ویکرہ أن تسقی لإسقاط حملہا، وجاز بعذر حیث لا یتصور۔ (الدر المختار) وفي الشامي: ویکرہ أي مطلقًا قبل التصور وبعدہ علی ما اختارہ الخانیۃ۔ (الدر المختار مع الشامي ۹؍۶۱۵ زکریا، فتاویٰ قاضي خان علی الہندیۃ ۳؍۴۱۰)
وفي الیتمۃ: سألت علي بن أحمد عن إسقاط الولد قبل أن یصور، فقال: أما في الحرۃ فلا یجوز قولاً واحدًا۔ (الفتاویٰ الہندیۃ ۵؍۳۵۶)
وإذا أمسک الرحم المني فلا یجوز للزوجین ولا لأحدہما ولا للسید التسیب في إسقاطہ۔ (فتح العلي مالکي ۱۱؍۳۹۹ بحوالہ: کتاب الفتاویٰ ۶؍۲۲۱)
اِس وقت کیا صورت حال ہے؟ اس کا جب تک حتمی پتہ نہ چلے اُس وقت تک کوئی جواب نہیں دیا سکتا۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۱۷؍۳؍۱۴۳۰ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اللہ عنہ
غیر ثابت النسب حمل ساقط کرنے والے کو مسقط دوائیں دینا؟
سوال(۷۶۳):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: اِسقاطِ حمل کی دوا ایسے شخص کو دینا جس کے بارے میں یقین یا ظن غالب ہے کہ غیرثابت النسب حمل کے لئے استعمال کرے گا، ایسے شخص کو میڈیکل والا دوا دے سکتا ہے یا نہیں؟
غیرثابت النسب حمل ہے، اگر اسقاطِ حمل کی دوا استعمال نہ کرائی جائے تو لڑکا، لڑکی اور دونوں کے خاندانوں کی بے عزتی اور لڑائی جھگڑے کا قوی اِمکان ہے، غیر ثابت النسب حمل بتاکر کوئی شخص میڈیکل والے سے دوا مانگتا ہے، کیا اِس غلطی پر پردہ ڈالنے کے لئے میڈیکل والا دوا دے سکتا ہے؟ گنہگار تو نہیں ہوگا؟
بعض لوگ چاہتے ہیں کہ بچے کم پیدا ہوں؛ تاکہ اُن کی تعلیم وتربیت اور ضرویات کو بآسانی پورا کیا جاسکے، اِس لئے اسقاطِ حمل کی دوا استعمال کراتے ہیں، پھر اِس طرح کے لوگوں کی دو قسمیں ہیں: