اسلامی تعلیمات کی برکات اور اعداء اسلام کی تلملاہٹ
اسلامی تعلیمات کی برکات اور اعداء اسلام کی تلملاہٹ


الحمد لله وسلام علی عبادہ الذین اصطفی !
بی سی سی اردو ڈاٹ کام پر بی بی سی نے ”بلاگنگ“ کے نام سے ایک نیا پروگرام شروع کیا ہے‘ جس پر اس نے اہل قلم کو لکھنے کی دعوت دی‘ اور اس کی ابتدا میں لکھا کہ:
”بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر بلاگنگ کی نئی شروعات کے تحت ہم نے اپنے چند لکھنے والوں کو اس صفحہ پر لکھنے کی دعوت دی ہے‘ ان بلاگوں میں لکھنے والوں کی ذاتی آراء اور تجزیئے شامل ہوتے ہیں‘ جن کا بی بی سی کی پالیسی سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے‘ یہ مکمل طور پر انفرادی خیالات اور ذاتی رائے کے اظہار کی جگہ ہے‘ اس صفحہ پر ہمارے قارئین بھی اپنا بلاگنگ شروع کرسکتے ہیں۔“
گویا اس نوٹ کے بعد بی بی سی نے اپنے آپ کو ان تحریروں کی ذمہ داری سے نہایت صفائی سے بچالیا‘ چاہے اس سے کسی فرد‘ افراد‘ ادارہ‘ قوم‘ برادری‘ مسلک‘ نظریہ‘ دین‘ مذہب اور ملت کی توہین‘ تضحیک اور تنقیص ہی کیوں نہ ہوتی ہو۔ چنانچہ بی بی سی نے سب سے پہلے کیلیفورنیا‘ امریکا کے ایک قلم کار جناب حسن مجتبیٰ صاحب کو دعوت دی‘ جنہوں نے جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے دارالافتاء کی جانب سے نئے مسلمان ہونے والے افراد کے لئے جاری ہونے والی ”سند اسلام“ کے عکس کے ساتھ لکھا:
”اوشا‘ ریما اور رینا کے نام:
اگر آپ اسلامی جمہوریہ پاکستان یا سرزمین پاک کی مذہبی اقلیت سے تعلق رکھنے والے شہری ہیں‘ تو آپ کی جوان ہوتی ہوئی بچیوں کی زندگی کا فیصلہ ان کے ہاتھ میں نہیں‘ بلکہ مولوی اور مدرسے کے ہاتھ میں ہے۔ کراچی کی پنجاب کالونی کی گلی نمبر ایک میں رہنے والے ہندو شہری سانو امرا اور اس کی بیوی چمپا کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ تین جوان لڑکیوں کے والدین سانواور چمپا جب کام سے گھر واپس آئے تو دیکھا کہ ان کی تینوں بیٹیاں اوشا‘ ریما اور رینا گھر سے غائب تھیں۔ ایک سو پچیس مسلمان خاندانوں کے گھر کے درمیان واحد ہندوؤں کے گھر کے مکین چمپا اور سانو کو کچھ دنوں بعد ڈاک سے ایک لفافہ ملا‘ جس میں ان بچیوں کے تین حلف نامے تھے‘ جن میں کہا گیا تھا کہ وہ اپنی مرضی سے تبدیلیٴ مذہب کرکے ہندو سے مسلمان ہوچکی ہیں۔ اب کے نام ندا‘ افشاں اور انعم ہیں۔ ان بچیوں کے ایسے حلف ناموں کے ساتھ‘ سانوامرا کو اسی ڈاک میں اسلام نامہ کے نام سے ایک دستاویز بھی ملی‘ جو بنوری ٹاؤن کے مدرسے سے جاری کی گئی تھی۔ اس اسلام نامے میں لڑکیوں کے متعلق بیان کیا گیا ہے کہ وہ بلا کسی جبر کے‘ ارکان اسلام کی تعلیم کے بعد دائرہ اسلام میں داخل ہوچکی ہیں۔ ان دائرہ اسلام میں داخل ہونے والی بچیوں سے جب ان کے ماں باپ ایک مدرسے کے ہوسٹل میں ملنے گئے تو وہ سر سے پاؤں کی ایڑی تک برقعے میں تھیں اور انہوں نے ماں باپ کو بتایا کہ انہوں نے ٹی وی چینلوں پر اسلامی پروگرام دیکھ کر اسلام قبول کیا ہے۔
اب یہ جنت مدرسے کے مولویوں نے جیتی کہ پاکستان میں پرائیویٹ چینل والوں نے؟ لیکن کراچی سے لے کر سندھ کے آخری اسٹیشن ریتی تک‘ ہندو لڑکیوں اور عورتوں کو غیر رضاکارانہ یا رضاکارانہ طور پر مسلمان بنانے کی مہمات زوروں پر ہیں‘ ریتی میں تیرہ سالہ ہندو بچی کو شیلیا کوبھی مسلمان بنایا گیا ہے‘ تو جیکب آباد کی سونیا کو فاطمہ‘ اور سپنا کو مہک!
مشرف کے پاکستان میں کہیں مرکز مضبوط ہورہا ہے تو کہیں اسلام عام۔ لیکن جب ایک ہندو مرد مسلمان ہوکر شیخ عبداللہ کہلایا اور اس نے ایک مسلمان بیوہ سے شادی کی‘ تو اس بیوہ کو اس کے رشتہ داروں نے غیرت کے نام پر قتل کردیا‘ اب یہ عبداللہ نہ ہندو ہے اور نہ مسلمان!۔“
(حسن مجتبیٰ‘ سان ڈیاگو‘ کیلیفورنیا‘ وقتِ ارسال 11:18)
اسی ویب سائٹ پر حسن مجتبیٰ صاحب کے مضمون پر مختلف ممالک کے مختلف شہروں سے مختلف افراد کی تائید و تنقید پر مشتمل متعدد تبصرے بھی شائع ہوئے ہیں۔ میرے ایک بہت ہی محترم بزرگ کے عزیز صاحبزادے جناب مولوی محمد یوسف صاحب نے بی بی سی کے ان ویب صفحات کو پڑھا‘ تو اپنے کمپیوٹر سے اس کا پرنٹ نکال کر مجھ سے فرمائش کی کہ میں بھی اس پر اپنی رائے کا اظہار کروں‘ تاکہ وہ اسے بھی اس کالم میں جگہ دلاسکیں‘ اسی غرض سے جناب حسن مجتبیٰ صاحب سے براہ راست اور اس ویب صفحہ کے قارئین سے بالواسطہ ہم کلام ہونے کی غرض سے چند سطور پیش ہیں۔
سب سے پہلے بی بی سی کی خدمت میں عرض ہے کہ ان کا یہ کہنا محل نظر ہے کہ:
”ان بلاگوں پر لکھنے والوں کی ذاتی آراء اور تجزیئے شامل ہوتے ہیں‘ جن کا بی بی سی کی پالیسی سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔“
اس لئے کہ تنقید و تضحیک کی یہ بحث ہی اس کی غماض ہے کہ اس بحث کا محرک اس میں فریق ہے‘ پھر ”براہ راست“ کا لفظ خود اس کی چغلی کھاتا ہے کہ اس میں بی بی سی کی دل چسپی ضرور شامل ہے‘ رہی یہ بات کہ ہم نے تو صرف ”شیرہ لگایا ہے“ اس کے نتیجے میں کتے‘ بلی کی لڑائی‘ ان کے مالکان کے قتل عام اور ہلاکت سے ہمارا کوئی تعلق نہیں‘ خالص شیطانی استدلال ہے۔ بہرحال ہم ان کی وضاحت پر اعتماد کرتے ہوئے جناب حسن مجتبیٰ صاحب کی خدمت میں عرض پرداز ہیں کہ:
۱:… آزادیٴ مذہب و فکر اور آزادیٴ اظہار رائے کے دعویداروں کو ایسے کالم لکھتے ہوئے نامعلوم گھن کیوں نہیں آتی؟ اس لئے کہ اگر کوئی بدباطن‘ اسلام‘ پیغمبر اسلام اور امت مسلمہ کے خلاف دریدہ دہنی کرے‘ یا توہین آمیز کارٹون شائع کرے‘ تو آزادیٴ مذہب کے علم برداروں کو اس پر غیرت نہیں آتی اور نہ ہی ان کو اس پر کالم لکھنے کی توفیق ہوتی ہے۔ اسی طرح ان کو اگر بین الاقوامی لابیوں کے بنگلہ دیش اور افغانستان میں این جی اوز کے نام پر مسلمانوں کے عیسائی بنانے‘ گرجے تعمیر کرنے‘ مسلم بستیوں میں مسجدیں بنانے اور ان میں اذان پر پابندی پہ کوئی اعتراض نہیں‘ تو پاکستان کی ایک بستی میں اپنی مرضی سے مسلمان ہونے والی لڑکیوں کے عمل پر کیوں اعتراض ہے؟
۲:… حسن مجتبیٰ صاحب! یہ تو آپ نے بھی لکھا ہے کہ ان لڑکیوں نے ڈاک کے ذریعہ خط میں اپنے برضا و رغبت مسلمان ہونے کا اقرار کیا اور بتلایا کہ: ٹی وی پر اسلامی پروگرام دیکھ کر انہوں نے اسلام قبول کیا‘ پھر والدین سے ملاقات کے وقت بھی انہوں نے اپنے اس بیان کی تصدیق کی‘ آپ ہی بتلایئے کہ اس میں اسلام اور مسلمانوں کا کیا قصور ہے؟
یہ امر بھی غور طلب ہے کہ بالفرض خدانخواستہ اگر کوئی مسلمان‘ عیسائی این جی اوز کی رفاہی خدمات یا ان کی چمک دمک سے متاثر ہوکر اپنی آخرت برباد کرتا ہے تو کیا آپ نے اس پر بھی کوئی کالم لکھا ہے؟ کبھی آپ نے عیسائی جارحیت اور مظالم پر بھی صدائے احتجاج بلند کی ہے؟ کبھی امریکا کی اسلام دشمن سرگرمیوں اور مسلم کش پالیسیوں پر بھی آپ نے کالم لکھا ہے؟ اگر نہیں‘ تو کیا سمجھا جائے کہ آپ اپنی قلم کاری کا وزن کس پلڑے میں ڈالنا چاہتے ہیں؟
۳:… اسلام کا واضح اصول اور شفاف دستور ہے کہ: اسلام بزور قوت کسی کو مسلمان بنانے کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا‘ بلکہ اسلام نے اعلان کیا ہے کہ: ”لا اکراہ فی الدین“ (البقرة:۲۵۸) دین و مذہب کی تبدیلی میں کوئی جبر و اکراہ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ گواہ ہے کہ اسلامی اقتدار میں کسی کافر کو زبردستی تبدیلیٴ مذہب پر مجبور نہیں کیا گیا۔ چنانچہ اسلام کا کوئی بدترین دشمن بھی ایسی کوئی ایک مثال پیش نہیں کرسکتا۔
پھر یہ امر بھی لائق توجہ ہے کہ اگر اسلام میں کسی غیر مسلم شہری کو اسلامی قلم رو میں بحیثیت غیر مسلم رہنے کا حق نہ ہوتا اور اُسے ہر حال میں جبراً مسلمان بنانا ضروری ہوتا‘ تو جزیہ کا وجود ہی نہ ہوتا‘ جبکہ اسلامی آئین و دستور میں دو طرح کے ٹیکس ہیں: ایک جزیہ اور دوسرا زکوٰة‘ زکوٰة مسلمانوں پر اور جزیہ غیر مسلم شہریوں کے لئے‘ اسی طرح اسلامی مملکت کے غیر مسلم شہریوں کے لئے ”ذمی“ کی بھی ایک مستقل اصطلاح ہے‘ چنانچہ مسلمانوں کو بطورِ خاص اس کی ہدایت ہے کہ: کسی علاقہ کے فتنہ پرور کفار سے جہاد کے وقت عین میدانِ کارزار میں بھی پہلے اُنہیں اسلام کی دعوت دی جائے‘ مان جائیں تو فبہا‘ ورنہ دوسرے نمبر پر اُن کو کہا جائے کہ: بے شک تم اپنے مذہب پر رہو‘ مگر اسلامی مملکت کے پرامن شہری بن کر رہو اور اسلامی حکومت کو جزیہ اور ٹیکس دیا کرو‘ چنانچہ اگر وہ اس کے لئے راضی ہوجائیں‘ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کی جان‘ مال اور عزت کی ذمہ داری مسلمانوں پر فرض ہے‘ جزیہ دینے کے باوجود بھی اگر کسی مسلمان نے ان کے ساتھ زیادتی کی‘ تو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: میں کل قیامت کے دن اس غیر مسلم ذمی کی طرف سے بارگاہ الٰہی میں زیادتی کرنے والے مسلمان کے خلاف استغاثہ دائر کروں گا‘ اور غیر مسلم کے وکیل صفائی کا کردار ادا کروں گا۔
کیا اب بھی کسی غیر مسلم کے برضا و رغبت قبولِ اسلام پر کوئی اعتراض ہونا چاہئے؟ اگر نہیں‘ تو آنجناب کا اسلام‘ مسلمانوں اور پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانا حق و انصاف اور امانت و دیانت کو خون کرنے کے مترادف نہیں؟
۴:… کیا سابقہ مشہور پاپ سنگر یوسف اسلام کا قبول اسلام بھی پاکستانیوں کا قصور ہے؟ ۱۱/ستمبر کے واقعہ کے نتیجے میں ہزاروں عیسائیوں کا قبولِ اسلام بھی مسلمانوں کی زیادتیوں اور ان کے جبرو اکراہ کا شاخسانہ ہے؟
۵:… اسی طرح آج سے چودہ صدیاں پیشتر سرزمینِ عرب اور کفر و شرک کے معاشرہ میں نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی برکت سے لاکھوں یہودی‘ عیسائی اور مشرکین کا اسلام قبول کرنا بھی مسلمانوں کے جبرواکراہ کا نتیجہ تھا یا اسلام کی حقانیت کا ثمرہ؟
۶:… اس سے تھوڑا سا آگے بڑھئے! کیا حضرت ابراہیم‘ حضرت یعقوب‘ حضرت اسحٰق‘ حضرت اسمٰعیل‘ حضرت موسیٰ‘ حضرت عیسیٰ علیہم السلام کی دعوت پر لبیک کہنے والوں کو بھی پاکستانی معاشرہ نے مجبور کیا تھا؟ اس کو کیا نام دیجئے گا؟
۷:… میرے محترم جناب حسن مجتبیٰ صاحب! مسلمان‘ اپنی بدعملیوں اور اخلاقی کوتاہیوں کے باعث خواہ کتنا ہی پستی میں کیوں نہ چلے جائیں‘ لیکن جو شخص تعصب کی عینک اتار کر آج بھی اسلام اور اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کرے گا‘ اسے اسلام قبول کئے بغیر چارہ نہیں ہوگا۔ وونی ریڈلی ایسی لکھی پڑھی روشن دماغ عیسائی خاتون کا قبولِ اسلام اس کی واضح مثال ہے۔
۸:… آپ کا یہ فرمان بھی محض سخن سازی ہے کہ: ”یہ جنت مدرسے کے مولویوں نے جیتی کہ پاکستان میں پرائیویٹ چینل والوں نے؟“ کیونکہ اس میں نہ مولوی کا کوئی کمال ہے اور نہ ٹی وی چینل کا کارنامہ‘ بلکہ یہ اسلام کی لازوال سنہری تعلیمات کی برکت اور ہندو معاشرہ کے جبرو تشدد اور تاریکی کی نحوست ہے‘ جس کی بدولت صرف یہی چند خواتین ہی نہیں‘ بلکہ ہزاروں غیر مسلم‘ اسلام کے گھنے سائے میں عافیت تلاش کرنے کے لئے مجبور ہیں۔
بلاشبہ اسلام ایک متوازن دین اور اعتدال پر مبنی مذہب ہے‘ جس میں ایسی لچک ہے کہ اسے جتنا دبایا جائے گا‘ وہ اتنا ہی ابھرے گا۔
ان شأاللہ! دنیائے کفر کے بت خانوں اور عیسائی گرجوں کے زیر سایہ پرورش پانے والے گھرانوں سے ہی اس دور کے محمد بن قاسم اور بناتِ اسلام حضرت آسیہ، حضرت سمیہ اور حضرت خدیجہ پیدا ہوں گی‘ اسی طرح ابو غریب جیل اور گوانتاناموبے کے عقوبت خانوں سے بلند ہونے والی آہوں‘ سسکیوں اور چیخوں کی بدولت انشاء اللہ! شمعِ اسلام کے ہزاروں پروانے پیدا ہوں گے‘ اور اسلامی انقلاب کا یہ سیلاب اس قوت سے ابھرے گا کہ خود کفر چیخ اٹھے گا‘ تاآنکہ حضرت مہدی علیہ الرضوان اور عیسیٰ علیہ السلام کفر کی گرتی دیوار کو دھکا لگا کر اس پر قلعہٴ اسلام تعمیر کرکے کفر کا صفایا کردیں گے۔ ذرا ارشاد فرمایئے! اس وقت جب ہر پتھر پکار اٹھے گا کہ: میرے پیچھے یہودی چھپا ہوا ہے‘ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی فوج اس سے زمین کو پاک کردیں گے‘ تو اس کو کیا نام دیا جائے گا؟ صرف یہی نہیں‘ بلکہ ارشاد الٰہی:
”و ان من اہل الکتاب الا لیوٴمنن بہ قبل موتہ“ (النسأ:۱۵۹)
یعنی اہل کتاب میں کوئی ایسا نہیں رہے گا جو نزولِ عیسیٰ کے وقت مسلمان نہ ہوجائے‘ کی آنجناب کیا تاویل کریں گے؟ اور ان سب اہل کتاب کے قربِ قیامت میں ایمان لانے کا ذمہ دار کس کو ٹھہرائیں گے؟ کیا وہ بھی پاکستانی معاشرہ کی گھٹن‘ اسلام کی شدت پسندی یا مسلمانوں کے جبرو اکراہ کا ثمرہ کہلائے گا؟
حسن مجتبیٰ صاحب! نام تو آپ کا بھی میری طرح اسلامی ہے‘ مگر نامعلوم آپ اس تحریر سے کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ اگر آپ کا مقصد‘ جیسا کہ میں سمجھا ہوں‘ یہ ہے کہ ان لڑکیوں کو زبردستی مسلمان کیا گیا ہے‘ جو قطعاً درست نہیں‘ تو سوال یہ ہے کہ ان کے زبردستی یا جبراً مسلمان بنائے جانے کے کوئی دلائل و شواہد ہی پیش کئے ہوتے؟ مگر افسوس! کہ آپ کی تحریر اور خبر میں ایسا کوئی ثبوت نہیں‘ تو سوال یہ ہے کہ کیا آپ کو کسی کے برضا و رغبت مسلمان ہونے پر بھی اعتراض ہے؟ اگر واقعی آپ کو کسی کے برضا و رغبت ایمان لانے پر اعتراض ہے؟ تو جانِ من! پھر آپ کی اس تکلیف اور درد بے درمان کا نہ صرف میرے پاس کوئی علاج نہیں‘ بلکہ دنیائے عقل و شعور کے کسی حکیم کے پاس اس کا کوئی حل نہیں۔ قرآن کریم نے کفار کے بارے میں ایسے ہی موقع پر فرمایا ہے:
”قل موتوا بغیظکم“ (آل عمران:۱۱۹)
بس چلے تو اپنے غیظ و غضب سے جان چھڑانے کے لئے اپنے آپ کو موت کے منہ میں دے دیجئے‘ اور جل بُھن کر مرجایئے۔
جناب حسن مجتبیٰ صاحب مسلمان معاشرہ پر اعتراض کا آخری تیر پھینکتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
”ایک ہندو مرد مسلمان ہوکر شیخ عبداللہ کہلایا اور اس نے ایک مسلمان بیوہ سے شادی کی‘ تو اس بیوہ کو اس کے رشتہ داروں نے غیرت کے نام پر قتل کردیا‘ اب یہ عبداللہ نہ ہندو ہے اور نہ مسلمان!“
جناب حسن مجتبیٰ صاحب! آپ نے جو کچھ لکھا ہے‘ یہ اسلامی تعلیمات کا حسین چہرہ نہیں‘ بلکہ ذات پات پر مشتمل ہندوانہ تہذیب و تمدن اور طبقاتی کشمکش کا سیاہ چہرہ ہے۔ اگر آپ نے اسلام کا مطالعہ کیا ہوتا‘ تو آپ کو معلوم ہوتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید رضی اللہ عنہ کو‘ جو کہ غلامی کا داغ لئے ہوئے تھے‘ اپنی پھوپھی زاد بہن بیاہ دی تھی۔ حضرت عبداللہ بن مبارک ایک غلام زادے تھے‘ جن کی والدہ شہزادی تھیں۔ دور کیوں جایئے! حضرت مولانا احمد علی لاہوری قدس سرہ سکھوں کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ حضرت مولانا عبیداللہ سندھی سکھ زادے تھے۔ میں تو یوسف اسلام کے سسر کو بھی جانتا ہوں‘ جو جدی پشتی مسلمان ہیں اور کینیا سے تعلق رکھتے ہیں‘ میں ان بزرگوں کو بھی جانتا ہوں جو امریکا میں مسلمان ہوئے اور کراچی میں ان کی شادی ہوئی۔ ڈیوزبری (برطانیہ) کے اس نوجوان کو بھی دیکھ چکا ہوں جو مسلمان ہوا اور ہمارے ایک دوست مولانا صاحب کی سالی سے ان کا نکاح ہوا اور اس نو مسلم سے بھی ملا ہوں جو میکسیکو سے ہے‘ مگر یہاں لیسٹر (انگلینڈ) کے گجراتیوں نے ان کو اپنا داماد بنایا۔ یہ صفحات اور شاید نو مسلم حضرات اس کی اجازت نہ دیں گے کہ میں آپ کو ان کے نام بتلاؤں‘ ورنہ بحمداللہ! میں ایسے ہزاروں نام پیش کرسکتا ہوں جو مسلمان ہوئے اور ان کو مسلمانوں نے گلے لگایا۔
جس واقعہ کا آپ نے ذکر فرمایا ہے‘ میں نہیں سمجھتا کہ وہ کسی مسلم معاشرہ کا قصہ ہے یا آپ کا خانہ زاد؟
جہاں تک اوشا‘ ریما اور رینا کے برضا و رغبت اسلام لانے کا تعلق ہے‘ اس کے لئے پاکستانی عدالت‘ اخبارات‘ خود ان نومسلم بچیوں اور ان کے باپ کا اعتراف پڑھئے اور سر دھنئے:
”بیٹیاں مرضی سے مسلمان ہوئیں‘ کوئی اعتراض نہیں
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) سپریم کورٹ نے کراچی کی تین ہندو لڑکیوں کے مبینہ طور پر جبری قبولِ اسلام پر سو موٹو ایکشن لے لیا۔ جمعہ کے روز چیف جسٹس افتخار محمد چودھری‘ جسٹس ایم جاوید بٹر اور جسٹس تصدق حسین جیلانی پر مشتمل بنچ نے باقاعدہ سماعت کی۔ قبل ازیں قبولِ اسلام کرنے والی تینوں لڑکیوں انعم (۱۹ سالہ اوشا)‘ ندا (۱۸ سالہ رینا) اور افشاں (۱۷ سالہ ریما) کو رجسٹرار سپریم کورٹ کے دفتر میں ان کے والد سے آزادانہ ماحول میں ملاقات اور بات چیت کا موقع فراہم کیا گیا۔ عدالتِ عظمیٰ میں سماعت کے دوران جسٹس (ر) قیوم ملک اور ذوالفقار احمد بھٹہ ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔ ڈی ایس پی محمد ہاشم نے لڑکیوں کو عدالتِ عظمیٰ میں پیش کیا اور مقدمے کی اب تک کی تفتیش کی رپورٹ بھی پیش کی۔ بنچ نے لڑکیوں کے ہندو والد سانو عمرا سے پوچھا کہ تمہاری بیٹیوں سے ملاقات ہوگئی ہے‘ اب کس نتیجہ پر پہنچے ہو؟ اس نے عدالتِ عظمیٰ میں بیان دیا کہ: لڑکیوں نے بتایا ہے کہ انہوں نے اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کرلیا ہے‘ ہمیں ان کے تبدیلیٴ مذہب پر کوئی اعتراض نہیں‘ تاہم ہماری خواہش ہے کہ ہماری بیٹیاں ہمارے ساتھ رہیں‘ وہ مدرسہ میں نہ رہیں‘ تینوں بیٹیوں کے یک دم چلے جانے سے ان کی والدہ کی حالت انتہائی خراب ہوگئی ہے اور وہ علیل ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا: اگر وہ اپنی مرضی سے مدرسہ میں رہنا چاہتی ہیں تو آپ کو کیا اعتراض ہے؟ لڑکیوں کے والد نے کہا کہ: مجھے اعتراض ہے‘ کیونکہ بیٹیوں سے ملاقات والدین کا حق ہے اور مدرسے میں ہمیں ان سے آزادانہ ملنے کا موقع نہیں دیا جارہا‘ آپ ان لڑکیوں کو اپنی نگرانی میں رکھ لیں‘ انہوں نے صرف ایک مدرسہ کو کیوں چن رکھا ہے؟ کیا صرف یہی مدرسہ رہ گیا ہے؟ جسٹس ایم جاوید بٹر نے کہا کہ والدین کو مذکورہ مدرسہ میں لڑکیوں کے رکھنے پر اعتراض ہے‘ اگر میرے پاس بھی ایسی لڑکیاں آتیں جو مذہب تبدیل کرچکی ہوتیں‘ تب میں کسی مدرسے میں ان کو نہ رکھتا‘ کیونکہ مذہب کی تبدیلی کے معاملہ کے لئے شفاف طریقہ کار اختیار کیا جانا چاہئے تاکہ لوگوں کو نظر آئے کہ یہ واقعہ کسی دباؤ اور جبر کا نتیجہ نہیں ہے۔ پیٹشنر قیوم ملک نے کہا کہ انہیں ان لڑکیوں کے قبولِ اسلام پر کوئی اعتراض نہیں ہے‘ یہ اچھی بات ہے‘ تاہم بچیوں سے ملنا ان کے والدین کا حق ہے‘ جو انہیں آزادانہ ماحول میں ملنا چاہئے‘ مذکورہ مدرسہ میں یہ میسر نہیں آسکتا‘ لہٰذا لڑکیوں کا کہیں اور ایسی جگہ پر رہائش کا انتظام کیا جائے‘ جہاں ان کے والدین آزادانہ اور آسانی کے ساتھ مل سکتے ہوں۔ قیوم ملک کے دلائل کے بعد سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ لڑکیاں مدرسہ میں تعلیم جاری رکھنے کی خواہش مند ہیں‘ تو وہ بے شک وہاں تعلیم حاصل کریں‘ لیکن تاحکم ثانی مذکورہ لڑکیوں کو مدرسہ کے قریبی ایدھی ہوم میں رکھا جائے اور ان کے والدین اور رشتہ داروں کو ان سے آزادانہ ملنے کا حق حاصل ہوگا۔ سپریم کورٹ نے متعلقہ ڈی پی او کو ہدایت کی کہ وہ ایدھی ہوم سے مدرسہ تک آنے جانے کے دوران لڑکیوں کے تحفظ کے لئے تمام ضروری اقدامات کریں اور وہ لڑکیوں کی ویلفیئر اور تحفظ کے بارے میں کئے گئے انتظامات کے بارے میں سپریم کورٹ کو ہفتہ وار رپورٹ دیں۔ انہوں نے لڑکیوں کی فلاح اور رہنے سہنے کے حوالے سے اقدامات کرنے کے لئے سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ سندھ کوبھی ہدایات جاری کیں۔ سپریم کورٹ نے آرڈر کی کاپی فوری طور پر ڈی سی کراچی کو ارسال کرنے کی بھی ہدایت کی۔ مذکورہ حکم کے نفاذ کے لئے اس کی ایک کاپی ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو بھی ارسال کی جائے گی۔“ (روزنامہ خبریں کراچی‘ ۱۷/دسمبر ۲۰۰۵ء)
اشاعت ۲۰۰۶ ماہنامہ بینات, ربیع الاول۱۴۲۷ھ اپریل۲۰۰۶ء, جلد 69, شمارہ