شخص مؤمن نہیں،اللہ کی قسم وہ شخص مؤمن نہیں،اللہ کی قسم وہ شخص مؤمن نہیں،عرض کیاگیا: یارسول اللہ !وہ کون شخص ہے؟ آپؐنے ارشادفرمایا:’’وہ شخص جس کے پڑوسی اس کی شرارتوں اورایذاء رسانیوں سے محفوظ نہوں‘‘)۔
اسی طرح ایک باررسول اللہ ﷺکے سامنے کسی عورت کے بارے میں یہ تذکرہ ہواکہ وہ بہت زیادہ نفل نمازروزہ اورصدقہ وخیرات وغیرہ کااہتمام والتزام کرتی ہے ،مگریہ کہ اس کے پڑوسی اس کی تلخ کلامی اور زبان درازی کی وجہ سے بہت بیزاررہتے ہیں۔آپ ﷺ نے یہ سُن کرفرمایا: ھِيَ فِي النَّار یعنی :’’اس کاٹھکانہ جہنم میں ہے‘‘۔
اس کے بعدکسی عورت کے بارے میں یہ تذکرہ ہواکہ وہ نفل عبادات کاکوئی خاص اہتمام نہیں کرتی مگریہ کہ اس کے پڑوسی اس کے حسنِ سلوک کی وجہ سے آسودہ ومطمئن ہیں، آپؐنے فرمایا: ھِيَ فِي الجَنّۃ یعنی:’’ یہ عورت جنت میں جائے گی‘‘۔(۱)
اسی طرح ارشادہے:(مَا آمَنَ بِي مَن بَاتَ شَبعَانَ وَجَارُہٗ جَائِعٌ اِلیٰ جَنبِہٖٖ وَھُوَ یَعلَم) (۲) ترجمہ:(اس شخص نے مجھ پرایمان قبول نہیں کیاجورات کوپیٹ بھرکرسوجائے ٗحالانکہ اس کاپڑوسی بھوکاہو ٗاوراسے اس بات کاعلم بھی ہو)۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّاْ اِنَّکَ اَنْتَ الْسَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ، وَتُبْ عَلَیْنَاْ اِنَّکَ اَنْتَ الْتَّوَاْبُ الْرَّحِیْمُ ،
سُبْحَانَ رَبِّکَ رَبِّ العِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ ،
وَسَلَامٌ عَلَیٰ الْمُرْسَلِیْنَ ، وَالْحَمْدُلِلّہِ رَبِّ الْعَالمِیْنَ ۔
------------------------------
(۱)احمد[۹۶۷۳]
(۲)مجمع الزوائدجلد:۱ صفحہ:۱۶۷ بحوالہ: الطبرانی والبزار۔نیز: بخاری فی الأدب المفرد[۱۱۲]بعض روایات میں’’ما آمن بی‘‘کی بجائے ’’لیس منا‘‘اور’’الیٰ جنبہٖ‘‘کی بجائے’’الیٰ جانبہٖ‘‘کے الفاظ واردہوئے ہیں۔