اِس حدیث میں حکمِ شرعی کا بیان ہے ، ماہیتِ خمر کا نہیں ۔ یعنی یہ بتایا گیا ہے کہ جس طرح انگور سے بننے والی خمر حرام ہے اِسی طرح کھجور سے بننے والی شراب جومُسکِر ہوگئی ہو وہ اگرچہ خمر تو نہیں ، لیکن اُس کا پینا بھی خمر کی طرح حرام ہے ۔
حدیث میں هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ سے مراد تثنیہ نہیں ، بلکہ واحد یعنی صرف عِنب مراد ہے ، جیسا کہ قرآن مجید میں ” يَامَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِنْكُمْ “ اور ” يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ “ میں بھی تثنیہ بول کر واحد مراد لیا گیا ہے کیونکہ جنوں میں رسول نہیں آئے ، نیز لؤ لؤ اور مرجان صرف کھارے پانی سے نکلتے ہیں ۔۔(انتہاب المنن :1/196)
نبیذ اور اُس سے متعلقہ ابحاث :
نبیذ کی تعریف :
٭ـــلغۃً :فَعِیْلٌ کے وزن پر ہے ، اور منبوذ ٌ کے معنی میں ہے یعنی کسی چیز کو ڈالنا ۔(تحفۃ الالمعی :5/214)
٭ـــاصطلاحاً:هُوَ مَا يُتَّخَذُ مِنَ التَّمرِ، والزَّبيب، والعَسَل، مِنْ غَيْرِ غَلْيَانٍ وَ اشْتِدَادٍ. یعنی نبیذ اُسے کہتے ہیں جو کھجور ، کشمش اور شہد وغیرہ سے بنائی جائے بشرطیکہ اُس میں جوش اور اشتداد نہ پیدا ہو ۔(قواعد الفقہ :522)
یعنی پانی میں کوئی بھی چیز ڈالی جائے ، جب وہ گل جائے اور اس کی شیرینی پانی میں آجائے مگر اس میں ابھی نشہ نہ پیدا ہوا ہو تو وہ نبیذ کہلاتی ہے ۔(تحفۃ الالمعی :5/214)
نبیذ کا حکم :
نبیذ کا پینا بالاتفاق حلال ہے ، بشرطیکہ اُس میں جوش و اِشتداد نہ پیدا ہوا ہو اور وہ حدِّاِسکار یعنی نشہ کی حد تک نہ پہنچی ہو ۔ نبی کریم ﷺ کے عہد میں کھجور ، منقی ، انجیر ،شہد وغیرہ کی نبیذیں بنتی تھیں او ر اُن کو نبی کریم ﷺاور صحابہ کرام ﷢ استعمال کیا کرتے تھے ۔(تحفۃ الاحوذی:5/494)(تحفۃ الالمعی :5/214)