قاعدہ(۵۹): {إنَّمَا تُعْتَبَرُ الْعَادَۃُ إذَا اطَّرَدَتْ أَوْ غَلَبَتْ}
ترجمہ: جب عادت عام ہو یا غالب ہو تو معتبر ہوتی ہے ۔
(الأشباہ والنظائر لإبن نجیم:ص۳۳۳، قواعد الفقہ:ص۶۳، القاعدۃ:۵۵، القواعد الکلیۃ:ص۲۶۶، القواعد الفقہیۃ:ص۱۵۶، درر الحکام :۱/۵۰، المادۃ:۴۱)
مثال: اگر کسی آدمی نے دراہم یا دنانیر کے عوض ایسے شہر میں بیع کی جہاں بہت سے ایسے دراہم و دنانیر رواج پذیر ہوں، جن کی مالیت مختلف ہو تو بیع،اس درہم یا دینار کی طرف منصرف ہوگی جو رواجاًغالب ہوگااور ثمن میں وہی درہم یا دینارلازم ہوگا۔
قاعدہ(۶۰): {إنَّمَا یُبْنَی الْحُکْمُ عَلَی الْمَقْصُوْدِ لا عَلٰی ظَاہِرِ اللَّفْظِ}
ترجمہ: حکم مبنی بر مقصود ہوتا ہے، نہ کہ مبنی بر ظاہرِ لفظ۔
(قواعد الفقہ:ص۶۳، القاعدۃ:۵۶، شرح القواعد الفقہیۃ:ص۲۳۳)
مثال: اگر مصلی کے بچہ کا نام یحيٰہو اور وہ نماز میں مشغول اپنے باپ سے پوچھے ’’ یا أبت أَ أٰخُذُ الْکِتَابَ ‘‘ (ابو جان !کیا میں کتاب لوں؟) باپ نے بقصدِ جواب قرآنِ کریم کی یہ آیت پڑھی: {یٰیحی خذ الکتاب بقوۃ} (اے یحيٰ! کتاب لو مضبوطی کے ساتھ) چوںکہ یہ قرأت بقصدِ جواب ہے، لہٰذا نماز جائز ہونے کی بجائے باطل ہوگی، کیوںکہ حکم مبنی بر مقصودہوتا ہے، نہ کہ مبنی بر ظاہرِ لفظ۔
(الأشباہ :ص۱۱۵)
قاعدہ(۶۱): {اَلْإِیْثَارُ فِيْ الْقُرَبِ مَکْرُوْہٌ وَفِيْ غَیْرِہَا مَحْبُوْبٌ}
ترجمہ: عبادتوں میں ایثارمکروہ ہے اور ان کے علاوہ میںمحبوب۔
(الأشباہ للسیوطي :۱/۲۶۱، قواعد الفقہ:ص۶۴، القاعدۃ:۵۸)
مثال: وضو کے پانی میں ایثار، سترِ عورت کے لئے کپڑے میں ایثار اور صفِ اول میں نماز کے لئے ایثار مکروہ ہے ، لیکن اگر اپنے سے بڑی عمر والے یا کسی اہلِ علم کی تعظیم کے لیے اس طرح کا ایثار ہو تو بلا کراہت جائز ہے۔ (شامي:۲/۳۱۰)