آں حضورانے غیر قوموں کی مخصوص تہذیب وثقافت اختیار کرنے سے منع فرمایاہے۔(۳)
------------------------------
الحجۃ علی ما قلنا :
(۱) ما في ’’ فتاوی محمودیہ ‘‘ : ’’ یہ ایک غیر ثابت رسم ہے، اس کی پابندی عملی طور پر التزام مالا یلتزم اور ایک رسم محض ہے، اس کو ترک کردینا چاہیے، اگر اس میں قربت کا تصور بھی ہے تو رسم سے بڑھ کر بدعت بھی ہے ‘‘۔ (۱۱/۲۱۰، ۲۱۱، ط: کراچی، بعنوان: دولہا دولہن کے لیے پالکی کی سواری، کفایت المفتی:۵/۱۵۵، کتاب النکاح، ط: دار الاشاعت)
(۲) ما في ’’ القرآن الکریم ‘‘ : {أفحسبتم أنما خلقناکم عبثًا وأنکم إلینا لا ترجعون}۔ (سورۃ المؤمنون : ۱۱۵)
ما في ’’ جمع الجوامع ‘‘ : قولہ ﷺ : ’’ من حسن إسلام المرء ترکہ ما لا یعنیہ ‘‘ ۔
(۶/۳۹۳ ، رقم الحدیث : ۲۰۰۰۷)
(۳) ما في ’’ سنن أبي داود ‘‘ : قولہ ﷺ : ’’ من تشبہ بقوم فہو منہم ‘‘ ۔
(ص/۵۵۹ ، کتاب اللباس ، باب لباس الشہرۃ ، تکملۃ فتح الملہم :۱۰/ ۷۷ ، کتاب اللباس والزینۃ)
ما في ’’ صحیح البخاري ‘‘ : ’’ أبغض الناس إلی اللہ ثلاثۃ: ملحد في الحرم ومبتغ في الإسلام سنۃ الجاہلیۃ ، ومطلب دم امرئ مسلم بغیر حق لیہریق دمہ ‘‘ ۔
(۲/۱۰۱۶، مشکوۃ المصابیح : ص/۱۵۰، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ ، کنزالعمال :۱۶/۱۷، رقم الحدیث :۴۳۸۲۶) (فتاویٰ دار العلوم زکریا:۳/۶۴۳، ۶۴۴)
ولیمہ کا مسنون طریقہ
مسئلہ(۲۰۶): ولیمہ کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ نکاح کے بعد جس رات