، الموسوعۃ الفقہیۃ :۱۹/۴۰ ، خدمۃ ، إخدام الزوجۃ)
ما في ’’ البحر الرائق ‘‘ : ویوافقہ ما قید بہ الفقیہ أبو اللیث کلام الخصاف حیث قال في أدب القاضي : لو فرض ما یحتاج إلیہ من الدقیق والدہن واللحم والإدام فقالت : لا أعجن ولا أخبز ولا أعالج شیئًا من ذلک لا تجبر علیہ وعلی الزوج أن یأتیہا بمن یکفیہا عمل ذلک ۔
قال الفقیہ أبو اللیث : ہذا إذا کان بہا علۃ لا تقدر علی الطبخ والخبز أو کانت ممن لا تباشر ذلک ، فإن کانت ممن تخدم نفسہا وتقدر علی ذلک لا یجب علیہ أن یأتیہا بمن یفعلہ ، وفي بعض المواضع تجبر علی ذلک ، قال السرخسي : لا تجبر ولکن إذا لم تطبخ لا یعطیہا الإدام وہو الصحیح ، وقالوا : إن ہذہ الأعمال واجبۃ علیہا دیانۃ وإن کان لا یجبرہا القاضي ، ولذا قال في البدائع : لو استأجرہا للطبخ والخبز لم یجز ولا یجوز لہا أخذ الأجرۃ علی ذلک لأنہا لو أخذت لأخذت علی عمل واجب علیہا في الفتوی فکان في معنی الرشوۃ فلا یحل لہا الأخذ ۔ (۴/۳۱۱ ، کتاب الطلاق ، باب النفقۃ ، فتح القدیر :۴/۳۴۹ ، کتاب الطلاق ، باب النفقۃ)
(فتاویٰ رحیمیہ :۸/۴۴۷، موقع المسلم علی شبکۃ نیت)
ما في ’’ درر الحکام ‘‘ : المعروف عرفًا کالمشروط شرطًا ۔
(۱/۵۱ ، رقم المادۃ :۴۳ ، شرح القواعد الفقہیۃ :ص/۲۳۷)
شوہر کا بیوی کے پیسوں پر حق جتانا
مسئلہ(۱۷۰): بعض لوگ خود تو کماتے نہیں، اور نہ ہی بیوی بچوں کے حقوق پوری طرح سے ادا کرتے ہیں، بلکہ حد تو یہ ہے کہ اگر بیوی گھر میں رہتے ہوئے کچھ ہلکے پھُلکے کام کرتی ہے، مثلاً سلائی کا کام کرکے، سوئٹس، چاکلیٹ، بسکٹ وغیرہ بیچ کر دو پیسے کمالیتی ہے، تو شوہر ان پیسوں پر بھی اپنا حق جتاتا ہے، اور بیوی کی مرضی کے بغیر اس پیسے کا لینا اپنا حق سمجھتا ہے، شوہر کا یہ عمل غیر شرعی ہونے