داری کاتعلق بھی ہو،اس پڑوسی کے ساتھ دوہراتعلق ہونے کی وجہ سے اس کامقام ورتبہ اوراس کاحق بھی زیادہ ہے ٗلہٰذااس کے ساتھ حسنِ سلوک کی اہمیت بھی زیادہ ہے۔
دوسرادرجہ ہے: وَالجَارِ الجُنُب یعنی محض برابرمیں رہنے والا ٗیاہمسایہ ٗ یعنی وہ شخص جوصرف پڑوسی ہے اوراس کے ساتھ رشتہ داری کاکوئی تعلق نہیں ہے،اس کے ساتھ بھی حسنِ سلوک ضروری ہے،اگرچہ وہ غیرمسلم ہو۔
تیسرادرجہ ہے: وَالصَّاحِبِ بِالجَنبِ یعنی وہ شخص جومختصر مدت کیلئے اورمحض تھوڑی سی دیرکیلئے قرب وجوارمیں موجودہو،مثلاًہم جماعت افراد ٗہم پیشہ لوگ ٗدفترکے ساتھی ٗیاکسی مسافرخانے میں ٗہوائی جہازمیں ٗریل میں یابس میں آس پاس موجودلوگ ٗیاکسی جگہ قطارمیں لگے ہوئے کچھ لوگ جوساتھ ساتھ کھڑے ہوں،اگرچہ باہم ایک دوسرے کیلئے وہ سب اجنبی ہوں ٗنہ کسی کانام معلوم ہو،نہ یہ علم ہوکہ ان میں سے کس کاکیامذہب ہے؟کس ملک یاکس علاقے سے تعلق ہے…؟مگرمذکورہ بالاآیت کی روسے وہ سب بھی باہم ایک دوسرے کیلئے ’’پڑوسی‘‘ہیں اوران کیلئے آپس میں حسنِ سلوک اورعزت واحترام کارویہ رکھنا نیزباہم بدسلوکی وایذاء رسانی سے بازرہناضروری ہے۔
رسول اللہ ﷺکاارشادہے: (مَن کَانَ یُؤمِنُ بِاللّہِ وَالیَومِ الآخِرِ فَلَایُؤذِ جَارَہٗ (۱) ترجمہ:(جوکوئی اللہ پراورقیامت کے دن پرایمان رکھتاہو وہ پڑوسی کوتکلیف نہ پہنچائے)
نیزارشادہے: (وَاللّہِ لَایُؤمِن ، وَاللّہِ لَایُؤمِن ، وَاللّہِ لَایُؤمِن ، قِیلَ : مَن یا رَسُولَ اللّہ؟ قَالَ : اَلَّذِي لَا یَأمَنُ جَارُہٗ بَوَائِقَہٗ) (۲) ترجمہ:(اللہ کی قسم وہ
------------------------------
(۱) بخاری [۶۰۱۸]کتاب الادب۔نیز:مسلم[۷۴]کتاب الایمان۔ (۲)مسلم[۴۶]