صد ام کے بعد اگلا ہدف

صد ام کے بعد اگلا ہدف!

الحمدللہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفٰی:
گزشتہ دو عشروں… ۱۹۷۹ء تا ۲۰۰۳ء… کے طویل دورانیہ تک عراق کے منصب صدارت پر فائز رہنے والے مرد آہن صدام حسین کو عیدالاضحی کے روز عین اس وقت پھانسی دے دی گئی‘ جب بغداد کی مساجد سے فجر کی اذانیں گونج رہی تھیں ا ور لوگ عید کی تیاری میں مصروف تھے۔ عراقی صدر کے بارہ میں دنیا بھر کے انسانوں کی موافقت و مخالفت پر مبنی ملی‘ جلی آرا ہیں‘ اگر کچھ لوگ امریکا مخالفت میں جرأت و ہمت کی وجہ سے اُسے وقت کا صلاح الدین ایوبی کہتے تھے، تو کچھ اسے سفاک و ظالم بھی گردانتے ہیں‘ صدام حسین کچھ بھی تھا‘ بہرحال وہ مسلمان تھا‘ اور اب اس دنیا میں نہیں رہا‘بلکہ اس کا معاملہ اب احکم الحاکمین کی عدالت میں پیش ہوچکا ہے‘ اور وہ اپنے اچھے یا بُرے اعمال و افعال کی جزا و سزا سے دوچار ہوچکا ہوگا۔ ………………………………
بچپن سے پدری شفقت سے محروم و یتیم اور بارہ سال کی عمر میں گھر چھوڑنے والے صدام حسین نے نہایت کم عمری میں حکومت مخالف راہ اپناکر کوچہ سیاست میں کودنے کا فیصلہ کیا‘ یوں وہ اپنی اسی سیاسی سوچ و فکر کے پیش نظر برطانوی نو آبادیاتی حکومت‘ سرمایہ داری اور جاگیر داری کی مخالفت میں پیش پیش رہا‘ تو بہت جلد اسے بعث پارٹی کا کارکن نامزد کردیا گیا۔ چنانچہ ۱۹۶۸ء میں جب بعث پارٹی برسر اقتدار آئی تو اُسے عراق کا نائب صدر منتخب کردیا گیا‘ اور اس کے ٹھیک گیارہ سال بعد ۱۹۷۹ء میں عراقی صدر احمد حسن سے زبردستی استعفیٰ لے کر وہ خودکرسی ٴ صدارت پر متمکن ہوگیا۔ صدام حسین چونکہ شروع سے سخت گیر اور مہم جو تھا‘ اس لئے اس نے اپنے مخالفین کی ہر سازش ناکام بنانے اور اُن کو نیچادکھانے کے لئے اپنے خلاف اٹھنے والی ہر بغاوت کچلنے میں بھی کسی قسم کی کوئی رو رعایت نہیں برتی۔ چونکہ وہ بچپن سے ہی سیاست کی خارزار وادی میں قدم رکھ کر اپنی مدد آپ کے تحت برسر اقتدار آیا تھا‘ اس لئے وہ فطری طور پر بے خوف‘ بہادر اور جری ہونے کے سا تھ ساتھ یہودیت و اسرائیل کا بھی شدید مخالف تھا‘ اس کی یہی سوچ و فکر یہودی سرپرستوں کے لئے سوہانِ روح تھی۔ دیکھا جائے تو اسرائیل کے ہاتھوں عراقی ایٹمی ری ایکڑ کی تباہی بھی اسی سلسلہ کی کڑی تھی‘ ابتدائی طور پر اگرچہ صدام حسین کو قابو کرنے کے لئے اس کے سر پر دستِ ”شفقت“ رکھنے کی بھی کوشش کی گئی ‘مگربے سود۔بہر حال جب صدامی فکر و سوچ کا منہ زور گھوڑا کسی طرح قابو نہ آیا تو اسے ایران کے ساتھ جنگ میں الجھادیا گیا۔ چنانچہ اگر ۱۹۸۰ء میں برپا ہونے والی ایران‘ عراق جنگ کے اسباب و محرکات کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس کے علاوہ اس کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی۔ اس آٹھ سالہ طویل جنگ میں امریکی مفادات بہرحال عراق کی جنگی پالیسی سے وابستہ تھے‘ چنانچہ ہارجیت کے فیصلہ کے بغیر ختم ہونے والی اس طویل جنگ کا صرف اور صرف مقصد یہ تھا کہ مسلمان کہلانے والے دو طاقتور ممالک کی عسکری قوت کو پاش پاش کردیاجائے‘ بہر حال استعمار کسی حد تک اپنے مقاصد میں کامیاب ہوگیا‘ لیکن بایں ہمہ پورے طور پر عراق اور صدام کے خوف کا ہوا استعمار کے دلوں سے نہ نکل سکا تو نہایت ہوشیاری اور عیاری سے اسے کویت پر چڑھ دوڑنے کی ترغیب دی گئی‘ یوں کویت پر عراقی حملہ سے امریکا اور استعمار کو دُہرا فائدہ ہوا‘ ایک طرف اگر عراق پوری اسلامی دنیا میں یکا و تنہا ہوگیا تو دوسری طرف امریکا عراق کا ہوَّا کھڑا کرکے سعودی عرب اور کویت میں اپنی فوجیں اتار کر ان کی اقتصادیات پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا‘ بلاشبہ صدام حسین کا یہ اقدام غلط تھا اور اس کی اس غلطی کی پاداش میں عراق پر اقتصادی پابندیاں لگاکر اُسے شدید اقتصادی اور معاشی بدحالی سے دو چار کردیا گیا۔ یہ کس قدر حیرت انگیز بات ہے کہ ابتداً جن اقدامات پر اس کی پیٹھ ٹھونکی گئی تھی‘ آخر ش وہی اقدامات ہی اس کی ہلاکت و موت کا سبب بنے‘ ورنہ عراق میں کیمیائی ہتھیار کا ہوَّا تو محض برائے نام ہی تھا‘ چنانچہ عراق پر حملہ کے بعد خود امریکی تھینک ٹینک نے اس کا برملا اعتراف کیا کہ عراق میں کسی قسم کے کوئی کیمیائی ہتھیار نہیں ملے۔ عراق پر امریکی حملہ کو دہشت گردی کے خاتمہ کا نام دے کر جس طرح مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی‘ اس سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں‘ چنانچہ اخباری رپورٹوں کے مطابق ان چار سالوں میں عراق کے اندر چھ لاکھ پچپن ہزار انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اگرچہ امریکا اور ان کے اتحادیوں کا یہ اقدام بجائے خود بدترین دہشت گردی تھا‘ لیکن افسوس کہ اس وقت دہشت گرد کو دہشت گرد کہنے کی جرأت و ہمت ہی کسی میں نہیں رہی۔ آج سے چار سال قبل ہم نے بینات صفر ۱۴۲۴ھ کے اداریہ میں لکھا تھا کہ :” امریکی ہدف صدام نہیں‘ اسلام ہے۔“ دیکھا جائے تو آج وہ سب اندیشے حقیقت بن کر سامنے آگئے ہیں‘ اس لئے کہ اگر صدام حسین کو گرانا مقصود ہوتا تو صدام کی گرفتاری کے بعد عراق کے ساڑھے چھ لاکھ مسلمانوں کو خاک و خون میں نہ تڑپایا جاتا۔ اور اتنا طویل عرصہ تک عراقی مسلمانوں پر عرصئہ حیات نہ تنگ کیا جاتا! عراقی صدر کی پھانسی کے لئے دجیل میں قتل ہونے والے ۱۴۸ شیعہ افراد کی موت کو وجہٴ جواز بنایا گیا ہے اور انسانی حقوق کی اس نام نہاد خلاف ورزی کے جرم کی پاداش میں صدام حسین کو تختہ دار پر لٹکایا گیا۔ حالانکہ اخباری اطلاعات کے مطابق ان افراد پر بغاوت کا مقدمہ تھا اور عراقی عدالت نے ہی ان کے قتل کا حکم صادر کیا تھا۔ (ملاحظہ ہو سنڈے میگزین، ص:۴‘ روزنامہ ”جنگ“ کراچی، ۱۴/ جنوری ۲۰۰۷ء) تاہم اگر ایسا بھی ہو تو سوال یہ ہے کہ کیا بغاوت کے مجرموں کا قتل کرنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے؟ اگر یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے تو ساڑھے چھ لاکھ بے قصورانسانوں کا قتل عام کیونکرانسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں؟ صدام حسین کو ہم فرشتہ نہیں سمجھتے اور نہ ہی اسے معصوم و بے قصور جانتے ہیں‘ بلکہ وہ بھی ہماری طرح کا ایک خطاکار انسان تھا اور اس سے بھی کوتاہیاں صادر ہوئی ہوں گی اور یقیناً اس سے بھی ناحق قتل ہوئے ہوں گے ‘لیکن سوال یہ ہے کہ امریکا اور اس کے حواریوں کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ :”دودھ کا رکھوالا بِلّا“ کا کردار ادا کرے؟ صدام حسین کی پھانسی کی سزا‘ امریکی کردار اور صدام حسین کی جرأت پر ایک خاتون نے مبنی برحقیقت نہایت دلچسپ تبصرہ کیا ہے‘ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اسے ذیل میں نقل کردیا جائے‘ چنانچہ محترمہ سدرہ اظہر ڈار صاحبہ کراچی سے لکھتی ہیں:
”عراق کے سابق صدر صدام حسین کو پھانسی دینے کا مقصد صرف اور صرف عالم اسلام کو خبردار کرنا تھا کہ بڑی طاقتیں حکم نہ ماننے پر یہ عمل بھی کرسکتی ہیں‘ مگر جس جرم کی اسے سزا دی گئی وہ جرم اس جرم کے مقابلے میں بہت کم ہے جو امریکا نے افغانستان‘ عراق‘ ویتنام کے ساتھ کئے‘ کتنے امریکی صدر ہیں جنہیں یہ سزا دی گئی یا فوج داری مقدمے چلائے گئے یا قید کی سزا سنائی گئی؟‘ اگر بہادری اور شجاعت کی نظر سے دیکھا جائے تو صدام حسین نہ تو وہ ملک چھوڑ کر بھاگا اور نہ ہی پھانسی کا پھندا گلے میں ڈالتے وقت اس کے قدم لڑکھڑائے‘ ہٹلر جس نے جرمنی کے عوام اور فوج کو متحرک کیا اور جس نے اپنی مایوس قوم کو پہلی جنگ عظیم میں ہونے والی بربادی کا بدلہ لینے کے لئے تیار کیا‘ اس نے دوسری جنگ عظیم میں شکست کو برداشت نہ کرتے ہوئے خود کشی کرلی تھی، صرف اس لئے کہ اسے یہ خوف تھا کہ جب دشمن اسے گرفتار کریں گے تو نہ جانے اس کے ساتھ کتنا اذیت ناک سلوک کیا جائے‘ اس کے علاوہ بھی ایسی کئی مثالیں ہیں‘ پوری دنیا نے یہ دیکھا کہ صدام حسین نے کمرہ عدالت میں بھی ڈٹ کر مقابلہ کیا اور پھر پھانسی کا پھندا گلے میں ڈالتے وقت بھی وہ پر اعتماد نظر آرہا تھا‘ اس کی آنکھوں کا اعتماد دنیا کے لوگوں نے دیکھا اور محسوس کیا کہ اسے سزا دینے والے خود بھی اسی سزا کے حقدار ہیں‘ لیکن ابھی تک دنیا میں شاید کوئی ایسی عدالت نہیں بنی جو ان لوگوں کویہ سزا سنائے‘ امریکا جس نے افغانستان کو کھنڈر بنادیا‘ جاپان کے شہروں پر ایٹم بم گراکر لاکھوں لوگوں کی جان لی‘ اب تک عراق کی تین لاکھ عوام کو بے گناہ قتل کرچکا ہے اس کو سزا کون دے گا؟ صدام حسین کو پھانسی دینے کو اپنی کامیابی تصور کرنا سراسر حماقت ہے‘ اس عمل سے پوری دنیا میں امریکا کے خلاف نفرت مزید بڑھے گی‘ اور یہ یقین مزید پختہ ہوجائے گا کہ امریکا اور اس کے حامیوں کی جنگ دراصل دہشت گردوں کے خلاف نہیں بلکہ مسلمان ممالک کے خلاف ہے‘ ان ممالک کے خلاف ہے جو آزادی کے ساتھ اس کے آگے جھکے بغیر اپنے بل بوتے پر ترقی کرنا چاہتے ہیں اور اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو اسے ایک نہ ایک دن زوال ہوتا ہی ہوتا ہے۔“
(روزنامہ ”جنگ“ کراچی ۱۲/ جنوری ۲۰۰۷ء)
صدام حسین کے خلاف عجلت میں سنائی گئی سزا‘ اس کے وکلا کا قتل‘ اسٹالن و نازی طرز کے شو ٹرائل اور کینگرو کورٹ کا سامنا‘ تادم آخر صدام کا امریکی افواج کے زیر حراست رہنا‘ اس کے وکلا کو اپیل کی مہلت نہ دینا اور خود براہ راست واشنگٹن سے بغداد میں فون پر فیصلہ سنانا اور صدام کی پھانسی کے مناظر کی فلم بندی اور دنیا بھر میں اس کو میڈیا پر دکھایا جانا وغیرہ‘ کیا اس کی غمازی نہیں کرتے کہ بُش اور امریکا دنیا کو بلکہ اپنے مخالفوں کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ وہ ایسی کارروائی کرنے کی بھی اہلیت رکھتے ہیں۔ چنانچہ معمولی سے غورو تأمل سے واضح ہوجاتا ہے کہ وائٹ ہاؤس‘ بش اور مغربی استعمار کے صدام حسین کو نشان عبرت بنانے کا صرف اور صرف یہ مقصد ہے کہ امریکی استعمار کی مخالفت کرنے والے اس سے سبق حاصل کریں کہ اگر مستقبل میں انہوں نے امریکا کی مرضی کے خلاف کسی اقدام کی جرأت کی تو ان کا انجام بھی اس سے مختلف نہیں ہوگا‘ گویا امریکا مخالفت جذبات رکھنے والے اپنے اس خون آشام انجام کے لئے تیار رہیں۔ صدام حسین ایک فرد تھا‘ جو دنیا سے گزر گیا‘ مگر اس کا کردار اور اس کے قاتلوں کا کردار بہرحال تاریخ کے صفحات پر دیر تک باقی رہے گا‘ البتہ اتنی بات طے شدہ ہے کہ صدام حسین کو پھانسی دینے والوں کا مقصد کسی عراقی شہری کا بدلہ لینا یا مسلمانوں کی حمایت کرنا نہیں ہے‘بلکہ اسے یہ سزا اس لئے دی گئی ہے کہ وہ فلسطین کی آزادی‘ بیت المقدس کی بازیابی اور امریکی نیو ورلڈ آرڈر کی مخالفت کرتا تھا‘ دوسرے لفظوں میں صدام حسین کو پھانسی پر لٹکاکر تمام مسلمانوں کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ جو مسلمان جہاں بھی امریکی بالادستی کے خلاف سر اٹھائے گا‘ یہ پھندا اس کے گلے میں ڈالا جائے گا۔ ………………………………
الغرض صدام حسین اپنے انجام کو پہنچ گیا‘ مگر سوال یہ ہے کہ جو لوگ امریکا‘ وائٹ ہاؤس اور مسٹر بُش کے ایما پر ایسے اقدامات اٹھارہے ہیں جن سے وہ اپنی قوم‘ برادری اور سماج سے کٹ کر اکیلے اور تنہا ہوتے جارہے ہیں‘ ان کے مستقبل اور ان کے انجام کا کیا ہوگا؟ خدانخواستہ کہیں ایسا تو نہیں کہ انہیں بھی لاشعوری طور پر صدام حسین کی طرح یکا و تنہا کیا جارہا ہو؟ اور خاکم بدھن جب وہ ہر طرف سے کٹ کراکیلے رہ جائیں اور مکمل طور پر امریکا پر انحصار کرنے لگیں تو ان کے پاؤں تلے سے بھی تختہ کھینچ لیا جائے؟ اور وہ بھی صدام حسین کی طرح اس بے بسی سے موت کو گلے لگائیں کہ ان کے حق میں بھری دنیا میں کوئی کلمہ خیر کہنے والا نہ ہو؟ فاعتبروا یا اولی الابصار!!! بالخصوص پاکستان کے اربابِ اقتدارکے لئے یہ بات کسی لمحہ فکریہ سے کم نہیں کہ ان بیچاروں نے امریکا کے مقابلہ میں اپنے تئیں افغانستان اور عراق کی مخالفت کی‘ دہشت گردی کے نام پر دہشت گردی کا ساتھ دیا‘ افغان قوم اور عراقی عوام پر امریکی بربریت کا ساتھ دیا‘ سفارتی اصولوں کو پامال کرتے ہوئے افغان سفیر کو امریکا کے حوالہ کیا‘ افغانستان کے خلاف امریکا کو اپنے ہوائی اڈے دیئے‘ اسے لاجسٹک سپورٹ مہیا کی‘ القاعدہ کے نام پر اپنے ہی شہریوں کو امریکا کے حوالہ کیا‘ جہاد کو دہشت گردی کا نام دیا‘ سرکاری اسکولوں کے نصاب سے جہاد کی آیات کا صفایا کیا‘ امریکی منشا پر وانا آپریشن کیا‘ دینی تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا اور باجوڑ مدرسہ پر بمباری کی‘ علماء کو مطعون کیا‘ حدود آرڈی نینس منسوخ کرکے اس کی جگہ فحاشی بل پاس کیا‘ زنا بالرضا کی حوصلہ افزائی کی‘ خالص بے شرمی پر مشتمل میراتھن ریس اور بسنت جیسی خالص ہندوانہ رسم کی ترویج ایسے ”مبارک“اقدامات اٹھاکر امریکی خوشنودی حاصل کرنے کی اپنی سی پوری کوشش کرلی‘ مگر افسوس! کہ امریکا اور اس کے فوجی جنرلوں کی نگاہ میں اس کی ذرہ بھر کوئی قدر و قیمت نہیں رہی‘ چنانچہ وہ ہمارے اربابِ اقتدار کی بغل میں بیٹھ کر ان تمام تر کوششوں اور ”مخلصانہ“ جذبات اور ”مساعی جمیلہ“ کی نفی کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ ”القاعدہ کا نیٹ ورک پاکستان میں ہے اور پاکستان القاعدہ کی محفوظ پناہ گاہ ہے“ سوال یہ ہے کہ امریکا بہادر اور اس کی فوج کے ذمہ داروں کی یہ طوطا چشمی کیا اس کی غمازی نہیں کرتی کہ امریکا‘ وائٹ ہاؤس اور مسٹر بُش اب اُن سے آنکھیں پھیر چکے ہیں اور اب وہ پاکستان کے اربابِ اقتدار کے ساتھ بھی وہی معاملہ کرنا چاہتے ہیں‘ جو انہوں نے عراقی صدر صدام حسین کے ساتھ کیا تھا؟ بہرحال اب بھی وقت ہے‘ مسلمان حکمراں عموماً اور پاکستان کے اربابِ اقتدار خصوصاً اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کرتے ہوئے اپنے آپ کو‘ اپنی قوم اور ملک کو امریکی انتقام کی آگ سے بچائیں۔ اور امریکی خوشنودی میں اتنا آگے نہ جائیں کہ انہیں واپس آنا مشکل ہوجائے اور ان کو بھی عراقی صدر صدام حسین کی طرح جب دنیا سے روانہ کیا جائے تو ان پر کوئی آنسو بہانے والا نہ ہو۔
واللہ یقول الحق وہویہدی السبیل
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیرخلقہ محمد وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین
اشاعت ۲۰۰۷ ماہنامہ بینات, محرم الحرام۱۴۲۸ھ فروری۲۰۰۷ء, جلد 70, شمارہ