کتاب الرضاع
شیرخوارگی سے متعلق مسائل
بچہ کو کافرہ غیر مسلم عورت کا دودھ پلانا
مسئلہ(۱۳۳): کافرہ غیر مسلمہ عورت کا دودھ پاک ہے، اُس کا دودھ کسی بچے کو پلانا گناہ نہیں، بلکہ جائز ہے، لیکن جہاں تک ہوسکے مسلمان دین دار عورت کا دودھ پلایا جائے، کیوں کہ غیر مسلمہ کا دودھ پلانے کی وجہ سے اُس کے بُرے اخلاق وعادات بچے کے اندر سَرایت کرسکتے ہیں۔(۱)
------------------------------
الحجۃ علی ما قلنا :
(۱) ما في ’’ البحر الرائق ‘‘ : وفي المحیط : ولا ینبغي للرجل أن یُدخل ولدہ إلی الحَمقاء لترضعہ ، لأن النبي ﷺ نہی عن لبن الحمقاء وقال : اللبن یُعدي ، وإنما نہی لأن الدفع إلی الحمقاء یُعرّضُ ولدہ للہلاک بسبب قلّۃ حفظہا لہ وتعہّدہا أو لسوء الأدب فإنہا لا تُحسنُ تأدیبہ فینشأ الولد سيء الأدب ۔ (۳/۲۳۸ ، کتاب الرضاع ، دار المعرفۃ بیروت ، و۳/۳۸۷ ، کتاب الرضاع ، دار الکتب العلمیۃ بیروت)
ما في ’’ الموسوعۃ الفقہیۃ ‘‘ : قال أحمد بن حنبل : یکرہ الارتضاع بلبن الفجور ولبن المشرکات ؛ لأنہ ربما أفضی إلی شبہ المرضعۃ في الفجور ، ویجعلہا أما لولدہ فیتعیر بہا ، ویتضرر طبعا وتعیرا ، والارتضاع من المشرکۃ یجعلہا ، أما لہا حرمۃ الأم مع شرکہا ، وربما مال إلیہا المرتضع وأحب دینہا ، وروي عن عمر بن الخطاب وعمر بن عبد العزیز أنہما قالا : اللبن یشتبہ ، فلا تستق من یہودیۃ ولا نصرانیۃ ولا زانیۃ ، ویکرہ بلبن الحمقاء کي لا یشبہہا الطفل في الحمق ۔
(۲۲/۲۵۵، الارتضاع بلبن الفجور ، إرضاع ، المغني لإبن قدامۃ :۸/۱۹۴، مکتبۃ القاہرۃ)
ما في ’’ المبسوط للسرخسي ‘‘ : ثم بدأ الباب بحدیث زید بن علي قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :=