جواب علیٰ سبیل الانکاریہ ہے کہ یہاں ابوال الابل کے پینے کا نہیں ، سونگھنے کا حکم دیا گیا ہے، اس لئے کہ ”جَویٰ“ کی بیماری میں پیشاب پیا نہیں ، سونگھا جاتا ہے۔(کما فی کتب الطب)اور یہی وجہ ہے کہ اس روایت کے بعض طرق میں صرف البان کا تذکرہ ہے ، ابوال کا لفظ مذکور نہیں ۔ (کما فی روایۃ البخاری :5685)پس اس صورت میں تقدیری عبارت یوں ہوگی : اِشْربوا من اَلْبَانھا و اسْتَنْشَقُوا من ابْوَالِھا۔یعنی اونٹوں کا دودھ پیو اور اُن کا پیشاب سونگھو ۔
جواب علیٰ سبیل التسلیم یہ ہے کہ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ واقعۃً پیشاب پینے کا حکم دیا گیا تھا تب بھی یوں کہا جائے گا کہ یہ اجازت ضرورت کےتحت علاج کی غرض سے تھی ، پس اس سےکلی طور پر پیشاب کی طہارت کا مسئلہ کیسے ثابت ہوسکتا ہے ۔ (تحفۃ الالمعی :1/316)
(3)قصاص بالمثل :
اِس مسئلے میں اختلاف ہے کہ قاتل کو قصاص میں کیسے قتل کیا جائے گا ، تلوار سے قتل کریں گے یا اُسی طرح ماریں گے جس طرح قاتل نے قتل کیا تھا ۔دوسرے الفاظ میں اِس کو یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ قاتل نے اگر مقتول کو مارتے ہوئے مارنے سے قبل زخم بھی لگائے ہوں تو کیا قاتل کو صرف قصاص میں قتل کیا جائے گا یا مارنے سے قبل اُس کو بھی زخم لگائے جائیں گے :
امام ابوحنیفہ ﷫: صرف قصاص بالسیف لیاجائے گا ۔
ائمہ ثلاثہ ﷭: قصاص بالمثل لیا جائے گا ،اگر اُسی طرح کرنے سے قاتل مر گیا تو قصاص پورا ہوگیا ، اور اگر بچ گیا تو پھر تلوار سے ختم کردیں گے ۔البتہ اگر اُس نے مارنے کا کوئی ناجائز ذریعہ اختیار کیا تھا تو وہ نہیں کیا جائے گا ۔مثلاً : شراب پلائی ہو یا وطی کی ہو وغیرہ ۔(البنایۃ :13/85)
(4)علاج بالمحرم کا مسئلہ :
علاج بالمحرّم کے بارے میں فقہاء کرام کا اختلاف :