نبی کریمﷺکھجور اور مکھن پسند کیا کرتے تھے۔وَكَانَ يُحِبُّ الزُّبْدَ وَالتَّمْرَ.(ابوداؤد: 3837)
عَجْوَة :
عَجوہ کھجور کی ایک قسم ہے جو کالی ہوتی ہے اور اس کی گٹھلی بڑی ہوتی ۔اس کے بارے میں لوگوں میں یہ مشہور ہے کہ عجوہ حضور ﷺکی لگائی ہوئی کھجوروں کو کہا جاتا ہے ، یہ صحیح نہیں ، عَجوہ کا وجود تو پہلے سے تھا ، ہاں! یہ ممکن ہے کہ حضرت سلمان فارسی ﷜کے لئے جو درخت نبی کریمﷺ نے لگائے تھے وہ عجوہ کھجور کے ہوں ۔(تحفۃ الالمعی :5/408)
عجوہ کے فضائل و فوائد :
حضرت سعد ﷜ فرماتے ہیں کہ میں ایک دفعہ بیمار ہوا تو نبی کریمﷺ میری عیادت کے لئے تشریف لائے ، آپ نے میرے سینے پر ہاتھ رکھا ، آپ کے ہاتھوں کی ٹھنڈک مجھے اپنے دل میں محسوس ہونے لگی ۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا تمہیں دل کی تکلیف ہے لہٰذا بنو ثقیف کے حارث ابن کَلدہ کے پاس جاؤ کیونکہ وہ لوگوں کا علاج و معالجہ کرتا ہے ، اُس کو چاہیئے کہ وہ مدینہ کی سات عَجوہ کھجوریں لے کر اُنہیں گھٹلیوں سمیت پیس لے اور پھر اُس سے تمہارا لَدود کرے یعنی تمہارے منہ میں دوائی کے طور پر ڈالے ۔ عَنْ سَعْدٍ، قَالَ: مَرِضْتُ مَرَضًا أَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ ثَدْيَيَّ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَهَا عَلَى فُؤَادِي فَقَالَ:إِنَّكَ رَجُلٌ مَفْئُودٌ، ائْتِ الْحَارِثَ بْنَ كَلَدَةَ أَخَا ثَقِيفٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ يَتَطَبَّبُ فَلْيَأْخُذْ سَبْعَ تَمَرَاتٍ مِنْ عَجْوَةِ الْمَدِينَةِ فَلْيَجَأْهُنَّ بِنَوَاهُنَّ ثُمَّ لِيَلُدَّكَ بِهِنَّ.(ابوداؤد: 3875)
کئی روایات میں آپﷺ کا یہ ارشاد منقول ہے کہ : جو شخص صبح سات عَجوہ کھجوریں کھالے اُسے اُس دن کوئی زہر اور سحر اثر نہیں کرے گا ، بعض روایات میں مدینہ منوّرہ کی عَجوہ کھجوروں کا تذکرہ آیا ہے ۔مَنْ تَصَبَّحَ سَبْعَ تَمَرَاتٍ عَجْوَةٍ لَمْ يَضُرَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ سُمٌّ وَلَا سِحْرٌ.(ابوداؤد: 3876)مَنِ اصْطَبَحَ سَبْعَ تَمَرَاتٍ مِنْ عَجْوَةِ الْمَدِينَةِ لَمْ يَضُرَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ سُمٌّ وَلَا سِحْرٌ.(سنن بیہقی: 16495) مَنْ أَكَلَ سَبْعَ تَمَرَاتٍ مِمَّا بَيْنَ لَابَتَيْهَا حِينَ يُصْبِحُ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ حَتَّى يُمْسِيَ.(سنن بیہقی: 19570)