باب الربوا
(سود کا بیان)
ہندوستانی مسلمانوں کا سود لینا
مسئلہ(۲۹۳): ہندوستان دارالامن والجمہوریہ ہے، اس لیے متفق علیہ طور پر مسلمانوں کے لئے یہاں سودلینا جائز نہیں ۔(۱)
پیکنگ کریڈٹ کارڈ کے نام پر سودی قرض لینا
مسئلہ(۲۹۴): پیکنگ کریڈٹ کارڈ (Packing Credit card) کے نام پر، تاجر کا بینک سے سودی قرض حاصل کرنا شرعی طور پر ناجائز اور حرام ہوگا ۔(۲)
------------------------------
الحجۃ علی ما قلنا:
(۱) ما في ’’الکتاب‘‘: قال تعالی:{وأحل اللہ البیع وحرم الربوا}۔(البقرۃ:۲۷۵)
ما في ’’مشکوٰۃ المصابیح‘‘: عن عبد اللہ بن حنظلۃ غسیل الملائکۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : ’’ درہم ربوا یأکلہ الرجل وہو یعلم أشد من ستۃ وثلثین زینۃً ‘‘۔
عن أبي ہریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:’’ الربوا سبعون جزء اً أیسرہا أن ینکح الرجل أمہ‘‘۔ (ص۲۴۵،۲۴۶،کتاب البیوع، الفصل الثالث)
ما في ’’رد المحتار علی الدر المختار‘‘: لو أجریت أحکام المسلمین، وأحکام أہل الشرک لا تکون دار الحرب۔ (۶/۲۸۸، باب المستأمن، ایضاح النوادر:۱۰۳)
الحجۃ علی ما قلنا:
(۲) ما فی ’’ الکتاب ‘‘ : قال اللہ تعالی : {یآیہا الذین اٰمنوا لا تأکلوا الربوا أضعافاًً مضاعفۃ} ۔ [آل عمران : ۱۳۰] وقال أیضاً : {أحل اللہ البیع وحرم الربوٰا} ۔
(سورۃ البقرۃ : ۲۷۵)=