نمازِ جنازہ کی امامت پر اجرت
مسئلہ(۱۶۵): متقدمین فقہاء کے نزدیک عبادات پر اجرت لینا جائز نہیں، لیکن متأخرین فقہاء نے ضرورت کی وجہ سے بعض طاعات مثلاً؛ امامت، اذان اور تعلیمِ قرآن وفقہ وغیرہ پر اجرت لینے کو جائز قرار دیا ہے، نمازِ جنازہ کی امامت اس میں شامل نہیں ہے، لہٰذا نمازِ جنازہ کی امامت پر اجرت لینا جائز نہیں، اور ایسے موقع پر ہدیہ بھی بظاہر اجرت ہی کے حکم میں ہے، اس لیے اس ہدیہ کا لینا دینا بھی درست نہیں ہوگا۔(۱)
------------------------------
الحجۃ علی ما قلنا :
(۱) ما في ’’ رد المحتار ‘‘ : وقد اتفقت کلمتہم جمیعًا علی التصریح بأصل المذہب من عدم الجواز ، ثم استحسنوا بعدہ ما علمتہ ، فہذا دلیل قاطع وبرہان ساطع علی أن المفتی بہ لیس ہو جواز الاستئجار علی کل طاعۃ ، بل علی ما ذکروہ فقط مما فیہ ضرورۃ ظاہرۃ تبیح الخروج عن أصل المذہب من طروّ المنع ۔
(۹/۷۶ ، کتاب الإجارۃ ، باب الإجارۃ الفاسدۃ ، مطلب تحریم مہم في عدم جواز الاستئجار علی التلاوۃ والتہلیل ونحوہہ مما لا ضرورۃ علیہ)
(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ:۴۷۹۲۳)