غروبِ آفتاب کے بعد جھاڑو لگانا
مسئلہ(۱۷): بعض لوگ غروبِ آفتاب کے بعد صفائی کی غرض سے جھاڑو لگانے سے منع کرتے ہیں، اور یہ کہتے ہیں کہ اِس سے رزق میں کمی واقع ہوتی ہے، شرعاً اس کی کوئی اصل نہیں، بلکہ یہ اَغلاط العوام میں سے ہے، اس لیے بوقتِ ضرورت مغرب بعدبھی جھاڑو دی جاسکتی ہے۔(۱)
------------------------------
=۔۔۔۔۔۔ فعلم أن حکم الآیۃ قرارہنّ في البیوت إلا لمواضع الضرورۃ الدینیۃ ، کالحجۃ والعمرۃ بالنص أو الدنیویۃ ، کعیادۃ قرابتہا وزیارتہا ، أو احتیاج إلی النفقۃ ۔
(۳/۳۱۷ - ۳۱۹)
ما في ’’ الدر المختار مع حاشیۃ ابن عابدین ‘‘ : ولہا الخروج من بیت زوجہا للحاجۃ، ولہا زیارۃ أہلہا بلا إذنہ ما لم تقبضہ أي : المعجّل ، فلا تخرج إلا لحق لہا أو علیہا ۔ (۸/۴۸۳ ، ۴۸۴ ، باب المہر ، مطلب في منع الزوجۃ نفسہا لقبض المہر ، دار الثقافۃ والتراث بدمشق ، سوریۃ) (فتاویٰ بنوریہ ، رقم الفتویٰ :۸۳۱۰)
الحجۃ علی ما قلنا :
(۱) ما في ’’ القرآن الکریم ‘‘ : {قل لن یصیبنآ إلا ما کتب اللہ لنا ہو مولٰنا وعلی اللہ فلیتوکّل المؤمنون} ۔ (سورۃ التوبۃ : ۵۱)
ما في ’’ روح المعاني ‘‘ : أي لن یصیبنا إلا ما خطّ اللہ تعالی لأجلنا في اللوح ، ولا یتغیر موافقتکم ومخالفتکم ، فتدل الآیۃ علی أن الحوادث کلہا بقضاء اللہ تعالی ۔ (۶/۱۶۶)
ما في ’’ صحیح البخاري ‘‘ : عن عبد اللہ قال : حدثنا رسول اللہ ﷺ وہو الصادق المصدوق قال : ’’إن أحدکم یجمع في بطن أمہ أربعین یوماً ، ثم علقۃ مثل ذلک ، ثم یکون مضغۃ مثل ذلک ، ثم یبعث اللہ ملکاً فیؤمر بأربع برزقہ وأجلہ وشقي أو سعید ‘‘ ۔ (۲/۹۷۶ ، کتاب القدر ، باب في القدر، الصحیح لمسلم : ۲/۳۳۲ ، کتاب القدر ، باب کیفیۃ خلق الآدمي في بطن) (فتاویٰ بنوریہ ، رقم الفتویٰ :۱۰۸۰۹)