(۴) اخفاء :
نون ساکن اورتنوین کے احکام میں سے چوتھااورآخری حکم اخفاء ہے۔
٭اخفاء کی تعریف :
عربی میںــ’’اخفاء‘‘ کے معنیٰ ’’ستر‘‘ کے ہیں، یعنی چھپانا، جیسے اردومیں بھی کسی چھپی ہوئی چیزکومخفی یاخفیہ کہاجاتاہے۔
یہاں علمِ تجوید کی اصطلاح میں ’’اخفاء‘‘ سے مرادیہ ہے کہ کسی حرف کواس طرح پڑھاجائے کہ اظہاراورادغام کے درمیان کی کیفیت ہو، نون کی آوازکو’’غنّہ‘‘ کے ذریعے قدرے چھپایاجائے۔
٭اخفاء کے مواقع :
نون ساکن یاتنوین کے بعدحروفِ اخفاء میں سے جب کوئی حرف واقع ہوتونون ساکن یاتنوین کواخفاء کے ساتھ پڑھاجائیگا،جس کی کیفیت اوپربیان کی گئی ہے۔
٭حروفِ اخفاء :
حروفِ تہجی کی کُل تعداد۲۸ ہے، ان میں سے اظہارکے چھ حروف(ہمزہ۔ھ۔ح ۔ خ۔ ع۔ غ)اورادغام کے چھ حروف (یرملون، یعنی: ی۔ر۔م۔ل۔و۔ن) اوراقلاب کاایک حرف(ب) علیحدہ کردیاجائے ، جن کی تعداد۱۳بنتی ہے،لہٰذا۲۸میں سے ان۱۳حروف کو نکال دینے کے بعد باقی پندرہ حروف بچ گئے ، اب یہی باقی ماندہ پندرہ حروف ’’حروفِ اخفاء‘‘ ہیں، جن کی تفصیل یہ ہے : ص۔ ذ۔ ث ۔ ک ۔ج ۔ش ۔ ق ۔ س ۔ د ۔ ط ۔ ز ۔ ف ۔ ت ۔ ض ۔ ظ ۔ طلبہ کی سہولت کیلئے ان حروف کومندرجہ ٔ ذیل کلمات کے