حدود آرڈی نینس کے خلاف غوغا آرائی اور اس کا پس منظر
حدود آرڈی نینس
کے خلاف غوغا آرائی اور اس کا پس منظر!

الحمدللہ و سلام علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ:
آج سے ۲۷ سال پیشتر فروری ۱۹۷۹ء میں نافذ ہونے والے ”حدود آرڈی نینس“ کے خلاف سالِ رواں کے ماہ جون میں ”ذرا سوچئے“ کے عنوان سے اچانک مزاحمتی تحریک اٹھ کھڑی ہوئی۔ اخبارات‘ مجلات اور ٹی وی میں اشتہارات‘ بیانات اور مذاکروں کی مد میں اس پر بے دریغ کروڑوں روپیہ صرف کیا گیا‘ این جی اوز اور لادین طبقہ‘ جو اسلام اور اسلامی احکام کے خلاف اُدھار کھائے بیٹھا تھا‘ ایک دم میدان میں آگیا۔ دوسری طرف ان کی حمایت و تائید میں صدر‘ وزیراعظم‘ وفاقی و صوبائی وزرأ اور ارکان اسمبلی بھی یک زبان ہوکر بولنے لگے‘ ان سب کا مطالبہ تھا اور ہے کہ: حدود آرڈی نینس کو یکسر ختم کیا جائے یا کم ازکم اس میں ترمیم کرکے اس کا ”زہر“ نکالا جائے۔ اس موقع پر علمأ‘ اربابِ دین اور دین دار مسلمانوں کا تشویش میں مبتلا ہونا ایک فطری امر تھا‘ کہ اچانک اور ایک دم یہ سب کچھ کیوں اور کیسے ہوگیا؟ اس کے پیچھے کون سی قوتیں ہیں؟ اور ان کے کیا عزائم و مقاصد ہیں؟ اگر خدانخواستہ اس تحریک کی راہ نہ روکی گئی‘ تو اسی طرح یکے بعد دیگرے ایک ایک اسلامی دفعات کے خلاف تحریک اٹھتی رہے گی‘ اور آہستہ آہستہ پاکستان سے اسلامی اقدار کا صفایا ہوجائے گا۔
کہیں ایسا نہ ہو کہ آج حدود آرڈی نینس نشانہ پر ہو‘ کل امتناعِ قادیانیت آرڈی نینس اور اس سے اگلی بار قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دینے کے قومی اسمبلی کے فیصلہ کی باری آجائے؟
اور ان سب سے فراغت کے بعد پاکستان کی اسلامی حیثیت و تشخص پر ہاتھ صاف کرکے اُسے مادر پدر آزاد ایک سیکولر ملک کا درجہ دے دیا جائے؟ جہاں نہ کسی دین و مذہب کا نام ہو‘ نہ شرافت‘ دیانت اور شرم و حیا کا!!!
بلاشبہ روزنامہ جنگ کراچی ۲۵/ مئی ۲۰۰۶ء کے ادارتی نوٹ کے مطالعہ سے بھی ہمارے اس اندیشہ کو تقویت ملتی ہے کہ اس قانون میں ترمیم کو آڑ بناکر مسلمہ دینی عقائد و ایمانیات میں تحریف و تبدیلی کا آغاز کیا جائے گا‘ چنانچہ روزنامہ جنگ کا ادارتی نوٹ ملاحظہ ہو:
”جیو ٹی وی چینل نے ایک عرصے سے متنازع حدود آرڈی نینس پر پاکستان کے ہر مکتب فکر کے جید‘ معزز اور محترم علمائے دین سے رائے لینے کا سلسلہ شروع کیا ہے‘ جو یقینا اس اعتبار سے قابلِ ذکر ہے کہ اس حوالے سے ملک میں شہریوں کو ان مسائل پر کھلے عام اظہارِ خیال کا موقع ملے گا‘ جن کو اب تک چھونے کی بھی روایت نہیں تھی۔ مذہبی امور پر اس وقت دنیا بھر میں جو صورت حال پائی جاتی ہے‘ جس طرح بین المذاہب ہم آہنگی کے لئے تبادلہ خیال ہورہا ہے‘ اس تناظر میں حدود آرڈی نینس پر قومی مباحثے کا آغاز بلاشبہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ پاکستان میں ایسی سول سوسائٹی کے قیام کے لئے ایک نمایاں کوشش ہے جہاں مذہب کو دوسروں کے حقوق کے استحصال کے لئے استعمال نہ کیا جاسکے۔ اس میں بنیادی طور پر سوچنے کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ ”ذرا سوچئے “ کی یہ تحریک ایسے معاشرے میں عقل و استدلال کا غلبہ قائم کرنے کا مثبت اقدام ہے‘ جہاں عقائد کے حوالے سے بھی سوچنے پر غیر اعلانیہ پابندی ہو‘ جہاں قبائلی‘ جاگیردارانہ‘ سرمایہ دارانہ تمدن نے شہریوں کو اپنی مرضی سے زندگی گزارنے سے محروم کررکھا ہو…۔“
(روزنامہ ”جنگ “کراچی ۲۵/ مئی ۲۰۰۶ء)
آپ نے ملاحظہ کیا کہ فاضل اداریہ نویس نے بین السطور اس کی طرف بھی اشارہ کر دیا کہ:
”… ”ذرا سوچئے“ کی تحریک ایسے معاشرے میں عقل و استدلال کا غلبہ قائم کرنے کا مثبت اقدام ہے‘ جہاں عقائد کے حوالے سے بھی سوچنے پر غیر اعلانیہ پابندی ہو…“
گویا ”حدود آرڈی نینس“ میں ترمیم و تبدیلی کا ہمالیہ اور اس کی چوٹی سر کرنے کے بعد ہمارا اگلا ہدف یا اگلا قدم‘ عقائد کی تبدیلی پر سوچنے کا ہوگا۔
بظاہر یہ ایک معمولی سا کلمہ اور ایک مختصر سا جملہ ہے‘ مگر یہ اپنے اندر کس قدر خوف ناک زہرلئے ہوئے ہے؟ بادی النظر میں شاید اس کا اندازہ کسی کو نہ ہو‘ مگر تھوڑے سے غوروفکر سے احساس ہوگا کہ آئندہ اہالیانِ پاکستان کو عقائد و ایمانیات کے معاملہ میں بھی آزادی دی جائے گی‘ اور انہیں اپنی عقل و استدلال کے زور پر صریح نصوص اور قطعی عقائد میں تبدیلی کی آزادی سے بھی نوازا جائے گا۔ دوسرے لفظوں میں انہیں مذہب بدلنے اور ارتداد کی آزادی سے بھی سرفراز کیا جائے گا۔ گویا اس اسلامی ملک میں اب آئندہ جو شخص اپنی عقل اور عقلی استدلال سے اسلام کو ترک کرکے عیسائیت‘ قادیانیت‘ یہودیت یا ہندو مت اختیار کرے گا‘ اس کو اس کی بھی آزادی ہوگی۔
دیکھا جائے تو زنا حدود آرڈی نینس کی منسوخی کا مطالبہ کرنے والے بھی یہی چاہتے ہیں کہ یورپی اور مغربی معاشرہ کی طرح جانوروں کی طرح انہیں سرِعام جنسی ملاپ اور شہوت رانی کی کھلی چھٹی دے دی جائے۔ چونکہ زنا حدود آرڈی نینس ان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھا‘ اس لئے اس کی منسوخی کا مطالبہ کیا جارہا ہے‘ ورنہ بتلایا جائے اس کے سوا حدود آرڈی نینس کی منسوخی کے مطالبہ کا کیا مقصد ہوسکتا ہے؟
بلاشبہ حدود آرڈی نینس کے خلاف برپا ہونے والی تحریک کئی اعتبار سے قابلِ غور اور لائقِ توجہ ہے‘ کیونکہ جس انداز سے حدود آرڈی نینس کے خلاف ”ذرا سوچئے“ کی تحریک اور میڈیائی جنگ نے دنیا بھر میں شہرت و توجہ حاصل کی ہے‘ یہ بلاوجہ نہیں ہے‘ ضرور اس کے پیچھے کوئی خفیہ ہاتھ اور بھیانک پروگرام ہے! ہمارے خیال میں ”ذرا سوچئے“ کی مہم‘ اس کے پس پردہ محرکات اور اسباب و وسائل کی طرف جس طرح توجہ کی جانی چاہئے تھی‘ علماء سے ہٹ کر شاید ہی کسی نے اس پر توجہ دی ہو! بلکہ ہمارے خیال میں عوام کیا‘ بہت سے پڑھے لکھے مسلمانوں کا ذہن و خیال بھی اس طرف نہیں گیا کہ ایک دم یہ تحریک کیونکر اٹھ کھڑی ہوئی؟
اس لئے کہ حدود آرڈی نینس کوئی آج نافذ نہیں ہوا‘ بلکہ آج سے ستائیس سال قبل ۱۹۷۹ء میں اس کا نفاذ ہوا‘ اس کے نفاذ کے ایک عرصہ بعد ۱۹۸۸ء تک جنرل محمد ضیأ الحق صاحب حین حیات رہے‘ ان کے بعد یکے بعد دیگرے غلام اسحق خان‘ فاروق لغاری‘ رفیق تارڑ‘ بے نظیر صاحبہ‘ نواز شریف‘ پھر مکرر بے نظیر صاحبہ اور نواز شریف صاحب برسراقتدار رہے‘ ان کے بعد جناب جنرل پرویز مشرف صاحب مسند نشینِ اقتدار ہوئے اور ان کے اقتدار کو بھی سات سال کا طویل عرصہ گزر چکا‘ اس دوران کسی کو بھی حدود آرڈی نینس کی تبدیلی یا منسوخی کا خیال نہیں آیا اور اس میں کسی قسم کی کوئی خرابی نظر نہیں آئی! اسی طرح اس عرصہ میں وجود میں آنے والی اسمبلیوں اور سینیٹ نے بھی اس کے خلاف کوئی آواز نہیں اُٹھائی‘ تو کیوں؟
آخر کیا وجہ ہے کہ اس سال جون میں اچانک حدود آرڈی نینس کی خرابیاں ایک ایک کرکے سامنے آنے لگیں اور سب کے سامنے اس میں تالاب کے ”کیڑے“ ابلنے لگے؟
سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ اتنا عرصہ تک پردہ خفا میں کیونکر رہا؟ اور اس ”گندگی“ پر کسی کی نگاہ کیوں نہیں گئی؟
”اللہ بھلا کرے “روزنامہ جنگ‘ عوام‘ ڈیلی نیوز‘ دی نیوز اور جیو نشریات کا کہ انہوں نے اپنی تمام تر ”صلاحیتیں “ اس ”نیک کام“ میں صرف کرنا شروع کردیں‘ چنانچہ جہازی سائز کے اشتہارات‘ تنقیدی مضامین‘ مغرب زدہ دانشوروں کے مقالات ‘ نام نہاد علماء کے مکالمے اور خبریں شائع کرکے اس کے خلاف باقاعدہ میدانِ کار زار گرم کردیا‘ اور ایسا محسوس ہونے لگا جیسے دنیا بھر کی ساری خرابیاں‘ خواتین پر ظلم و ستم کی ساری شکلیں اور انسانی حقوق کی پامالی کی ساری صورتیں اس میں ہی پنہاں ہیں! اور اس کے ازالہ کے لئے یہ ”جہادِ مقدس“ شروع کیا گیا ہے۔
ایک طرف اگر ”ذرا سوچئے“ کے عنوان سے روزنامہ جنگ‘عوام‘ ڈیلی نیوز اور دی نیوز کے صفحات اس ”برائی“ کے خاتمہ کے لئے وقف ہوگئے‘ تو دوسری طرف ہمارے اربابِ اقتدار کا سارا ”زورِ خطابت“ بھی اس کے خلاف صرف ہونے لگا‘ اس کے علاوہ این جی اوز‘ انسانی اور خواتین کے حقوق کی نام نہاد تنظیمیں اپنے تمام ساز و سامان اور کیل کانٹوں سے مسلح ہوکر اس کے خلاف صف آرا ہوگئیں‘ اس تمام پس منظر اور پیش منظر کو سامنے رکھیئے! تو اندازہ ہوگا کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ اس سے پہلے کہ دال میں اس کالک کا کھوج نکالا جائے‘ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اس اچانک و یکدم اٹھنے والی ”ذرا سوچئے“ کی تحریک کے کیا اسباب اور پس پردہ کیا محرکات ہیں؟ اور وہ کون سی قوتیں ہیں‘ جن کے زور پر اٹھنے والی یہ تحریک میڈیا پر چھا گئی؟
لہٰذا اس کے مطالعہ اور اس پر غور وفکر کی بھی ضرورت ہے کہ حدود آرڈی نینس کیا ہے؟ اور اس میں وہ کون سی خرابیاں‘ نقائص اور سقم ہیں جو ہمارے ان ”مہربانوں“ کے لئے سوہانِ روح ہیں؟ اور انہیں کسی کروٹ چین نہیں لینے دیتے؟ یا ہمارے ان بزرچ مہروں اور ان کے آقاؤں کو مضطرب و پریشان کئے ہوئے ہیں؟ اسی طرح اس تحقیق کی بھی ضرورت ہے کہ اس میں ایسی کون سی ”غیر شرعی“ چیزیں شامل ہیں؟ جن کی وجہ سے غیر ملکی این جی اوز سے لے کر ہمارے اربابِ اقتدار طبقہ تک سب ہی آتشِ زیرپا ہیں؟
……………………………
دینِ اسلام چونکہ عفت و عصمت اور پاکی و پاکیزگی کا مذہب ہے‘ اور وہ اپنے ماننے والوں کو تقویٰ‘ طہارت اور شرم و حیاء کی تعلیم و تلقین کرتا ہے‘ اور ایسے تمام جرائم سے اجتناب کی تعلیم دیتا ہے جس سے معاشرہ کا امن و امان تہ و بالا ہونے کا امکان ہو‘ اسی طرح اسلام چونکہ شرافت و دیانت کا درس دیتا ہے‘ اس لئے وہ اپنے ماننے والوں کو ایسے تمام کاموں سے بھی منع کرتا ہے‘ جس سے معاشرہ اخلاقی بے راہ روی کا شکار ہوسکتا ہو یا جن سے انسانی اخلاق کی بنیادیں متزلزل اور انسانی اقدار پامال ہونے کا اندیشہ اور خدشہ ہو۔
اسی مقصد کی تکمیل کے لئے اسلام نے اپنے ماننے والوں کے لئے جرم و سزا کا فلسفہ جاری فرمایا‘ بلاشبہ یہ اسلام ہی کی خصوصیت ہے کہ اس نے جرم کی نوعیت کو مدنظر رکھ کر اس کی مناسبت سے نرم و گرم اور ہلکی اور سخت سزاؤں کا تعین فرمایا۔
چنانچہ اسی مناسبت سے اسلامی آئین و دستور میں جرائم کی روک تھام کے لئے سزاؤں کو تین اقسام میں منقسم فرمایا گیا:
اول: حدود… دوم: قصاص… اور سوم: تعزیرات… ان سب کی تعریف حسب ِ ترتیب ملاحظہ ہو:
حدود:… جن جرائم کی سزائیں شارع علیہ السلام نے بیان فرمائیں اور قرآن و سنت میں ان کو نقل کیا گیا‘ انہیں ”حدود“ کہا جاتا ہے‘ مثلاً : حدِّ زنا‘ حدِّ سرقہ‘ حدِّ قذف اور حدِّ خمر و شراب وغیرہ۔
قصاص:… انسانی اعضأ اور اتلافِ جان سے متعلق وہ جرائم‘ کہ جن کی سزاؤں میں مساوات اور برابری ممکن ہو‘ شارع علیہ السلام نے ان کی تفصیلات بیان فرمائی ہوں اور قرآن و سنت میں ان کو نقل کیا گیا ہو‘ ایسے جرائم کی سزا کے اجرأ کو قصاص کہا جاتا ہے‘ جیسے کسی کا کان‘ ناک‘ آنکھ‘ ہاتھ‘ پیر ضائع کرنا یا کسی بے قصور انسان کا قتل کرنا وغیرہ‘ چنانچہ ایسے مجرم کے بھی وہی اعضا کاٹے اور تلف کئے جائیں گے‘ جو اس نے کسی بے قصور و معصوم انسان کے کاٹے یا تلف کئے ہوں‘ اور اگر خدانخواستہ اس نے کسی کی ناحق جان لے کر اس کو قتل کردیا ہو‘ تو اسے بھی قصاص اور بدلہ میں قتل کیا جائے گا۔
تعزیرات:… وہ تمام جرائم‘ جن کی سزا کی تفصیلات شارع علیہ السلام کی زبان وحی ترجمان یا قرآنِ کریم میں مذکور نہ ہوں‘ ان کی سزا کے لئے وقت کے حکمران‘ قاضی‘ جج اور عدالت ِ اسلامیہ کو اختیار دیا گیا ہے‘ چنانچہ ایسے جرائم کی روک تھام کے لئے مذکورة الصدر حضرات جو سزا تجویز کریں‘ اسے تعزیر کہا جاتا ہے اور شریعتِ مطہرہ نے اس کی کوئی حد مقرر نہیں کی‘ تاہم تعزیری سزا چھوٹے اور معمولی جرائم میں تھوڑی‘ جبکہ بڑے اور قبیح و شدید جرائم میں شدید و قبیح اور عبرتناک بھی تجویز کی جاسکتی ہے۔
زنا چونکہ بدترین جرم ہے اور قرآنِ کریم نے اُسے فاحشہ اور بدترین راہ قرار دیا ہے‘ اور اس سے معاشرتی قدریں پامال اور انسانی اخلاقیات کی عمارت متزلزل ہوتی ہے‘ اسی طرح اس سے نسلِ انسانی کی جڑیں کھوکھلی اور تباہ و برباد ہوجاتی ہیں‘ بہیمیت‘ درندگی اور شیطنت کو اس سے فروغ ملتا ہے‘ اس سے اسلامی معاشرہ میں بغض و عناد اور نفرت و عداوت پروان چڑھتے ہیں اور اس سے کسی شریف انسان کی بہو‘ بیٹی اور ماں‘ بہن کی عزت محفوظ نہیں رہ سکتی‘ اسی کے پیش نظر اس کی قباحت و شناعت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا:
”ولا تقربوا الزنا انہ کان فاحشة وسآء سبیلا۔“ (بنی اسرائیل: ۳۲)
ترجمہ: ”اور پاس نہ جاؤ زنا کے‘ وہ ہے بے حیائی اور بری راہ۔“
لیکن اگر کوئی شخص اس قبیح جرم کا مرتکب پایا جائے اور اس کا جرم‘ اقرار یا چار گواہوں سے ثابت ہوجائے تو بلاشبہ وہ کسی رو رعایت کا مستحق نہیں ہے۔ اگرچہ شریعت مطہرہ نے ایسے ننگِ انسانیت اور بدترین جرائم کی روک تھام کے لئے مجرموں کو کڑی اور شدید سزائیں دینے‘ سنگسار کرنے اور غیر شادی شدہ ہونے کی صورت میں سو‘ سو دُرّے مارنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ :ایسے جرائم کے مرتکبین پر مسلمانوں کو ترس نہیں کھانا چاہئے‘ جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے:
”الزانیة والزانی فاجلدوا کل واحد منہما مائة جلدة ولاتأخذکم بہما رأفة فی دین اللہ۔“ (النور: ۲)
ترجمہ: ”بدکاری کرنے والی عورت اور مرد‘ سو مارو ہر ایک کو دونوں میں سے سو‘ سو دُرّے اور نہ آوے تم کو ان پر ترس اللہ کا حکم چلانے میں۔ “
اس کے ساتھ ہی یہ بھی فرمایا گیا کہ مسلمانوں کو عبرت حاصل کرنے کے لئے ان سزاؤں کے نفاذ کے وقت وہاں موجود اور حاضر بھی رہنا چاہئے‘ چنانچہ فرمایا گیا:
”ولیشہد عذابہما طائفة من المومنین۔“ (النور:۲)
ترجمہ:”اور دیکھیں ان کا مارنا کچھ لوگ مسلمان۔“
مگر بایں ہمہ نبی رحمت اکی تعلیم ہے کہ :
”ادروٴا الحدود عن المسلمین مااستطعتم“ (مشکوٰة، ص:۳۱۱، بحوالہ ترمذی)
ترجمہ: ”جتنا ہوسکے مسلمانوں سے حدود کو ساقط کرنے کی کوشش کرو۔“
یہی وجہ ہے کہ زنا کے ثبوت کو چار عینی گواہوں یا اقرار کے کڑے معیار کے ساتھ مشروط کیا گیا‘ اس کے علاوہ یہ بھی فرمایا گیا کہ اگر کوئی شخص اپنی مِلک یا نکاح کے شبہ کی غلط فہمی کی بنا پر اس جرم کا مرتکب ہوا ہو تو اس پر بھی حدِّ زنا لاگو نہیں ہوگی۔ ان تفصیلات و تصریحات سے واضح ہوا ہوگا کہ زنا کی سزا میں سختی اس لئے روا رکھی گئی ہے کہ یہ بھیانک جرم فساد فی الارض کا سبب اور ذریعہ بنتا ہے۔
……………………………
حدود و قصاص کا قانون آج کا نہیں‘ اور نہ ہی یہ نیا اور جدید ہے‘ بلکہ آج سے چودہ سو سال پیشتر آنحضرتf کی حیاتِ طیبہ میں یہ مرتَّب و مدوَّن ہوکر نافذ ہوگیا تھا‘ اور عہدِ اسلام‘ بلکہ جب تک کرئہ ارض پر مسلمانوں کا اقتدار رہا‘ یہ قانون نافذ العمل رہا۔
لیکن شومیٴ قسمت! جب متحدہ ہندوستان پر بدیسی حکمران مسلط ہوگئے‘ اور ہندوستان کو برطانیہ کی نوآبادیات کا درجہ دے دیا گیا‘ تو جہاں دوسرے اسلامی احکام و قوانین کو معطل کردیا گیا‘ وہاں حدود و قصاص ایسے عدل و انصاف اور اعتدال پر مبنی اصول و قوانین کو بھی حرفِ غلط کی طرح مٹادیا گیا۔ ہندوستان سے انگریزوں کے بستر بوریا لپیٹ کر چلے جانے کے بعد‘ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ انگریزی باقیات کا بھی صفایا کردیا جاتا‘ مگر افسوس! کہ ان کے اخلاف و جانشینوں نے ان کی ”اصلاحات“ اور ان کی جاری کردہ تعزیراتِ ہند کو ”مقدس دستاویز“ سمجھ کر جوں کا توں باقی رکھا‘ اور اس پر ٹھیک اسی طرح عمل ہوتا رہا‘ جس طرح انگریزی اقتدار میں ہوتا تھا۔ قیامِ پاکستان کے بعد ایک عرصہ تک تو یہ ملک آئین و دستور کی چھتری سے محروم رہا۔
خدا خدا کرکے جب اسے دستور و آئین کے اعزاز سے نوازا گیا تو اس میں بھی بیشتر حصہ تعزیراتِ ہند کا شامل تھا۔ ۱۹۷۳ء کا آئین اگرچہ سابقہ دستوروں سے کسی قدر جامع اور مفید تھا‘ مگر اس میں بھی حدود و قصاص کے قوانین کا اس قدر وضاحت و صراحت سے تذکرہ نہیں تھا۔
جناب جنرل محمد ضیاء الحق صاحب جب اس ملک کی قسمت کے مالک ہوئے اور ان کو اس ملک کی اسلامائزیشن کا خیال ہوا‘ تو انہوں نے اپنے تئیں اس ملک میں بہت سے اسلامی قوانین کو آرڈی نینس کی شکل میں نافذ کرنے کی کوشش کی‘ انہیں میں سے ایک ”حدود آرڈی نینس“ بھی تھا‘ جس کے ایک حصہ کو ”زنا حدود آرڈی نینس“ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔
چنانچہ ۷/ فروری ۱۹۷۹ء کو جاری اور نافذ ہونے والے اس حدود آرڈی نینس کو بعد میں دستور پاکستان کے حصہ ہفتم میں نئے باب ۳/الف کے اضافے کے طور پر شامل کردیا گیا۔ اب آیئے! اس کا مطالعہ کرتے ہیں کہ اس آرڈی نینس کے مندرجات اسلامی ہیں یا غیر اسلامی؟ اس میں خواتین کی عزت و عصمت کا تحفظ ہے یا ان کے ساتھ ظلم و زیادتی کو روا رکھا گیا ہے؟
اس کے لئے مناسب‘ بلکہ ضروری معلوم ہوا کہ زنا حدود آرڈی نینس مجریہ ۱۹۷۹ء کا مکمل متن بھی نقل کردیا جائے‘ چنانچہ اسی شمارہ میں اُسے بھی الگ نقل کیا جارہا ہے۔ زنا حدود آرڈی نینس کا طویل متن نقل کرنے سے مقصود یہ ہے کہ ایسے قارئین جو اس آرڈی نینس کے مندرجات سے ناواقف ہیں‘ یا ان کو ظالمانہ اور خواتین کے خلاف سمجھتے ہیں‘ ان کے سامنے پوری تفصیلات آجائیں اور قارئین کو اس کا اندازہ ہوجائے کہ اس میں کون کون سی دفعات ایسی ہیں جو عورتوں کے خلاف جاتی ہیں؟ تاکہ خواتین پر ظلم کا شور مچانے والی این جی اوز اور لادین طبقہ کے پراپیگنڈا کی قلعی کھل جائے‘ اسی طرح وہ نشریاتی ادارے اور نام نہاد دانشور‘ جو اس آرڈی نینس کو یکسر ختم کرنے کے ”مقدس جہاد“ میں کوشاں ہیں‘ ان کے ”جہاد“ کی حقیقت بھی کھل کر سامنے آجائے۔
اگر این جی اوز‘ نام نہاد مفکرین اور زنا حدود آرڈی نینس کے مخالفین تعصب کی عینک اتار کر اس کے متن کو پڑھیں تو انہیں اندازہ ہوگا کہ اس میں مردوں سے زیادہ خواتین کی عزت و عصمت کا تحفظ کیا گیا ہے۔ ہاں! وہ لادین طبقہ اور این جی اوز جو ڈالروں کی چمک اور خواہشاتِ نفسانی سے مجبور ہیں‘ یا وہ لوگ جو مادر پدر آزادی اور جانوروں کی طرح سرِبازار مرد و زن کے ملاپ کی خواہش رکھتے ہیں‘ بلاشبہ یہ آرڈی نینس ان کی نظر میں سراسر ظالمانہ ہے اور اسے ختم ہونا چاہئے۔ دیکھا جائے تو حدود آرڈی نینس پر اعتراض کرنے والوں کی اکثریت‘ دین و دیانت اور علم و عمل کے اعتبار سے تہی دست ہے‘ جبکہ اس آرڈی نینس کی تیاری میں مرحوم جنرل ضیاء الحق صاحب نے ایسے دس افراد پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی تھی‘ جن میں سے ہر ایک اپنے اپنے فن اور پیشے کے اعتبار سے ماہر اور فاضل تھا‘ چنانچہ اس کمیٹی کے ممبران میں چوٹی کے علماء‘ ماہرین ِ قانون اور ریٹائرڈ جج صاحبان بھی شامل تھے۔ یوں علمأ کرام میں سے شریعت کورٹ کے ریٹائرڈ جسٹس مولانا محمد تقی عثمانی‘ جسٹس پیر کرم شاہ ازہری‘ مولانا ظفر احمد انصاری‘ ڈاکٹر محمود احمد غازی‘ ماہرینِ قانون میں سے اے کے بروہی‘ خالد اسحاق‘ شریف الدین پیرزادہ اور ریٹائرڈ ججوں میں سے اے کے صمدانی‘ محمد افضل چیمہ اور صلاح الدین جیسے لوگ تھے۔
اگر بالفرض حدود آرڈی نینس کے خلاف اس درجہ کے لوگوں کو کوئی اشکال ہوتا تو شاید ان کی بات میں کوئی وزن بھی ہوتا‘ لیکن افسوس کہ حدود آرڈی نینس کے خلاف غوغا آرائی میں وہی لوگ پیش پیش ہیں‘ جن کا کسی اعتبار سے کوئی وزن نہیں اور نہ ہی دینی اور عملی اعتبار سے ان کا کوئی مرتبہ و مقام ہے۔ کسی قدر غور و فکر سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایک خاص مقصد اور مخصوص نقطہ نظر کے تحت حدود آرڈی نینس کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور اس کے خلاف فضا بنائی جارہی ہے‘ تاکہ سادہ لوح عوام کو اس سے بدظن کردیا جائے اور اگر کل کلاں اس کو کلی یا جزئی طور پر منسوخ یا ختم کیا جائے تو مسلم عوام کی طرف سے اس پر کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑے،اس لئے اس آرڈی نینس کے نفاذ کے پورے ستائیس سال بعد امریکا بہادر اور اس کے حواریوں کے ایماء پر اس میں کیڑے نکالنے کی مہم پروان چڑھ رہی ہے۔
اگرچہ ملک بھر کے علماء‘ دین دار طبقہ اور باشعور عوام نے اپنے تئیں اس کے دفاع میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتی‘ چنانچہ اس کے حق میں اخباری بیانات‘ مذاکرے‘ مضامین اور مکالمات کا سلسلہ تاحال جاری ہے‘ لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکا بہادر کے تعاون سے حدود آرڈی نینس کے خلاف جاری پُرزور مہم اور اس پر اعتراضات و اشکالات کی بوچھاڑ و یلغار کے مقابلہ میں علمأ کی دفاعی کوششوں کی حیثیت آفتاب کے مقابلہ میں ذرہ سے کچھ زیادہ نہیں ہے‘ تاہم ہمیں امید ہے کہ انشاء اللہ فتح حق کی ہوگی اور باطل کا منہ کالا ہوگا۔
……………………………
دیکھا جائے تو اس وقت پاکستان مسائل کی پٹاری ہے اور وہ اپنے قیام کے ۶۰ سالہ طویل عرصہ کے بعد بھی تا ہنوز نومولود ہے۔ اس کے ساتھ یا اس کے بعد آزاد ہونے والے ممالک ترقی کی رفتار میں اس سے کہیں آگے نکل گئے ہیں‘ ان ممالک کی معیشت و اقتصاد کا معاملہ ہو یا عدل و انصاف کے حصول کا مسئلہ! وہ ہر میدان میں کسی ترقی یافتہ ملک سے پیچھے نہیں‘ مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج تک پاکستان اپنے قیام کے مقصد کو نہیں پاسکا‘ بلکہ اس کے سیاہ و سفید کے مالک ابھی تک یہی فیصلہ نہیں کرسکے کہ یہ ملک کیوں بنایا گیا تھا؟ اس کے قیام کے مقاصد کیا تھے؟ اور ہمارے بزرگوں نے آگ و خون کے سمندر کیوں عبور کئے تھے؟ اس ملک کا قانون و دستور کیا ہونا چاہئے؟ یہاں حکومت و اقتدار کن لوگوں کا حق ہے؟ یہاں کا قانون اسلامی و شورائی ہوگا یا مغربی و جمہوری؟ یہ ملک اسلامی اقدار کا محافظ ہوگا یا مغربی اطوار کا؟ یہاں کا طرزِ زندگی اسلامی مساوات پر مبنی ہوگا یا طبقاتی اتار چڑھاؤ پر؟ اس ملک کی قیادت کے اہل کن اوصاف کے حامل ہوں گے؟ کون کون لوگ اس کی قیادت و حکومت کے لئے نااہل ہوں گے؟ یہاں عوام‘ عدلیہ‘ انتظامیہ اور فوج کا کیا کردار ہوگا؟ اور ان کی کیا کیا ذمہ داریاں ہوں گی؟ اور جو اپنے فرائض منصبی میں کوتاہی کے مرتکب پائے جائیں گے‘ انہیں کن عواقب و نتائج کا سامنا کرنا ہوگا؟
اخبارات‘ میڈیا‘ جرائد اور رسائل اٹھاکر دیکھئے تو نظر آئے گا کہ ملک میں ہر طرف محرومیوں کا راج اور طبقاتی کشمکش کا دور دورہ ہے‘ چنانچہ اس ملک کا ایک طبقہ شاہی ٹھاٹ باٹ سے زندگی گزار رہا ہے‘ تو دوسرا نان شبینہ کا محتاج ہے‘ اسی طرح ایک طرف اگر ملک کا اشرافیہ ملکی خزانہ سے اپنے کچن سے لے کر اسمبلی تک کی تمام ضروریات و آسائشوں کے حصول کو اپنا حق سمجھتا ہے‘ تو دوسری جانب وہی طبقہ مجبور و مقہور عوام کو سر چھپانے کے لئے مکان‘ پیٹ بھرنے کے لئے روٹی اورپینے کے لئے صاف پانی کی بنیادی ضروریات اور مفت علاج و معالجہ کی سہولت فراہم کرنے کا بھی روادار نہیں ہے۔
ایک طرف اگر طبقہ اشرافیہ کے لئے فلک بوس شاہی محلات ناکافی ہیں تو دوسری طرف غریب کے سرچھپانے کی جھونپڑی بھی ناقابلِ برداشت ہے‘ یہی اشرافیہ اور طاقت ور طبقہ اگر کسی قانون شکنی کا مرتکب ہو تو قانون آنکھیں بند کرلیتا ہے‘ لیکن اس کے برعکس مظلوموں اور مقہوروں کے خلاف ملکی قوانین‘ عدلیہ اور انتظامیہ یک دم حرکت میں آجاتی ہیں‘ بتلایا جائے کہ ہوش و حواس اور عقل و خرد رکھنے والی عوام اس منافقت اور دوغلے پن پر خاموش رہے گی؟ کیا عوام انسان نہیں؟ یا ان کے کوئی انسانی حقوق نہیں؟ کیا انہیں اپنے حقوق کے مطالبہ کا حق نہیں؟ یا انہیں اپنے خلاف کئے جانے والے ان ناروا اقدامات پر احتجاج کا حق نہیں ہے؟
چاہئے تو یہ تھا کہ ہمارے اربابِ اقتدار ملکی اساس اور قیامِ پاکستان کے مقاصد پر توجہ دیتے اور موجودہ صورت حال کے ذمہ دار‘ نافذ غیر اخلاقی‘ غیر انسانی اور خالص مغربی قوانین و تعزیرات کو تبدیل کرتے اور اس کی جگہ اسلامی قوانین کو نافذ کرکے مسلمانوں کو اس کی برکات سے مستفید ہونے کا موقع فراہم کرتے‘ مگر اے کاش! ایسا نہ ہوسکا‘ شاید اس لئے کہ ایسا کرنے سے طبقہ اشرافیہ کے مفادات متاثر ہوتے‘ ان کی بے جا خواہشات کے منہ زور گھوڑے کا راستہ رکتا تھا‘ اس لئے انہوں نے انگریز کے نافذ کردہ قوانین و تعزیرات کو جوں کا توں قبول کیا‘ اور اسے مقدس دستاویز کا درجہ دے کر اس کو ہاتھ تک نہیں لگایا‘ اس کے برعکس اگر غلطی سے کسی حکمران نے‘ چاہے ناکافی ہی سہی‘ کسی قسم کی اسلامی دفعات نافذ کردیں‘ تو ان کو تنقید و ملامت کا ہدف بنایا گیا‘ صرف یہی نہیں بلکہ گزشتہ چودہ سو سال سے نافذ اسلامی قوانین کو ظالمانہ‘ غیر متوازن اور موجودہ دور سے میل نہ کھانے والے کہہ کر ان کو صفحہٴ ہستی سے مٹانے کی ناپاک کوشش کی گئی۔ حدود آرڈی نینس کے خلاف غوغا آرائی کا جائزہ لیا جائے تو اس کے پس منظر میں بھی وہی اشرافیہ اور اس کے مفادات ہیں‘ جن پر ٹھیس انہیں برداشت نہیں‘ کیونکہ حدود آرڈی نینس کے ہوتے ہوئے نائٹ کلب‘ قحبہ گری‘ چکلا بازی اور شراب و کباب کی محفلیں سر عام گرم نہیں ہوسکتیں‘ اور عیاشی و بدمعاشی کو بھی فروغ نہیں مل سکے گا۔
اس لئے ہم حدود آرڈی نینس کے خلاف محاذ کھولنے والے اخبارات‘ نشریاتی اداروں‘ اربابِ اقتدار‘ این جی اوز اور ان کے سرپرستوں سے پوچھنا چاہیں گے کہ کیا نان شبینہ کی محتاج قوم‘ سرچھپانے کو جھونپڑی سے محروم اور ظلم و ستم کی چکی میں پستی مظلوم عوام کے سارے مسائل حل ہوچکے ہیں؟ کیا ان کو پانی‘ بجلی‘ گیس اور علاج معالجہ کی ساری سہولتیں مہیا ہوچکی ہیں؟ اور ان کی تعلیم و ترقی کے سارے مراحل طے پاچکے ہیں کہ اب حدود آرڈی نینس جیسے عدل و انصاف پر مبنی قانون کے خلاف کروڑوں کا سرمایہ خرچ کیا جارہا ہے؟ اگر نہیں‘ تو انہیں ہوش کے ناخن لیتے ہوئے ان اہم مسائل کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔ جہاں تک دین و شریعت اور اسلامی اصول و قوانین کی بات ہے‘ یہ ان کا نہیں‘ علمأ کا میدان ہے‘ ان کو یہ کام سپرد کریں اور خود اپنی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دیں۔
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ محمد وآلہ واصحابہ اجمعین