فلم دی میسجThe Message
فلم دی میسجThe Message

الحمدللہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی!
”جیو “ٹی وی کی جانب سے نشر کردہ توہین رسالت پر مشتمل فلم ”دی میسج“ کی آمدنی سے زلزلہ زدگان کی امداد کے حوالہ سے مدیر”بینات“کو روزنامہ ”جنگ“ کے ایک قاری کاسوالیہ خط موصول ہوا‘ مدیر” بینات“ کے مرض کی وجہ سے وہ خط اور مدیر ”بینات“ کے جواب کواس ماہ کے ” بصائر و عبر“ میں افادئہ عام کے لئے شائع کیا جارہا ہے۔

سوال:… بلا تمہید عرض ہے کہ رمضان المبارک ۱۴۲۶ھ کے مقدس مہینے میں مملکت پاکستان کو زلزلے کی تباہ کاریوں کی بدولت شدید نقصان پہنچا‘ اس مشکل گھڑی کا مقابلہ کرنے کے لئے ملک کی دینی و سیاسی تنظیمیں‘ رفاہی ادارے اور حکومت پاکستان بھی زلزلہ زدگان کی مدد کے لئے کمربستہ ہوگئیں‘ کیبل کے ذریعے نشریات پیش کرنے والا ایک نجی (پرائیویٹ) چینل جیو ٹیلی ویژن نے بھی اس سلسلے میں اپنی سرگرمیاں تیز کردیں‘ ان ہی دنوں جیو ٹیلی ویژن سے ایک فلم‘ جس کا نام ”دی میسج“ (The Message) ہے‘ کی جھلکیاں بار بار دکھائی جانے لگیں اور اس فلم کے اشتہارات پاکستان کے سب سے بڑے اردو روزنامہ جنگ میں بھی شائع ہونے لگے‘ جیو ٹیلی ویژن یہ بات بھی نشر کررہا تھا کہ اس فلم سے ہونے والی آمدنی سے زلزلہ زدگان کی مدد کی جائے گی‘ لیکن یہ بات نہیں بتائی گئی کہ فلم دیکھنے سے کس طرح آمدنی ہوگی اور کس طرح زلزلہ زدگان کی مدد کی جاسکے گی؟
مولانا صاحب! جس شخص نے یہ فلم بنائی ہے‘ اس کا کہنا ہے کہ یہ فلم اسلام کو سمجھنے میں معاون ثابت ہوگی‘ غیرمسلموں کے سامنے اسلام کو صحیح طور پر پیش کیا جاسکے گا‘ یہ فلم دیکھنے سے ایمان تازہ اور مضبوط ہوگا۔ (نعوذباللہ)
فلم کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ یہ فلم حقیقی واقعات پر مبنی ہے‘ اس کی تیاری کے لئے جامعہ الازہر کے مفکرین اور اسکالروں کی مدد حاصل کی گئی ہے‘ یہ فلم انگریزی زبان میں بھی نشر کی گئی اور اردو ترجمے کے ساتھ بھی نشر کی جارہی ہے‘ جس وقت میں یہ سطور قلم بند کررہا ہوں‘ اس وقت تک اس فلم کو تین مرتبہ چلایا جاچکا ہے‘ جیو ٹیلی ویژن اس فلم کا بہت چرچا کررہا ہے اور ایسے پروگرام بھی نشر کررہا ہے‘ جس میں اس فلم سے متعلق تعریفیں کی جارہی ہیں۔ الحمدللہ! میں نے پوری فلم تو نہیں دیکھی‘ لیکن چند جھلکیاں دیکھی ہیں‘ جو آپ کی خدمت میں پیش ہیں:
فلم میں نہ صرف اسلام سے قبل زمانہ جاہلیت کے دور کی منظر کشی کی گئی ہے‘ بلکہ بڑے بڑے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم‘ مثلاً: حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور دیگر مقدس ہستیوں کا مختلف اداکاروں نے باقاعدہ کردار ادا کیا ہے‘ معاذاللہ‘ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا اذان دینا‘ ان پر کافروں کی جانب سے سختیاں کیا جانا‘ وغیرہ‘ فلم بند کیا گیا ہے‘ نعوذباللہ‘ حتی کہ حضور پُرنور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مقدسہ کا بھی کسی ملعون اداکار نے کردار ادا کیا ہے‘ نعوذباللہ‘ فلم میں اس آدمی کا چہرہ تو واضح نہیں ہے‘ لیکن اسے چلتے پھرتے دکھایا گیا ہے۔
یہ الفاظ لکھتے ہوئے میرے ہاتھ کانپ رہے ہیں‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ شریف ہجرت کے واقعہ کی نعوذباللہ منظر کشی کی گئی ہے‘ دکھایا گیا ہے کہ دف بجائے جارہے ہیں‘ لوگ انتظار میں کھڑے ہیں‘ ایک شخص جس کا چہرہ واضح نہیں ہے‘ سفید اونٹ پر سوار آرہا ہے (نعوذباللہ ‘استغفراللہ)۔
فلم کی ایک اور جھلکی میں دکھایا گیا ہے کہ بت رکھے ہوئے ہیں‘ ایک شخص چھڑی کی مدد سے بتوں کو گراکر توڑ رہا ہے‘ معاذاللہ‘ میرے جان پہچان کے لوگوں میں سے جنہوں نے فلم دیکھی ہے‘ ان کا کہنا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے اوپر فلم بنائی گئی ہے‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مدینے ہجرت کرجانے کے دوران غار میں سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہمراہ قیام کرنا‘ غار کے منہ پر مکڑی کا جالا بننا‘ کبوتر کا انڈے دینا‘ مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کی تعمیر‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اینٹیں اٹھا اٹھا کر لانا‘ حضرت ابو ایوب انصاری کے گھر قیام کرنا وغیرہ‘ باقاعدہ ڈائیلاگ کے ساتھ فلمایا گیا ہے۔ نعوذباللہ۔
مولانا صاحب! مندرجہ بالا باتیں لکھنے کی مجھ میں سکت نہیں تھی‘ لیکن لوگ اس انداز میں یہ فلم دیکھ رہے ہیں کہ جیسے اس میں کچھ ہے ہی نہیں‘ میڈیا کے ذریعے یہ بات پھیلائی جارہی ہے کہ یہ فلم حقیقی واقعات پر مبنی ہے‘ لوگوں کے اندر یہ زہر تیزی سے سرایت کررہا ہے اور انہیں کچھ خبر ہی نہیں ہے ‘ آپ کے علم میں یہ بات لانا ناگزیر ہوگیا تھا‘ اس لئے بار بار توبہ کرنے کے بعد لکھنا شروع کیا‘ یہ سطور لکھتے ہوئے بھی توبہ کررہا ہوں‘ دل خون کے آنسو رو رہا ہے‘ ہاتھ کپکپارہے ہیں‘ جسم پر لرزہ طاری ہے‘ ہائے! ان مسلمانوں کا کیا ہوگا؟ جو اتنی بڑی توہین برداشت کررہے ہیں؟ توہین رسالت کو توہین نہیں سمجھ رہے؟
مجھے ابتدا رمضان ہی میں (جب فلم کی نمائش شروع کی گئی تھی) ان خرافات کا علم بذریعہ جھلکیاں ہوگیا تھا‘ لیکن میں یہ باتیں لکھتے ہوئے ڈررہا تھا‘ کانپ رہا تھا‘ ہمت نہیں ہورہی تھی‘ کہ کہیں ایسا لکھنا بھی توہین رسالت میں شامل نہ ہوجائے (یااللہ! مجھے معاف فرما) جب یہ زہر مسلسل گھولا جانے لگا‘ تو مجبوراً قلم اٹھایا۔
جیو ٹیلی ویژن نے اسی پر بس نہیں کیا‘ بلکہ افطار کے وقت جیو ٹیلی ویژن پر دکھائی جانے والی اذان میں بھی اس فلم کے چند مناظر دکھائے گئے‘ یہ خرافات اس تیزی سے پھیل رہی ہیں کہ جن لوگوں نے یہ فلم یا اس فلم کا کچھ حصہ دیکھا ہے‘ وہ اس کو بُرا سمجھنے پر بھی تیار نہیں ہیں‘ اگر سمجھاؤ‘ تو کہتے ہیں: ”اس میں تو سچے مناظر دکھائے گئے ہیں۔“ بعض کا کہنا ہے کہ : ”اگر کسی کو پڑھنا نہ آتا ہو‘ تو وہ دیکھ کر ہی اسلام کے ابتدائی حالات و واقعات کا مطالعہ کرسکتا ہے۔“ کچھ کا کہنا ہے کہ: ”بے شک اس فلم میں سیّدنا ابوبکرصدیق‘ ابو سفیان‘ حضرت بلال‘ حضرت ابو ایوب انصاری اور دیگر اکابر صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا کردار ادا کیا گیا ہے‘ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کہیں بھی بولتے ہوئے نہیں دکھایا گیا اور نہ ہی واضح شکل دکھائی گئی ہے۔“ گویا ان لوگوں کے نزدیک اس فلم میں کوئی قابل ممانعت بات ہی نہیں پائی جاتی‘ اس طرح کی باتیں مسلمانوں‘ بلکہ اپنے حلقہ احباب کی زبانوں سے سن کر کلیجہ جیسے پھٹ رہا ہے‘ سینہ غم کے مارے چاک ہوا جارہا ہے‘ اے کاش! کہ زمین شق ہوجاتی اور میں اس میں سماجاتا‘ کاش! ایسی فلم میری زندگی میں نہ بنتی۔
پہلے تو مغربی ممالک کے عیسائی حضرات نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اور یہودیوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی پر فلم بنانے کی ناپاک جسارت کی تھی‘ لیکن اب تو جامعہ الازہر کی مدد سے ایک نام نہاد مسلمان نے بھی ایسا کر ڈالا‘ افسوس ہے! ان ناسمجھ مسلمانوں پر‘ جو اس فلم کی تشہیر کے لئے کام کررہے ہیں اور جو یہ فلم دیکھ رہے ہیں۔
مولانا صاحب! اب میں چند باتیں دریافت کرنا چاہتا ہوں‘ خدارا جلد از جلد جواب عنایت فرمایئے‘ تاکہ میں اپنے مسلمان بھائیوں (جو جیو ٹیلی ویژن کے خطرناک جال میں دانستہ یا نادانستہ پھنس گئے ہیں اور اس ٹی وی چینل کے مکرو فریب میں آکر اس فلم کے بنانے والوں اور دیکھنے والوں کو صحیح سمجھ رہے ہیں) کے سامنے آپ کا جواب بطور دلیل پیش کرسکوں۔
#… جن لوگوں نے یہ فلم بنائی ہے‘ جامعہ الازہر کے اسکالرز جنہوں نے اسے پاس کیا ہے‘ جن لوگوں نے اس فلم میں کردار ادا کیا ہے‘ فلم دیکھی ہے‘ نشر کی ہے‘ نشر کرنے میں معاونت کی ہے‘ یا اس فلم کے حق میں دلائل دے کر لوگوں کو بہکایا ہے‘ ان کے متعلق قرآن و سنت اور فقہ حنفی کی روشنی میں کیا حکم ہے؟
#… پاکستان کا سب سے بڑا اردو اخبار ”جنگ “بھی اس فلم کے اشتہارات وغیرہ چھاپ کر اس فلم کی خوب تشہیر کررہا ہے‘ اس کے متعلق کیا حکم ہے؟ کیا یہ گمراہی پھیلانے میں معاونت کرنا نہیں ہے؟
#… موجودہ صورت حال میں جنگ اخبار پڑھنا شرعاً کیسا ہے؟
#… اگر کسی نے یہ فلم یا اس کا کچھ حصہ دیکھ لیا ہو‘ لیکن اب توبہ کرنا چاہتا ہو‘ تو اس کا کیا طریقہ ہے؟ کیا کفارہ ہے؟
#… بحیثیت مسلمان ہمیں اس فلم کے خلاف کس طرح کے عملی اقدامات کرنے چاہئیں؟
#… اگر کسی شخص کو یہ فلم دیکھنے سے روکا جائے اور وہ تجسّس میں آکر خدا نخواستہ یہ فلم دیکھ لے‘ تو کیا اس کا گناہ اس شخص پر بھی ہوگا‘ جس نے اُسے یہ مکروہ فلم دیکھنے سے روکا تھا؟ میں اور میرے بھائی وغیرہ اسی خیال کی وجہ سے اس فلم کا تذکرہ کرنے سے بھی ڈر رہے ہیں‘ کیونکہ اگر کسی سے کہا جائے تو وہ اس فلم کے حق میں طرح طرح کی تاویلات پیش کررہے ہیں۔
مولانا صاحب! براہ مہربانی جلد از جلد جواب عنایت فرمایئے۔ اللہ تعالیٰ مجھے اور تمام مسلمانوں کو قوت کے ساتھ ان خرافات کا مقابلہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے‘ ہم سب کے ایمان کی حفاظت فرمائے‘ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے‘ آپ کو اور تمام مسلمانوں کو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی غلامی میں ہی خاتمہ فرمائے‘ اللہ تعالیٰ علمائے اہلِ حق‘ علمائے اہل سنت والجماعت کی حفاظت فرمائے‘ ہمیں صراطِ مستقیم پر چلنے اور علمائے اہل سنت سے قدم قدم پر رہنمائی لینے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔
حمزہ علی‘ کراچی
جواب:… جذبات سے لبریز آپ کا خط پڑھ کر ایمان تازہ ہوگیا‘ افسوس! کہ آپ کا رمضان کا لکھا ہوا خط مجھے ادارہ جنگ میں کام کرنے والے کرم فرماؤں کی مہربانی سے آج ۲۰/ ربیع الثانی ۱۴۲۷ھ کو ملا ہے‘ گویا پورے آٹھ ماہ بعد یہ خط ملا ہے اور اس وقت سے اب تک حالات کیا سے کیا ہوگئے ہیں؟ میں رمضان المبارک میں بیرون ملک تھا‘ واپسی پر مجھے کسی نے نہیں بتلایا‘ ورنہ بحیثیت ایک گناہ گار مسلمان‘ میں بھی اس پر احتجاج کرتا‘ میں نے لکھ تو دیا کہ اس پر احتجاج کرتا‘ مگر سمجھ نہیں آتا کہ اس شرمناک فلم پر اپنے کرب و الم کا اظہار کن الفاظ میں کروں؟ اور اس داستانِ درد و الم کو کن الفاظ کا پیرایہ پہناؤں؟ کراچی جیسا شہر جس میں کم و بیش ڈیڑھ کروڑ کلمہ گو مسلمان آباد ہیں‘ انہوں نے یہ کیسے برداشت کرلیا کہ ان کے مقدس نبی اور رشک ملائک صحابہ کرام کو فلمانے کی ناپاک جسارت کی گئی‘ اور ان نام نہاد مسلمانوں نے ٹھنڈے پیٹوں دنیا جہان کے اوباشوں کو نبی امی اور صحابہ کرام کے روپ میں دیکھنے کی ہمت بھی کرلی؟ اور وہ بھی رمضان جیسے مقدس ماہ میں!! اے اللہ! ہمارے اس جرم کو معاف فرما۔
بلاشبہ اس ذاتِ الٰہی کا حلم و تحمل تھا‘ ورنہ اس جرأت و گستاخی پر آسمان کو حق تھا کہ آگ برساتا اور زمین زندہ انسانوں کو نگل جاتی۔
یہ فلم بنانا‘ اس کے جواز کا فتویٰ دینا‘ اس کو نشر کرنا‘ اس کی اشاعت میں مدد کرنا‘ اس کے جواز اور مفید ہونے کے دلائل دینا‘ اس کو دیکھنا‘ لوگوں کو اس کے دیکھنے کی طرف راغب کرنا اور بہکانا‘ سب حرام و ناجائز ہے۔ اس فلم کو بنانے والا مصطفی عکاظ کوئی مسلمان نہیں تھا‘ بلکہ ایک لادین مستشرق تھا اور غالباً اس نے اپنے آقاؤں کے اشارہ پر توہینِ رسالت و توہینِ صحابہ پر مبنی یہ بدنام زمانہ فلم بنائی اور مسلمانوں کی مقدس شخصیات کو دنیا جہان کے کنجروں اور بدمعاشوں کی شکل میں دکھا کر مسلمانوں کے ایمان و عمل کو غارت کرنے اور ان مقدس شخصیات کی توہین و تنقیص کرنے کی کوشش کی۔ کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ فلم انڈسٹری کے کسی حیا باختہ انسان کو حضرت حمزہ، حضرت بلال، حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت خدیجہ کا نام د یا جائے؟ اس سے بڑھ کر یہ کہ کیا کسی مسلمان کا ایمان گوارا کرسکتا ہے کہ کسی کافر‘ مشرک‘ ملحد اور بے دین کو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے طور پر پیش کیا جائے؟ اے کاش کہ جو کام آج تک اسلام کے ازلی دشمن نہیں کرسکے تھے ‘ وہ اب مسلمانوں کے ہاتھوں‘ مسلمانوں کے ملک میں اور مسلمانوں کے سامنے کیا جارہا ہے‘ اور طرفہ تماشایہ کہ اس کو اشاعتِ اسلام کا نام دے کر اسے دیکھنا ‘دکھانا اور اس کی نشرو اشاعت کو نیکی کا نام دیا جارہا ہے: چوں کفر از کعبہ برخیزد کجا ماند مسلمانی!
اس فلم کی نشرواشاعت کے سلسلے میں روزنامہ جنگ اور جیو ٹی وی کا یہ عمل سراسر غلط‘ ناجائز‘ لائقِ صد نفرت اور گستاخانہ ہے‘ مسلمانوں کو چاہئے کہ اس اسلام دشمن فلم اور توہینِ رسالت کی عالمی سازش کے خلاف بھرپور احتجاج کریں اور ٹی وی واخبارات کو ان کی اس اسلام دشمن گستاخانہ پالیسی سے باز آجانے پر مجبور کردیں۔
عام لوگوں کو نہایت سلیقہ سے اس بدترین فلم اور گھاؤنی سازش کے دیکھنے سے روکا جائے اور انہیں باور کرایا جائے کہ آقائے دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی شبیہ بنانا‘ دیکھنا اور دکھانا سب ناجائز‘ حرام اور توہینِ رسالت کے زمرے میں آتا ہے‘ اسی طرح ان پر واضح کیا جائے کہ اگر ایک شریف انسان اپنے ماں‘ باپ‘ استاذ‘ شیخ یا اپنی کسی برگزیدہ شخصیت کو قابل اعتراض‘ نیم عریاں حالت میں اور کسی حیا باختہ انسان کے کردار میں دیکھنا گوارا نہیں کرسکتا‘ تو وہ اپنے محبوب از دل و جان اور سرور دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم ‘ حضرات صحابہ کرام جیسی مقدس شخصیات کو فلم کی اسکرین پر اور وہ بھی نہایت قابل اعتراض حالت میں دیکھنا کیونکر گوارا کرسکتا ہے؟
پھر جیسا کہ دوسرے ذرائع سے معلوم ہوا کہ حضرات صحابہ کرام کا کردار ادا کرنے والے ان غیرمسلموں کو فلم اسکرین پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سخت کلامی اور تند و تیز لہجہ میں بات کرتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے‘ جس کا تکلیف دہ اور قابل اعتراض پہلو یہ ہے کہ گویا نعوذباللہ! حضرات صحابہ کرام ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ادب ناآشنا اور گستاخ تھے‘ اس سے جہاں اسلامی تعلیمات کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے‘ وہاں حضرات صحابہ کرام  کے رشک ملائک کردار کو بھی داغ دار کرنے کی ناپاک سعی کی گئی ہے‘ اس سے مسلمانوں کی نئی نسل پر جہاں منفی اثرات مرتب ہوں گے ‘وہاں وہ صحابہ کرام کے بارہ میں جو تاثر قائم کریں گے‘ وہ کسی سے پوشیدہ نہیں‘ الغرض گستاخی پر توبہ و استغفار کرنا چاہئے۔
اگر روزنامہ جنگ یا دوسرا کوئی اخبار باوجود تنبیہ کے اس بدترین کردار سے باز نہ آئے‘ تو اُسے اس حرکت سے باز رکھنے یا سبق سکھانے کے لئے‘ احتجاجاً اس کا بائیکاٹ کیا جائے‘ کیونکہ آخری درجہ میں ہم اتنا ہی کرسکتے ہیں۔
جن لوگوں نے اس فلم کو صحیح جان کر دیکھا ہے‘ ان کو بارگاہ الٰہی میں اس سے توبہ کرنا چاہئے۔ اس فلم کے سلسلہ میں مزید تفصیل درکار ہو تو حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ کا ایک مضمون ماہنامہ ”وفاق المدارس“ ملتان دسمبر ۲۰۰۵ء میں شائع ہوچکا ہے‘ اس کو ملاحظہ کیا جائے‘ تاہم نامناسب نہ ہوگا کہ اس مضمون سے اس سلسلہ کا ایک ضروری اقتباس ذیل میں بھی نقل کردیا جائے‘ چنانچہ حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ تحریر فرماتے ہیں:
”…اس فلم کی کہانی چار مصری ناول نگاروں توفیق الحکیم‘ محمد علی ماہر‘ عبدالحمید جودا اور عبدالرحمن شرقاوی نے لکھی ہے‘ امریکا میں مقیم ایک شامی کمیونسٹ مصطفی العقاد اس کا ہدایت کار ہے‘ اور برطانیہ‘ اٹلی میکسیکو‘ ہنگری‘ یونان اور یورپ کے دوسرے بہت سے اداکار اس میں کام کررہے ہیں‘ روس‘ اسرائیل اور بھارت اس کی تیاری میں بڑی دلچسپی لے رہے ہیں‘ اور ایک اسرائیلی رقاصہ نے اس کے لئے اپنے رقص کی ”خدمات“ پیش کی ہیں‘ برطانیہ کی مس ڈالٹن نے اس فلم کے اداکاروں کے لئے ملبوسات تیار کئے ہیں‘ میکسیکو کا ایک فلم ایکٹر انتھونی کوئن اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس چچا اور سید الشہداء حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا کردار ادا کررہا ہے‘ اور جن صحابہ کرام کے بارے میں اب تک یہ معلوم ہوسکا ہے کہ ان کا کردار فلم میں پیش کیا گیا ہے‘ ان میں حضرت جعفر طیار‘ حضرت ابو سفیان اور حضرت ہندہ شامل ہیں۔ فالی اللّٰہ المشتکی وانا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔
معلوم ہوا ہے کہ شروع میں تو مراکش‘ لیبیا‘ کویت اور بحرین نے مل کر اس فلم کی تیاری کے لئے مالی امداد فراہم کی تھی‘ لیکن جب مسلمانوں کی طرف سے اس پر شدید احتجاج ہوا‘ تو لیبیا کے سوا باقی تمام حکومتوں نے اس کی مالی اعانت سے ہاتھ کھینچ لئے‘ مگر لیبیا کی حکومت بڑی تن دہی کے ساتھ نہ صرف مالی امداد کررہی ہے‘ بلکہ اس نے مراکش کے انکار کے بعد فلم کی شوٹنگ کے لئے طرابلس کا علاقہ بھی پیش کردیا ہے‘ جہاں یہ فلم تیزی کے ساتھ تکمیل کے مراحل طے کررہی ہے۔ عالم اسلام کے تمام معروف دینی و علمی حلقوں نے اس فلم کی تیاری پر شدید احتجاج کیا ہے‘ مصر کے شیخ الازہر‘ مجمع البحوث الاسلامیہ‘ مدینہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر شیخ عبدالعزیز بن باز اور رابطہ عالم اسلامی کے جنرل سیکریٹری شیخ صالح القزاز کے بیانات اس سلسلے میں شائع ہوچکے ہیں‘ پاکستان کے ممتاز اہل علم نے بھی اس پر سخت احتجاج کیا ہے…“ (ماہنامہ ”وفاق المدارس“ ملتان‘ ذوالحجہ ۱۴۲۶ھ)
واللہ یقول الحق وہو یہدی السبیل
وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ سیدنا محمد وآلہ واصحابہ اجمعین
نوٹ: مدیر بینات ایک حادثہ میں شدید زخمی ہیں‘ وہ لکھنے پڑھنے سے معذور اور صاحبِ فراش ہیں۔ بینات کے باتوفیق قارئین سے ان کی صحت یابی کے لئے دعا کی اپیل کی جاتی ہے۔ (ادارہ)
اشاعت ۲۰۰۶ ماہنامہ بینات, جمادی الاخریٰ۱۴۲۷ھ جولائی۲۰۰۶ء, جلد 69, شمارہ