ختنہ کے مسائل
اِسلام میں ختنہ کی ابتداء کب سے ہوئی اور اُس کا کیا حکم ہے؟
سوال(۷۲۶):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: اِسلام میں ختنہ کا شرعی حکم کیا ہے؟ اور کب سے ختنہ رائج ہے؟ کیا ختنہ کرنا سنت ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: مردوں کے لئے ختنہ کرنا شرعاً سنتِ مؤکدہ ہے، سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی ختنہ خود اپنے ہاتھوں سے ۱۲۰؍سال کی عمر میں فرمائی، اور عربوں میں بھی یہ سنتِ ابراہیمی رائج رہی؛ تا آںکہ جب اِسلام آیا تو اُس نے بھی اِس سنت پر اُنہیں برقرار رکھا، اور اُسے مذہبی شعائر میں شامل فرمایا۔
قال القرطبي: وفي المؤطأ وغیرہ: عن یحییٰ بن سعید أنہ سمع سعید بن المسیب رحمہ اللّٰہ تعالیٰ یقول: إبراہیم علیہ السلام أول من اختتن الخ۔ (تفسیر ابن کثیر، البقرۃ: ۱۲۴، ۱؍۲۲۹ مکتبۃ دار السلام ریاض)
إن إبراہیم علیہ السلام أول من اختتن وہو ابن عشرین ومائۃ، واختتن بالقدوم الخ۔ (فتح الباري، کتاب الاستیذان / باب الختان بعد الکبر ۱۱؍۸۸ بیروت)
وقد ثبت لإبراہیم علیہ السلام أوّلیات أخریٰ کثیرۃٌ: منہا: أنہ أول من ضاف الضیف، وقص الشارب واختتن، ورأی الشیب وغیر ذٰلک … بأدلۃ في کتابي: إقامۃ الدلائل علی معرفۃ الأوائل الخ۔ (فتح الباري، کتاب أحادیث الأنبیاء / باب قول اللّٰہ تعالیٰ: {وَاتَّخَذَ اللّٰہُ اِبْرَاہِیْمَ خَلِیْلاً} ۶؍۴۷۱ دار السلام ریاض، ۶؍۳۹۰ مکتبۃ الریاض الحدیثیۃ)