كتاب الصَّلَاة
صلوۃ کا لغوی معنی :
لغت میں ”صلوۃ “کے کئی معانی آتے ہیں :
(1)صلوۃ بمعنی ”دعاء“ سے مشتق ہے ۔پس اِ س صورت میں نماز کو تسمیۃ الکل باسم الجزء کی قبیل سے ”صلوۃ“ کہا جاتا ہے ۔
(2)صلوۃ بمعنی ”صَلَوَین“ سے مشتق ہے ، ”مُصلّی“ اُس پچھلے گھوڑے کو کہا جاتا ہے جو اگلے گھوڑے کے پیچھے ہو۔پس اِس صورت میں نمازی کو ”مصلّی“ اِس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے امام کی اقتداء اور اتباع کرتا ہے ۔
(3)صلوۃ بمعنی ”صَلَوتُ العُودَ“یعنی ٹیڑھی لکڑی کو آگ سے سینک کر سیدھا کرنے سے مشتق ہے، پس اِس صورت میں نماز کو صلوۃ اِس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ اس کے ذریعہ نفسِ امّارہ کے ٹیڑھ پن کو سیدھا کیا جاتا ہے۔(تحفۃ المِراٰۃ فی دُروس المشکوۃ )
صلوۃ کی شرعی تعریف :
هِيَ أَقْوَالٌ وَأَفْعَالٌ مُفْتَتَحَةٌ بِالتَّكْبِيرِ مُخْتَتَمَةٌ بِالتَّسْلِيمِ مَعَ النِّيَّةِ بِشَرَائِطَ مَخْصُوصَةٍ۔نماز چند ایسے اقوال اور افعال کا نام ہے جس کو مخصوص شرائط اورنیت کے ساتھ تکبیر کے ذریعہ شروع کرکے سلام کے ذریعہ ختم کیا جاتا ہے۔(الموسوعۃ الفقہیہ الکویتیۃ : مادہ : صلوۃ )