قنوت ِ نازلہ مفتیٰ بہٖ قول کے مطابق صرف فجر کی نماز میں پڑھی جا سکتی ہے،اگرچہ احناف کا ایک قول جہری نمازوں میں بھی پڑھنے کا ہے۔(شامیہ:2/11)
قولِ راجح کے مطابق قنوتِ نازلہ آخری رکعت میں رکوع سے کھڑے ہونے کے بعد سجدہ میں جانے سے پہلے پڑھنا چاہیئے، اگرچہ رکوع سے پہلے بھی جائز ہے جیساکہ علّامہ نیموی﷫نے اس کو بھی روایات کی روشنی میں جائز قرار دیا ہے ، لیکن بہر حال افضل یہی ہے کہ رکوع کے بعد پڑھاجائے ۔ہاں !دعائے قنوت وتر میں رکوع سے پہلے پڑھنے کا حکم ہے ۔(شامیہ:2/11)(مرعاۃ المفاتیح :4/302)
 اگر دعائے قنوت مقتدیوں کو یاد ہو تو اُنہیں بھی اِمام کے ساتھ پڑھنا چاہیئے ، ایسی صورت میں امام بھی آہستہ پڑھے اور مقتدی بھی آہستہ آواز میں پڑھیں اور اگر مقتدیوں کو یاد نہ ہو جیسا کہ عام طور پر ایسا ہی ہوتا ہے، تو امام کو چاہیئے کہ بلند آواز سے دعا کے کلمات کہے اور سب مقتدی آہستہ آہستہ آمین کہتے رہیں۔(شامیہ:2/11)
 قنوتِ نازلہ کی دعا ءپڑھنے کی حالت میں جو مسبوقین امام کے ساتھ نماز میں شریک ہوں ، وہ تکبیر ِ تحریمہ کہنے کے بعد قیام کی حالت میں امام کی دعا پر آہستہ آواز سے آمین کہتے رہیں، ان کی یہ رکعت شمار نہیں ہو گی ، (کیوں کہ ان کی شرکت امام کے رکوع سے اُٹھ جانے کے بعد ہوئی ہے)بلکہ وہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد اپنی دونوں رکعتوں کو حسبِ قاعدہ پورا کریں گے۔