علمِ تجوید :
٭ علمِ تجوید کی تعریف :
تجوید کے لفظی معنیٰ :
عربی میں ’’ جَودہ ‘‘کے معنیٰ ہیں کسی چیزکاعمدہ ہونا،اچھاہونا،اسی لئے کسی اچھی چیزکوجیّد کہاجاتاہے، اسی سے تجویدمأخوذہے اوراس کے معنیٰ ہیں:’’تحسین‘‘ یعنی:کسی چیزکوعمدہ یااچھابنانا۔
تجوید کے اصطلاحی معنیٰ :
ھوالعلم الذي یُعرف بہٖ کیفیّۃ نطق کلّ حرفٍ واخراجہٖ من مخرجہٖ الصحیح أثناء تلاوۃ القرآن الکریم ۔
یعنی :تجویدسے مرادوہ علم ہے جس کے ذریعے تلاوتِ قرآن کریم کے دوران ہرہرحرف کے درست تلفظ اورصحیح مخرج سے اس کی ادائیگی کاطریقہ سیکھاجاتاہے۔
٭ علمِ تجوید کی غرض و غایت :
صَون اللّسان عن الخطأ في ترتیل آیات کتاب اللّہ تعالی ۔
یعنی قرآن کریم کی تلاوت کے دوران زبان کوغلطیوں سے محفوظ رکھنا، تاکہ کتاب اللہ کے ہرحرف کاتلفظ اسی طرح ہوجس طرح اسے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے (بذریعۂ وحی ) رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک کی طرف نازل کیاگیا۔