ہوگی، کیوں کہ عورت کا محرم کے ساتھ سفر حج پر جانا ضروری ہے (۱)، لیکن اس کا حج فرض ادا ہوجائے گا، کیوں کہ معاصی طاعات کیلئے مانع نہیں ہوتی ہیں۔ (۲)
داماد، ساس کے ساتھ سفر حج کرسکتا ہے یا نہیں؟
مسئلہ(۱۳۱): داماد اپنی ساس کیلئے محرم ہے، اس لیے ساس کا اپنے داماد کے ساتھ سفرِ حج کرنا جائز ہے، لیکن اگر ساس جوان ہے، عمر میں زیادہ تفاوت نہیں ہے، اور داماد یا ساس کے اخلاق وعادات قابل اطمینان نہیں ہیں، اور فتنہ کا اندیشہ ہے، تو ایسی صورت میں ساس کا داماد کے ساتھ سفرِ حج کرنا مناسب نہیں ہے ۔(۳)
------------------------------
الحجۃ علی ما قلنا :
(۱) ما فی ’’ الحدیث النبوی ‘‘ : عن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما عن النبی ﷺ قال : ’’ لا یحل لامرأۃ تؤمن باللہ والیوم الآخر تسافر مسیرۃ ثلاث لیال إلا ومعہا ذو محرم‘‘۔
(الصحیح لمسلم :۱/۴۳۳، باب سفر المرأۃ مع محرم إلی حج وغیرہ)
ما فی ’’ الفتاوی التاتارخانیۃ ‘‘ : والمحرم فی حق المرأۃ شرط، شابۃ کانت أو عجوزۃ ، إذا کانت بینہا وبین مکۃ مسیرۃ ثلاثۃ أیام ۔ (۲/۱۴۹)
ما فی ’’ المبسوط للسرخسی ‘‘ : ان المرأۃ لا یجوز لہا أن تخرج لسفر الحج إلا مع محرم أو زوج ۔ (۴/۱۲۲)
ما فی ’’ الشامیۃ ‘‘ : ولو حجت بلا محرم جاز مع الکراہۃ أي التحریمۃ للنہی لحدیث ابن عمر ۔
(۳/۴۱۲، مجمع الأنہر: ۱/۳۸۶)
(۲) ما فی ’’ مجمع الأنہر ‘‘ : لأن المعاصی لا تمنع الطاعات ۔ (۱/۳۸۵)
الحجۃ علی ما قلنا :
(۳) ما فی ’’ القرآن الکریم ‘‘ :{حرمت علیکم أمہاتکم وبناتکم وأخواتکم وعماتکم وخٰلٰتکم وبنات الأخ وبنات الأخت وأمہاتکم التی أرضعنکم وأخواتکم من الرضاعۃ وأمہات نسائکم} ۔
(سورۃ النساء :۲۳)=