دورانِ سفر کریڈٹ کارڈ کااستعمال
مسئلہ(۱۶۵): آج کل دورانِ سفر اپنے پاس روپئے رکھنا خطرے سے خالی نہیں، لہٰذا اگر کوئی شخص دورانِ سفر کسی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لیے کریڈٹ کارڈ کا استعمال کرتے ہوئے اُس کے ذریعے خرید وفروخت کرے، جس میں سامان کی قیمت بعد میں ادا کرنا ہوتی ہے، اور ایک مخصوص مدت تک اس میں سود بھی ادا نہیں کرنا پڑتاہے، تو یہ صورت جائز ہے(۱)، البتہ سود چڑھنے سے پہلے پہلے قیمت کی ادائیگی ضروری ہوگی، تاکہ سود دینے کی نوبت نہ آسکے(۲)، نیز کریڈٹ کارڈ کے لیے جو سالانہ فیس بینک کی طے کردہ اُجرت ہوتی ہے، جو کارڈ جاری کرانے اور اس کے لیے کی جانے والی کاررَوائی کاعوض ہے(۳)، یاان مشینوں کے اخراجات کے مقابلے میں لی جاتی ہے، جس سے آدمی کو کہیں سے بھی پیسہ نکالنا آسان ہوجاتا ہے، جس کے نصب کرنے میں کثیر رقم خرچ ہوتی ہے۔
------------------------------
=(۱/۲۸۰ ، کتاب البیوع ، باب موکل الربا ، رقم الحدیث :۲۰۸۶)
ما في ’’ عمدۃ القاري ‘‘ : والموکل المطعم والآکل الآخذ ، وإنما سوی في الإثم بینہما وإن کان أحدہما رابحًا والآخر خاسرًا ، لأنہما في فعل الحرام شریکان متعاونان ۔
(۲۱/۱۴، کتاب العدۃ ، باب مہر البغي والنکاح الفاسد ، تحت رقم الحدیث :۵۳۴۷)
(۲) ما في ’’ درر الحکام شرح مجلۃ الأحکام ‘‘ : البیع مع تأجیل الثمن وتقسیطہ صحیح ، یلزم أن تکون المدۃ معلومۃ في البیع بالتأجیل والتقسیط ۔ (۱/۲۲۷ ، ۲۲۸ ، المادۃ :۲۴۵ ، ۲۴۶)
ما في ’’ بحوث في قضایا فقہیۃ معاصرۃ ‘‘ : أما الأیمۃ الأربعۃ وجمہور الفقہاء والمحدثین فقد أجازوا البیع المؤجل بأکثر من سعر النقد بشرط أن یبت العاقدان بأنہ بیع ومؤجل بأجل معلوم وبثمن متفق علیہ عند العقد ۔ (ص/۷ ، بحوث فقہیۃ من الہند :ص/۱۲۳ ، بیع التقسیط)=