ما فی ’’ سنن أبي داود ‘‘ : قولہ ﷺ : ’’ من تشبہ بقوم فہو منہم ‘‘ ۔ (ص/۵۵۹ ، کتاب اللباس ، باب لباس الشہرۃ)
ما فی ’’ تکملۃ فتح الملہم ‘‘ : إن اللباس الذي یتشبہ بہ الإنسان بأقوام کفرۃ ، لا یجوز لبسہ لمسلم إذا قصد بذلک التشبہ بہم ۔ (۱۰/ ۷۷ ، کتاب اللباس والزینۃ)
ما في ’’ القرآن الکریم ‘‘ : قولہ تعالی : {ولا ترکنوا إلی الذین ظلموا فتمسّکم النار}۔ (سورۃ ہود:۱۱۳)
ما في ’’ معارف القرآن ‘‘ :’’حضرت قتادہ نے فرمایاکہ’’ مراد ہے کہ ظالموں سے دوستی نہ کرو اوران کا کہا نہ مانو‘‘،ابنِ جریج نے فرمایا کہ’’ ظالموں کی طرف کسی طرح کابھی میلان نہ رکھو‘‘،ابوالعالیہ نے فرمایاکہ’’ ان کے اعمال وافعال کوپسند نہ کرو‘‘(قرطبی)، سدّی نے فرمایاکہ ’’ظالموں سے مداہنت نہ کرو،یعنی ان کے برے اعمال پر سکوت یارضاکااظہار نہ کرو‘‘،عکرمہ نے فرمایا کہ’’ ظالموں کی صحبت میں نہ بیٹھو‘‘،قاضی بیضاوی نے فرمایاکہ’’ شکل وصورت اورفیشن اوررہن سہن کے طریقوں میں ان کا اتباع کرنا یہ سب اسی ممانعت میں داخل ہے‘‘۔ (۴/۶۷۳)
ما في ’’ حاشیۃ القونوي علی تفسیر البیضاوي ‘‘ : قال ابن عباس : أي لا تمیلوا ، والرکون المحبۃ والمیل بالقلب ، وقال أبو العالیۃ : لا ترضوا بأعمالہم ، وقال عکرمۃ : لا تطیعوہم ؛ قال البیضاوي : لا تمیلوا إلیہم أدنی میل ، فإن الرکون ہو المیل الیسیر کالتزیی بزیہم وتعظیم ذکرہم ۔ (۱۰/۲۲۶ ، تفسیر المظہري :۴/۴۳۰)
دولہا دولہن کی گاڑی کی تزیین
مسئلہ(۲۲۴): آج کل شادیوں کے موقعوں پر بعض مسلم گھرانے کے لوگ دولہا دولہن کی گاڑی کو قسمہا قسم کے پھولوں اور رنگ برنگی رِبنوں کے ذریعہ سجا سنوار کر لاتے ہیں، یہ ایک غیر ثابت اور قابلِ ترک رسم ہے(۱)، اور نصاریٰ کا طریقہ ہے، اِس سے بچنا ضروری ہے، اگر اس کو ضروری اور سنت نہ سمجھیں تب بھی بیکار اور بے ضرورت ہونے کی وجہ سے قابلِ ترک ہے(۲)، حدیث شریف میں