اس عرصہ میں بہ نسبت پہلے کے اور زیادہ قریب ہوچکے تھے کہ اچانک مولانا نے حج کےارادے کا اعلان کیا، مولانا نے بھی اعلان کیا اور ان کے بچپن کے رفیق مولانا عبدالماجد صاحب مدیر صدؔق کی طرف سے بھی اسی اعلان کے اعادے کی خبریں مجھ تک پہونچنے لگیں تھیں اور گو مولانا عبدالماجد صاحب کے ساتھ رہنے سہنے کا موقع زندگی میں کبھی نہیں ملا، لیکن جن دنوں بیمار ہوا تھا، اس سے کچھ پہلے مولانا سے نیازمندی کا رشتہ قائم ہوچکا تھا، پٹنہ اسپتال میں جب تقریباً بے ہوش پڑا ہوا تھا، اور پہلا آپریشن ہوا تھا، آپریشن کے بعد کچھ فت محسوس ہوئی آنکھیں کھل گئیں، تو یہ بھی ایک تاریخ واقعہ ہے کہ اپنے سرہانے دیکھتا ہوں کہ دعا میں اٹھائے ہوئے ہاتھوں کے ساتھ کوئی کھڑا ہو اہے، اتنا ہوش واپس آچکا تھا، پہچان کر آنکھوں میں آنسو بھر گئے کہ ہمارے کرم فرما مولانا عبدالماجد صاحب مدیر صدؔق ہیں۔ ع
باہم نگر یستم گزشتیم
گویا حیات بعد الموت کے بعد پہلی نظر ان ہی پر پڑی یہی مقدر ہوچکا تھا، میری علالت کی تشویش ناک خبروں سے بے چین ہوکر مولانا پٹنہ سے میری عیادت کے لئے تشریف لے آئے تھے۔