حالتِ احرام میں شوہر کا انتقال ہوجائے
مسئلہ(۱۳۳): اگر میاں بیوی ساتھ میں حج یا عمرہ کرنے جائیں، اور مکہ مکرمہ پہونچنے کے بعد حج یا عمرہ کے ارکان ادا کرنے سے پہلے شوہر کا انتقال ہوجائے ، تو باتفاق ائمہ ثلاثہ اس عورت کے لیے بلا محرم عدت کی حالت میں حج یا عمرہ کے ارکان ادا کرکے تکمیلِ حج یا عمرہ کرنا بلا کراہت جائز ہے ۔(۱)
------------------------------
=ما فی ’’ النہر الفائق ‘‘ : وبشرط محرم وہو من لا یجوز لہ مناکحتہا علی التأبید بقرابۃ أو رضاع أو صہریۃ مسلماً إلا أن یکون فاسقاً ۔
(۲/۵۷، کتاب الحج ، الفقہ الحنفي في ثوبہ الجدید :۱/۴۵۴، کتاب الحج ، شروط أدائہ)
ما فی ’’ الفتاوی التاتارخانیۃ ‘‘ : قال القدوری فی شرحہ : إلا أن یکون مجوساً یعتقد إباحۃ مناکحتہا فلا تسافر معہ ، وکذا المسلم إذا لم یکن مأموناً لا تسافر معہ ۔ (۲/۱۴۹، کتاب الحج)
الحجۃ علی ما قلنا :
(۱) ما فی ’’بدائع الصنائع ‘‘ : وأما شرائط فرضیتہ نوعان : نوع یعم الرجال والنساء، ونوع یخص النساء ، وأما الذی یخص بالنساء فشرطان : أحدہما أن یکون معہا زوجہا أو محرم لہا ، والثانی أن لا تکون معتدۃ عن طلاق أو وفاۃ، ۔۔۔۔۔ وإن لزمتہا بعد الخروج إلی السفر وہی مسافرۃ ، وإن کان إلی مکۃ أقل من مدۃ سفر، وإلی منزلہا مدۃ سفر، مضت إلی مکۃ ، لأنہا لا تحتاج إلی المحرم فی أقل من مدۃ السفر ۔ (۳/۵۴۔۵۷، کتاب الحج ، فصل فی شرائطہ)
ما فی ’’ الفتاوی التاتارخانیۃ ‘‘ : وإن کان بینہا وبین منزلہا مسیرۃ سفر فصاعداً ، وبینہا وبین مکۃ دون ذلک فعلیہا أن تمضی علیہا ۔ (۲/۱۴۹؍۱۵۰، کتاب الحج ، الفصل الأول)
=ما فی ’’ البحر العمیق فی مناسک المعتمر الحاج ‘‘ : وإن کان بائناً أو مات عنہا ۔۔۔۔۔ وإن کان إلی مکۃ أقل من مدۃ سفر وإلی منزلہا مدۃ سفر مضت إلی مکۃ ۔
(۱/۴۱۰، الباب الثالث فی مناسک الحج)=