الکحل ملے ہوئے سینٹ کا استعمال
مسئلہ(۴۳۹): آج کل سینٹ (پرفیومس )اور عطر وغیرہ میں جو’’ الکحل‘‘ ملایا جاتا ہے،اگر وہ انگور یا کھجور کی شراب سے بنا ہوا ہو تو وہ ناپاک ہے ،ا س کا استعمال نا جائز ہے ،اور اگر وہ اِن دونوں شرابوں کے علاوہ کسی اور پاک چیز کی شراب سے ، مثلاً: مکئی ،جوار ،بیر، آلو،چاول یا پیٹرول وغیرہ سے بناہوا ہو تو اس کے کپڑوں پر لگانے سے کپڑا ناپاک نہیں ہوگا ،اس کا استعمال جائز ہے ،اگر کسی نے ایسا پرفیوم (Perfume)کپڑے پر لگا کر نماز پڑھ لی تو اس کی نماز صحیح ہوگی ،لوٹانے کی ضرورت نہیں۔
نوٹ: البتہ صاحبِ ’’احسن الفتاویٰ ‘‘(حضرت مولانامفتی رشیداحمدصاحبؒ) فرماتے ہیں،کہ تحقیق سے یہ معلوم ہوا کہ آ ج کل’’ اسپرٹ‘‘ اور’’ الکحل‘‘ کیلئے انگور اور کھجور استعمال نہیں کی جاتی، لہٰذاشیخین رحمہمااللہ کے قول کے مطابق پاک ہے ، حضراتِ فقہاء رحمہم اللہ تعالیٰ نے اگرچہ فسادِ زمان کی حکمت کی بناء پرامام محمد ؒ کے قول کو مفتیٰ بہ قرار دیا ہے ،مگر آج کل ضرورت ِ تداوی وعمومِ بلویٰ کی رعایت کے پیشِ نظر شیخین رحمہما اللہ کے قول پرفتویٰ دیاجاتاہے ، ویسے بھی اصولِ فتویٰ کے لحاظ سے قولِ شیخین رحمہما اللہ کو ترجیح ہوتی ہے، إلالعارض۔(۱)
------------------------------
الحجۃ علی ما قلنا :
(۱) ما في ’’ تکملۃ فتح الملہم ‘‘ : ’’حکم الکحول المسکرۃ(Alcohals) فإنہا إن اتخذت من العنب أو التمر فلا سبیل إلی حلتہا أو طہارتہا، وإن اتخذت من غیرہا فالأمر فیہا سہل علی مذہب أبي حنیفۃؒ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وإن معظم الکحول التي تستعمل =