ہوگا ۔ کیونکہ یہ اہلیت رکھتے ہیں ۔ البتہ سننے والے کے اوپر ہر صورت میں لازم ہوتا ہے ، خواہ وہ اُن سے سنے جو نماز کی اہلیت رکھتے ہیں یا اُن سے سُنے جو اہلیت نہیں رکھتے ۔ (فتاوی ہندیہ : 1/132)
دوسرا ضابطہ ”سامع پر وجوبِ سجدہ کیلئے تالی کا اہلِ تمییز ہونا ضروری ہے“ :
آیتِ سجدہ سننے والے پر سجدۂ تلاوت اُس وقت لازم ہوتا ہےجبکہ وہ ایسے شخص سے سجدہ کی آیت سنے جو عقل و تمییز یعنی شعور رکھتا ہو ،وجوبِ صلاۃ کی اہلیت رکھنا ضروری نہیں ، پس نائم ، مجنون ،جانور، صدائے باز گشت، اِن سب سے سجدہ تلاوت لازم نہیں ہوگا ، کیونکہ اِن میں تلاوت کرنے والےاہلِ تمییز نہیں ۔
ہاں ! کافر ، نابالغ ، حیض و نفاس والی عورت ، بے وضو یا جنبی شخص اگر تلاوت کرے تو اُس سے سننے والے پر سجدہ لازم ہوجائے گا کیونکہ یہ سب عقل و شعور رکھتے ہیں ، اگر چہ ان میں بعض کے اندر وجوبِ صلاۃ کی اداءً اور قضاءً دونوں طرح صلاحیت نہیں ، جیسے: کافراور بعض ایسے ہیں جن میں اداء ً تو صلاحیت نہیں لیکن قضاءً ہے ، جیسے : جنبی شخص ۔(ماخوذ از شامیہ : 2/108)
تیسرا ضابطہ ”وحدتِ مجلس اور وحدتِ آیت سے ایک ہی سجدہ لازم ہوگا“ :
ایک سے زائد سجدے تلاوت کرنے کی صورت میں کتنے سجدے لازم ہونگے اس بارے میں ضابطہ یہ ہے :
اتحاد ِ مجلس اور اتحاد ِ آیت کی شرط کے ساتھ ایک ہی سجدہ ہوگا ، ورنہ الگ الگ سجدے لازم ہونگے ۔
پس اس کی چار عقلی صورتیں بنتی ہیں :
اتحاد ِ مجلس اتحاد ِ آیت : ایک ہی سجدہ ہوگا ۔
اختلاف ِ مجلس اختلاف ِ آیت : الگ الگ سجدے ہونگے ۔