مسجدِ واحد میں جماعتِ ثانیہ کا حکم :
مسجد اگر راستے کی ہو ، یا اُس کا امام و مؤذن مقرر نہ ہو ، یا محلے کی ہو لیکن اُس میں غیرِ اہلِ محلہ نے پہلے ہی جماعت کرلی ، تو بالاتفاق جماعتِ ثانیہ جائز ہے ، اور دراصل یہ جماعتِ ثانیہ نہیں ، پہلی ہی نماز ہے ۔ البتہ مذکورہ بالا صورتیں نہ ہو ں، اور پھر مسجد میں جماعتِ ثانیہ کروائی جائے تو اس میں اختلاف ہے :
امام احمد بن حنبل ﷫: جماعت ِ ثانیہ جائز ہے ۔
ائمہ ثلاثہ ﷭: جائز نہیں۔(تحفۃ الالمعی : 1/544)(الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ:27/175)
امام ابو یوسف ﷫فرماتے ہیں کہ تین شرطوں کے ساتھ جائز ہے:
ہیئتِ اولی پر نہ ہو ، مثلاً : محراب سے ہٹ کرہو ۔
تداعی کے بغیر ہو ۔ یعنی صرف ایک دو ہوں ، تو جائز ہے ۔
اذان و اقامت کے بغیر ہو ۔(درسِ مشکوۃ : 312)

(«»«»«»(«»«»«»(