عورت پاکباز محرم کے ساتھ سفر حج کرے
مسئلہ(۱۳۲): عورت کے ساتھ جانے والا محرم ایسا ہو نا چاہیے جو خود ثقہ اور پاکباز ہو ، اگر عورت مامون نہ ہو، یا اس محرم کے ساتھ جانے میں فتنہ کا اندیشہ ہو تو اس کے ساتھ حج کو جانا عورت کے لیے جائز نہ ہوگا ۔(۱)
------------------------------
=ما فی ’’ الشامیۃ ‘‘ : والمحرم من لا یجوز لہ مناکحتہا علی التأبید لقرابۃ أو رضاع أو صہریۃ ۔
(۳/۴۱۱،کتاب الحج ، مطلب یقدم حق العبد)
ما فی ’’ الفتاوی الولوالجیۃ ‘‘ : صفۃ المحرم کل من لا تجوز لہ مناکحتہا علی التأبید برضاع أو قرابۃ أو صہریۃ ، لأن المحرمیۃ تزیل التہمۃ ۔
(۱/۲۵۳، الفصل الأول فی شرائط وجوب الحج ، الاختیار لتعلیل المختار: ۱/۲۰۰، الفتاوی الہندیۃ :۱/۲۱۹، کتاب المناسک ، الباب الأول فی تفسیر الحج)
ما فی ’’ فتح القدیر ‘‘ : ولہا أن تخرج مع کل محرم سواء کان بنسب أو رضاع أو صہریۃ ۔
(۲/۴۲۸، کتاب الحج)
ما فی ’’ الشامیۃ ‘‘ : قلت : ویؤید کراہۃ الخلوۃ بہا کالصہریۃ الشابۃ فینبغي استثناء الصہریۃ الشابـۃ ہنا ، لأن السفر کالخلوۃ ۔ (۳/۴۱۱ ، کـتـاب الـحـج ، مـطلـب یقدم حق العبد علی حق الشرع) ۔ (فتاوی رحیمیہ:۸/۶۳،کتاب الفتاوی :۴/۴۲)
الحجۃ علی ما قلنا :
(۱) ما فی ’’ تنویر الأبصار وشرحہ مع الشامیۃ ‘‘ : ومع زوج أو محرم بالغ عاقل ، والمراہق کبالغ غیر مجوسی ولا فاسق لعدم حفظہما ۔ (۳/۴۱۱، مطلب یقدم حق العبد علی حق الشرع)
ما فی ’’ البحر الرائق ‘‘ : ویشترط فی حج المرأۃ من سفر زوج أو محرم بالغ عاقل غیر مجوسی ولا فاسق مع النفقۃ علیہ ۔ (۲/۵۵۲، کتاب الحج، مکتبہ دارالکتاب دیوبند) =